உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : وادی میں اقلیتی فرقہ کے لوگوں کی تازہ ہلاکتوں نے پھر پیدا کیا تشویش کا ماحول

    جموں و کشمیر : وادی میں اقلیتی فرقہ کے لوگوں کی تازہ ہلاکتوں نے پھر پیدا کا تشویش کا ماحول

    جموں و کشمیر : وادی میں اقلیتی فرقہ کے لوگوں کی تازہ ہلاکتوں نے پھر پیدا کا تشویش کا ماحول

    Jammu and Kashmir News : جموں سے مائیگرنٹوں کا وادی واپس جانا تو دور اب وہاں نوکریوں کے سلسلے میں گئے کشمیری پنڈت پھر ایک مرتبہ وادی سے نکلنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران بہت سارے ایسے ملازمین راتوں رات کشمیر سے نکل کر دوبارہ جموں پہنچ گئے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

    • Share this:
    جموں : گزشتہ دنوں وادی کشمیر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہوئی اقلیتی فرقے کے لوگوں کی ہلاکتوں نے لوگوں میں کافی تشویش پیدا کردیا ہے۔ ان ہلاکتوں کی وجہ سے کشمیری مائیگرنٹوں کی وادی واپسی کی امیدوں پر بھی پانی پھیر گیا ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ وہ ماضی قریب میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ پائیں گے۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال کافی تعداد میں کشمیری مائیگرنٹوں کا وادی آنا جانا دیکھنے کو ملا ۔ بھاری تعداد میں اس برس کشمیری مائیگرنٹوں نے وادی کا رُخ کرکے اپنے مندروں اور استھاپنوں پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ سیر و تفریح بھی کی ۔ جو استھاپن اور مندر گزشتہ تیس برسے سے بند پڑے تھے ان میں اس سال مذہبی تقریبات منعقد کی گئیں اور اس کام کو ممکن بنانے کے لئے مسلمان برادری کے لوگوں نے اپنے پنڈت بھائیوں کو ہر ممکن تعاو ن فراہم کیا ۔ اس طرح کے حالات دیکھ کر کشمیری مائیگرنٹوں کو اب واپس اپنے گھروں لوٹنے کی امید جاگ گئی تھی اور انہیں لگتا تھا کہ ماضی قریب میں وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ کر پھر ایک بار اپنے  مسلمان بھائیوں کے ساتھ رہ کر زندگی گزاریں گے ، لیکن گزشتہ دنوں دہشت گردوں کے ہاتھوں کشمیر میں ہوئی اقلیتی فرقوں کے تین افراد کی ہلاکت کے بعد پوری مائیگرنٹ برادری میں پھر ایک بار مایوسی چھا گئی ہے۔

    جموں سے مائیگرنٹوں کا وادی واپس جانا تو دور اب وہاں نوکریوں کے سلسلے میں گئے کشمیری پنڈت پھر ایک مرتبہ وادی سے نکلنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران بہت سارے ایسے ملازمین راتوں رات کشمیر سے نکل کر دوبارہ جموں پہنچ گئے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔  ایسے حالات میں مائیگرنٹ مرکزی سرکار سے سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ اس کی طرف سے حال ہی میں سُپریم کورٹ میں دائر کئے گئے حلف نامے میں یہ بتانا کہ کئی کنبے اسی سال وادی واپس جائیں گے  تو یہ کیسے ممکن ہے۔ دیگر لاکھوں مائیگرنٹوں کی طرح ہی جگتی نگروٹی کی مائیگرنٹ کالونی میں قیام پذیر ہندواڑہ کپواڑہ کے تریلوکی ناتھ بٹ گزشتہ تیس برس سے واپس اپنے گھر کو لوٹنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں ۔

    اگرچہ ابھی تک تریلوکی ناتھ بٹ کا یہ خواب پورا نہیں ہوسکا ہے ۔ تاہم ان کو یہ امید تھی کہ ماضی قریب میں اگر وہ نہیں تو ان کے بچے پھر اپنی سرزمین کو لوٹ پائیں گے۔ ایسا اسلئے انہیں محسوس ہورہا تھا کیونکہ وادی کے حالات میں بہتری دیکھنے کو مل رہی تھی ۔ لیکن گزشتہ دنوں کے حالات نے تریلوکی ناتھ اور اس جیسے لاکھوں پنڈتوں کو مایوس کردیا ہے۔ تریلوکی ناتھ کا کہنا ہے کہ تیس سال گھر سے دور رہ کر انہوں نے کئی مُصیبتیں جھیلیں اور انہیں اب یہ امید تھی کہ وقت آگیا ہے جب وہ دوبارہ اپنے گھر لوٹ پائیں گے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ پھر اسی طرح زندگی بسر کریں گے ، جیسے پہلے کرتے تھے ، لیکن گزشتہ دنوں کے حالات نے انہیں کافی مایوس کیا ہے ۔

    بنٹی دھر، پیارے لعل پنڈتا اور سُنیل پنڈتا نامی مائیگرنٹوں نے بھی گزشتہ دنوں کے وادی کے حالات پر تشویش کا اظہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں کشمیری مائیگرنٹوں کا وادی واپسی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ۔ ان کا سرکار سے مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ کشمیری مائیگرنٹوں کا وادی واپسی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ جب جب بھی کشمیری مائیگرنٹوں کی وادی واپسی کی باتیں ہوتی ہیں تب تب کشمیر دشمن عناصر ایسا کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جس سے مائیگرنٹوں کی وادی واپسی میں رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں ۔

    ایسے میں کشمیر کے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر کی چالوں کو ناکام کرنے کے لئے سامنے آئیں اور ان پر یہ باور کریں کہ کشمیر کے لوگوں کی مذہبی بھائی چارے کی صدیوں پرانی روایت کو ہرگز متاثر ہونے نہیں دیا جائے گا اور ایک بار پھر کشمیری ہندو، مسلمان اور سکھ ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر اس وادی کو پھر جنت بنانے کیلئے کام کریں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: