உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: سالانہ ماتا کھیر بھوانی میلے میں شرکت کیلئے کافی کم تعداد میں جارہے ہیں کشمیری پنڈت، جانئے کیوں

    J&K News: سالانہ ماتا کھیر بھوانی میلے میں شرکت کیلئے کافی کم تعداد میں جارہے ہیں کشمیری پنڈت، جانئے کیوں

    J&K News: سالانہ ماتا کھیر بھوانی میلے میں شرکت کیلئے کافی کم تعداد میں جارہے ہیں کشمیری پنڈت، جانئے کیوں

    Jammu and Kashmir : ماضی میں ہزاروں کی تعداد میں جموں اور ملک کے دیگر حصوں سے کشمیری پنڈت عقیدت مند اشاڑھ اشٹھمی کے موقع پر وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع کے تُلہ مُلہ میں واقع ماتا کھیر بھوانی کے استھاپن پر حاضری دینے کے لئے دو دن قبل ہی وہاں کا رُخ کرتے تھے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : وادی کشمیر میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر رواں برس کافی یم تعداد میں کشمیری پنڈت سالانہ ماتا کھیر بھوانی میلے میں شرکت کے لئے جارہے ہیں۔ ماضی میں ہزاروں کی تعداد میں جموں اور ملک کے دیگر حصوں سے کشمیری پنڈت  عقیدت مند اشاڑھ اشٹھمی کے موقع پر وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع کے تُلہ مُلہ میں واقع ماتا کھیر بھوانی کے استھاپن  پر حاضری دینے کے لئے دو دن قبل ہی وہاں کا رُخ کرتے تھے۔ اگرچہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کووڈ وبا کی وجہ سے میلے میں یاتریوں کی شرکت پر پابندی عائید تھی، تاہم اس برس یہ امید تھی کہ ماضی ہی کی طرح ہزاروں عقیدت مند ماتا راگنیا کے استھاپن پر اس روز حاضری دیں گے۔ تاہم گزشتہ چند عرصے سے وادی کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگس کے واقعات بالخصوص اقلیتی فرقے کے افراد کو دہشت گردوں کی طرف سے قتل کئے جانے کی وجہ سے یاتریوں کے جوش و خروش میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔

    انتظامیہ کی طرف سے جموں میں رہائش پذیر کشمیری پنڈت مہاجرین کے لئے ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیتیں دستیاب رکھے جانے کے باوجود یاتریوں نے تُلہ مُلہ جانے سے گُریز کیا۔ ڈویژنل انتظامیہ جموں کی جانب سے عقیدت مندوں کے لئے 39 بسیں مہیا کرائی گئی تھیں تاہم ان میں سے صرف دس بسیں ہی کشمیر کی طرف روانہ ہوئیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ ساڑے تین سو افراد  نے ہی کھیر بھوانی کی یاترا کے لئے دلچسپی دکھائی۔

     

    یہ بھی پڑھئے : فاروق عبداللہ نے کشمیری پنڈت ملازمین کی وادی سے ہجرت پر دیا بڑا بیان، کہی یہ بات


    ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار کے مطابق یاتریوں کے لئے ٹرانسپورٹ اور حفاظت کے تمام انتظامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یاترا کے لئے تمام انتظامات کئے ہیں اور سب لوگوں سے کہا گیا تھا کہ جو بھی یاترا پر جانا چاہتا ہے، انہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ حفاظت کے پُختہ انتظامات کئے گئے ہیں ۔ میں یاتریوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ بلا کسی خوف کے یاترا پر چلے جائیں ۔

    وہیں جگتی مائیگرنٹ کیمپ سے یاترا کے لئے روانہ ہونے والے ایک یاتری نے کہا کہ وہ متواتر کھیر بھوانی کے میلے میں شرکت کرتے آئے ہیں اور دو سال کے وقفے کے بعد آج ایک بار پھر کشمیر روانہ ہورہے ہیں۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہون نے کہا کہ ہم پہلے بھی ماتا کے دربار میں جیژٹ اشتھمی کے موقع پر حاضری دینے جاتے رہے ہیں ۔ اگرچہ کووڈ کی وجہ سے گزشتہ دو برسوں میں ہم کھیر بھوانی نہیں جا پائے تاہم ماتا نے ہمیں اس سال بلایا ہے اور ہم درشن کے لئے جارہے ہیں اور ہم وہاں جموں و کشمیر اور عالمی امن کے لئے دعا کریں گے ۔

    ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار کے مطابق یاتریوں کے لئے ٹرانسپورٹ اور حفاظت کے تمام انتظامات کئے گئے ہیں۔
    ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار کے مطابق یاتریوں کے لئے ٹرانسپورٹ اور حفاظت کے تمام انتظامات کئے گئے ہیں۔


    وکی رینہ نامی ایک اور یاتری نے کہا کہ وہ کھیر بھوانی کے درشن کرنے کے لئے بے تاب ہیں ۔ نیوز 18 اردو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا : میں آج بہت خوش ہوں کہ ماتا نے مُجھے اپنے دربار میں بُلایا ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم حفاظت سے وہاں پہنچیں اور ماتا کے درشن کریں : راکیش کول نامی ایک کشمیری پنڈر مہاجر نے کہا کہ انہوں نے اس سال کھیر بھوانی میلے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سال کھیر بھوانی نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے ، کیونکہ  کشمیر میں رہائش پذیر ہماری برداری کے لوگوں پر دہشت گردانہ حملے کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے وہ خوف و دہشت کے ماحول میں رہ رہے ہیں۔ اگر ہم ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج نہ کریں تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ماتا کھیر بھوانی کے تئیں  ہماری پوری عقیدت ہے اور ہم جموں میں قائم کھیر بھوانی کے استھاپنوں پر پوجا پاٹھ میں حصہ لیں گے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : کشمیری پنڈتوں نے جموں میں وادی میں ہورہی ٹارگیٹ کلنگس کے خلاف کیا احتجاج


    جگتی جموں کے کھیر بھوانی استھاپن کمیٹی کے صدر کاکاجی بھان کا کہنا ہے کہ  کشمیری پنڈتوں نے وادی میں ہورہی اقلیتی فرقے کے لوگوں کی ہلاکتوں کے احتجاج میں اس سال تُلہ مُلہ گاندربل نہ جانے کا  فیصلہ کیا ہے۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ  چند ماہ سے کشمیری پنڈتوں اور دیگر اقلیتوں کو دہشت گرد اپنا نشانہ بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں رہ رہے کشمیر پنڈت خوفزدہ ہوچکے ہیں ۔ سرکار نے ابھی تک ان کی حفاظت کے لئے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ لہذا ہم اپنا احتجاج درج کرکے سرکار کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کشمیر میں اقلیتی فرقے سے وابستہ لوگوں کی حفاظت کے لئے فورا اقدامات کرے ۔

    اگرچہ تُلہ مُلہ گاندربل اور ٹکر کپواڑہ میں جیشتھ اشٹھمی کے موقع پر سالانہ تقریبات منعقد کی جارہی ہیں تاہم جنوبی کشمیر کے کھنہ برنین دیو سر ، منزمو اور لوکٹی پورہ پہلگام میں اس برس یہ تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: