ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیری نوجوان کا قرض ادا کرنے کے لئے اخبار میں ' گردہ برائے فروخت' کا اشتہار

کشمیر سے شائع ہو نے والے ایک انگریزی اخبار میں ' گردہ برائے فروخت' کا یہ اشتہار اردو زبان میں دیا گیا ہے۔ کار ڈیلر کی شناخت سبزار احمد خان کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ ضلع کلگام کے قاضی گنڈ کے نسو گاؤں کا رہائشی ہے۔

  • Share this:
کشمیری نوجوان کا قرض ادا کرنے کے لئے اخبار میں ' گردہ برائے فروخت' کا اشتہار
فوٹو: رائٹرز

سری نگر۔ جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ سے تعلق رکھنے والے ایک 28 سالہ کار ڈیلر نے ایک اخبار میں ایک اشتہار دیا ہے کہ وہ تقریبا 91 لاکھ روپے کا قرض چکانے کے لئے اپنا ایک گردہ فروخت کر رہا ہے۔


کشمیر سے شائع ہو نے والے ایک انگریزی اخبار میں ' گردہ برائے فروخت' کا یہ اشتہار اردو زبان میں دیا گیا ہے۔ کار ڈیلر کی شناخت سبزار احمد خان کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ ضلع کلگام کے قاضی گنڈ کے نسو گاؤں کا رہائشی ہے۔


"میں اپنا گردہ بیچنا چاہتا ہوں کیونکہ میں نے کاروبار میں سب کچھ کھو دیا ہے۔ میں ابھی بھی 90 لاکھ روپے کا مقروض ہوں جو مجھے دینے ہیں''۔ یہ جانتے ہوئے کہ گردہ فروخت کرنا غیر قانونی ہے، خان نے اشتہار میں مزید کہا کہ'' میں کسی بھی ایسے شخص سے جسے گردے کی ضرورت ہے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے رابطہ کرے''۔


نوجوان سبزار احمد خان ایک کار ڈیلر ہیں اور حکومت سے اندراج شدہ ایک ٹھیکیدار ہیں۔ اگست 2019 کے بعد سے لگاتار دو لاک ڈاؤن سے ان کے کاروبار کے ساتھ ساتھ بچت کو بھی کافی دھچکا لگا ہے۔ پہلا لاک ڈاؤن 2019 میں اس وقت وادی میں نافذ کیا گیا تھا جب مرکز نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔ مہینوں تک یہ لاک ڈاؤن جاری رہا ، پھر اس سال مارچ میں کورونا وبا کی وجہ سے ملک بھر میں ایک اور لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

کشمیر میں دو لاک ڈاؤن کے نفاذ سے مقامی کاروبار زبردست متاثر ہوا ہے۔ خان کی گزشتہ سال شادی ہوئی تھی اور اب وہ قرض ادا کرنے کے لئے اپنا گردہ بیچنے پر مجبور ہیں۔

خان نے اشتہار میں کہا ہے "میں نے سب کچھ کھو دیا ہے اور میرے پاس قرض ادا کرنے کے لئے کوئی رقم نہیں بچی ہے۔ میں گردے کی ضرورت والے کسی بھی شخص سے مجھ سے رابطہ کرنے کی درخواست کرتا ہوں''۔

خان 6 ارکان پر مشتمل اپنے کنبے کے لئے روزی روٹی کمانے والے واحد شخص ہیں۔ ان کے کنبے میں ان کے والدین ، بیوی ، ایک بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''میں 91 لاکھ روپے کا مقروض ہوں۔ مجھ پر بینک کے 61 لاکھ روپے اور لوگوں (قرض دہندگان) کے 30 لاکھ روپے قرض ہیں''۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 18, 2020 11:27 AM IST