ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیرکی مشہور شہدکی صنعت زوال پذیر، سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار

وادی کشمیر کی مشہور شہد کی صنعت مختلف بیماریوں کی ذد میں آنے کے بعد صف ہستی سے مکمل طور زوال پذیر ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں اس اہم صنعت سے وابستہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روز گار ہوئے ہیں۔

  • Share this:
وادی کشمیرکی مشہور شہدکی صنعت زوال پذیر، سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار
وادی کشمیرکی مشہور شہدکی صنعت زوال پذیر، سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار

سری نگر: وادی کشمیر کی مشہور شہد کی صنعت مختلف بیماریوں کی ذد میں آنے کے بعد مکمل طور زوال پذیر ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں اس اہم صنعت سے وابستہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روز گار ہوئے ہیں۔ اس دوران متعلقہ محکمہ اس صنعت کو بچانے میں مکمل طور پر ناکام ہوا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی موثر اقدام اٹھایا ہے۔ کشمیر وادی کا شہد ملکی سطح پر ایک اہم شہد کے مانا جاتا ہے، جہاں صرف وادی کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ کے ترال، اونتی پورہ اور پانپور میں اس صنعت سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ وابستہ تھے۔ مذکورہ صنعت سے وابستہ لوگوں کے مطابق یہ اہم صنعت 30 سال قبل ایک بیماری کی لپیٹ میں آئی، جس کے نتیجے میں چند سال کے اندر یہ صنعت مکمل طور ختم ہونے ہونے لگی ہے جبکہ اس صنعت سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد بے روز گار ہوئی ہے،جو اس وقت دانے دانے کے محتاج ہو رہے ہیں۔


غلام قادر نامی ایک کسان نے بتایا ترال میں ایک زمانے میں 250 سے زیادہ افراد اس صنعت سے وابستہ تھے لیکن بیماری کے بعد اب 5 سے 7 کسان اسے صنعت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ صنعت سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکار اور محکمے نے بھر وقت کارروائی کی ہوتی یا موثر اقدام اٹھائے ہوتے تو غالباً یہ صورتحال آج نہیں ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی میں پہلے پہل زیادہ تر لوگ اس صنعت سے وابستہ تھے، لیکن کچھ بیماریوں اورمارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اب لوگ اس صنعت سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔


وادی کشمیر کی مشہور شہد کی صنعت مختلف بیماریوں کی ذد میں آنے کے بعد مکمل طور زوال پذیر ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں اس اہم صنعت سے وابستہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روز گار ہوئے ہیں۔
وادی کشمیر کی مشہور شہد کی صنعت مختلف بیماریوں کی ذد میں آنے کے بعد مکمل طور زوال پذیر ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں اس اہم صنعت سے وابستہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روز گار ہوئے ہیں۔


کچھ بی کپروں نے کہا کہ اس سال بھی کسی بیماری کی وجہ سے ان کو نقصان پہنچا ہے، لیکن محکمہ ایگریکلچر کی جانب سے انہیں کوئی دوائی فراہم نہیں کی گئی، ان کا کہنا تھا اگر ایسا صورت حال رہا تو وہ بھی اس صنعت سے دور ہو جائیں گے۔ تاہم اس سب کے باجوود محکمہ کے کانوں پر جوں تک نہیں ریینگی ہے اور نتیجہ آج سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے بتایا محکمہ اب اس صنعت کو بچانے کے دعوے کر رہا ہے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ صنعت کشمیر میں دم توڑ بیٹھی ہے جبکہ کچھ کسان قرضوں تلے دب چکے ہیں۔“ ادھر چیف ایگریکلچر افسر پلوامہ محمد قاسم کا کہنا ہے کہ محکمہ اس صعنت کو بڑھاوا دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔“
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 12, 2020 11:25 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading