ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیری مایئگرنٹ پنڈتوں نے اپنے آبائی وطن سے دور منائی شیو راتری، وادی واپسی کے لئےسرکاری سطح پر اقدامات اٹھانے پر دیا زور

کشمیری پنڈت مائیگرنٹوں نے بُدھ کو شیو راتری (ہیرتھ) کا تیوہار مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا۔ اس سلسلے میں روایتی طرز پر ہرگھر میں شام کو وٹک ناتھ کی خصوصی پوجا کی گئی۔

  • Share this:
کشمیری مایئگرنٹ پنڈتوں نے اپنے آبائی وطن سے دور منائی شیو راتری، وادی واپسی کے لئےسرکاری سطح پر اقدامات اٹھانے پر دیا زور
کشمیری مایئگرنٹ پنڈتوں نے اپنے آبائی وطن سے دور منائی شیو راتری

جموں: کشمیری پنڈت مائیگرنٹوں نے بُدھ کو شیو راتری (ہیرتھ) کا تیوہار مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا۔ اس سلسلے میں روایتی طرز پر ہرگھر میں شام کو وٹک ناتھ کی خصوصی پوجا کی گئی۔ اس تیوہار کے موقع پرکشمیری پنڈتوں نے جموں وکشمیر میں خاص طور پر وادی کے حالات میں بہتری اور مکمل قیام امن وامان کے لئےخاص پرارتھنا (دعا) کی گئی تاکہ وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے وادی سے باہر شیو راتری منانے والے مائیگرنٹ پنڈت مانتے ہیں کہ وادی سے باہر ان کا سب سے بڑا تیوہار منانے کے دوران وہ کئی چیزوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے مادر وطن سے دور یہ تیوہار منانا ہر سال انہیں اپنے آبائی وطن کی یاد دلاتا ہے اور وہ خوشی کے موقع پر رنجیدہ بھی ہوجاتے ہیں۔


یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے چیئرمین آرکے بٹ کا کہنا ہے کہ عام کشمیری پنڈت اب بھی ان دنوں کو یاد کرتے ہیں، جب وہ وادی میں اکثریتی فرقے سے تعلق رکھنے والے بھائیوں کے ساتھ مل کر یہ تیوہار منایا کرتے تھے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے آرکے بٹ نے کہا کہ پنڈت شیو راتری کے موقع پر ان ندی نالوں کو بھی یاد کرتے ہیں، جہاں سے وہ شیو راتری کی شام کو وتُکھ میں پانی بھرتے تھے اور اسے مذہبی رسم و رواج کے ساتھ اپنے گھروں میں سیراج مان کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ندی نالوں کی غیر موجودگی میں اب کشمیری پنڈتوں کو نلوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔


 یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے چیئرمین آرکے بٹ کا کہنا ہے کہ عام کشمیری پنڈت اب بھی ان دنوں کو یاد کرتے ہیں، جب وہ وادی میں اکثریتی فرقے سے تعلق رکھنے والے بھائیوں کے ساتھ مل کر یہ تیوہار منایا کرتے تھے۔

یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے چیئرمین آرکے بٹ کا کہنا ہے کہ عام کشمیری پنڈت اب بھی ان دنوں کو یاد کرتے ہیں، جب وہ وادی میں اکثریتی فرقے سے تعلق رکھنے والے بھائیوں کے ساتھ مل کر یہ تیوہار منایا کرتے تھے۔


پنُن کشمیر کے چیئرمین ڈاکٹر اجے چرنگو کا کہنا ہے کہ 1990 میں دہشت گردوں نے کشمیری پنڈتوں کی نسل کُشی کی اور ہمیں اپنے مادر وطن سے باہر دھکیل دیا گیا، جس کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ اس کے باوجود بھی کشمیری پنڈت آج بھی اپنے ہی بل بوتے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ کشمیر مائیگرنٹ لیڈران وطن واپسی کے حق میں ہیں، تاہم وادی واپسی سے متعلق ان کی آرا مختلف ہیں۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے چیئرمین آرکے بٹ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سرکار کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لئے ایک واضح پالیسی اختیار کرے۔ بٹ کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر سے باہر عارضی طور پر مقیم کشمیری پنڈتوں اور وادی میں رہ رہے کشمیری مسلمانوں کے بیچ ایک رابطہ بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھول کر آگے بڑھنے کی سمت میں قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیر پنڈت مائیگریشن سے پہلے کی طرح ہی وادی میں پُر امن طور پر اپنی زندگی گزار سکیں۔

وہیں پنُن کشمیرکےچیئرمین ڈاکٹر اجے چرنگو کا کہنا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی کے لئے وادی کے اندر پنُن کشمیر قائم کرنا ہی ایک واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی سیاسی جماعتیں Co-existence میں یقین نہیں رکھتی ہیں اور وہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی ہیں۔ چرنگو نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹ جانے کے بعد جموں کشمیر کی دوبارہ تنظیم نو میں اب کوئی آئینی رکاوٹ نہیں رہی ہے، اس لئے سرکار کو چاہئے کہ وہ ایک بار پھر یوٹی کی تنظیم نو کرے اور وادی کے اندر کشمیری پنڈتوں کے لئے ایک مخصوص علاقے کی نشاندہی کرکے پنن کشمیر کا قیام عمل میں لائے ت اکہ پنڈتوں کو دوبارہ وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 11, 2021 11:07 AM IST