உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     وادی میں کچھ عناصر اب بھی موجود، جو نہیں چاہتے کشمیری پنڈتوں کی واپسی، Kashmiri Migrants ایسے حملوں نہیں ڈرنے والے

     انہوں نے کہا، جب بھی کشمیری پنڈت مہاجرین کی وطن واپسی کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو اسی وقت کشمیر میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وادی میں کچھ عناصر اب بھی موجود ہیں جو کشمیری پنڈتوں کی واپسی نہیں چاہتے تاہم کشمیری پنڈت ایسے حملوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔

    انہوں نے کہا، جب بھی کشمیری پنڈت مہاجرین کی وطن واپسی کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو اسی وقت کشمیر میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وادی میں کچھ عناصر اب بھی موجود ہیں جو کشمیری پنڈتوں کی واپسی نہیں چاہتے تاہم کشمیری پنڈت ایسے حملوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔

    انہوں نے کہا، جب بھی کشمیری پنڈت مہاجرین کی وطن واپسی کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو اسی وقت کشمیر میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وادی میں کچھ عناصر اب بھی موجود ہیں جو کشمیری پنڈتوں کی واپسی نہیں چاہتے تاہم کشمیری پنڈت ایسے حملوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: کشمیر میں ملیٹنٹوں کی جانب سے حال ہی میں عام شہریوں پر حملے کرنے کے خلاف سماجی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ جنوبی کشمیر میں گزشتہ چند روز کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے خلاف جموں میں آج دوسرے روز بھی مظاہرے جاری رہے۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے بینر تلے آج جموں میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خاصی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ان حملوں کے ذمہ دار دہشت گردوں کی نشاندہی کرکے انہیں قرار واقع سزا دینے کی مانگ کی ۔ اس موقع پر تنظیم کے صدر آر کے بٹ نے کہا کہ پاکستان اور اس کی خُفیہ ایجنسی آئی ایس آئی وادی میں سرگرم ملی ٹنٹوں کو عام شہریوں بالخصوص غیر ریاستی باشندوں اور کشمیری پنڈتوں پر حملہ کرنے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں تاکہ کشمیری مہاجرین کی وطن واپسی ممکن نہ ہو۔ انہوں نے کہا، جب بھی کشمیری پنڈت مہاجرین کی وطن واپسی کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو اسی وقت کشمیر میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وادی میں کچھ عناصر اب بھی موجود ہیں جو کشمیری پنڈتوں کی واپسی نہیں چاہتے تاہم کشمیری پنڈت ایسے حملوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔

    کشمیر کے ساتھ ہماری تواریخ جُڑی ہوئی ہے ہم حکومت ہند سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیری مہاجرین کے ساتھ صلاح و مشورہ کرکے کشمیری پنڈتوں کی وادی میں مکمل باز آبادکاری سے متعلق ایک مربوط پیکیج کا اعلان کرے تاکہ تمام کشمیری پنڈت مہاجرین وادی واپس لوٹ سکیں اور وہاں ایک ایسا ماحول قائیم کیا جائے تاکہ ہمیں دوبارہ ہجرت کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ملی ٹنٹوں کے خلاف گزشتہ چھ برسوں سے کامیاب آپریشن جاری ہیں اور ایسی امید کی جارہی ہے کہ وادی میں ملٹینسی کا جلد خاتمہ ہوگا تاہم اس کے لئے وہاں کی سیاسی جماعتوں اور سیول سوسائیٹی کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی کے لئے بھی سیول سوسائیٹی کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا تاکہ کشمیری پنڈت مہاجرین اور اقلیتی فرقے سے وابستہ دیگر لوگ اپنے وطن لوٹ سکیں اور کشمیر میں ایک بار پھر ہندو ، مسلم ، سکھ اتحاد قائیم ہوسکے۔

    یہ بھی پڑھیں: حجاب کے بہانے القاعدہ سرغنہ ایمن الظواہری نے اگلا زہر، 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگانے والی مسکان خان کو بتایا بہن، ویڈیو جاری کرکے پڑھی کویتا

    آر کے بٹ نے کہا کہ حالیہ دنوں پیش آئے واقعات سے کشمیری پنڈت مہاجرین وادی میں وزیر اعظم روزگار پیکیج کے تحت سرکاری نوکریاں انجام دینے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سلامتی سے متعلق بے حد فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم روزگار پیکیج کے تحت وادی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کے بارے میں ہم کافی فکر مند ہیں جو بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود وہاں اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ سرکار نے دو ہزار دس سے لے کر اب تک اس پیکیج کے تحت کام کرنے والے ملازمین کو رہائیشی سہولیتیں بھی فراہم نہیں کی ہیں ۔ چھ ہزار ملازمین میں سے کچھ ہی ملازمین کو محفوظ کالونیوں میں سرکاری رہائیش فراہم کی گئی ہے جبکہ زیادہ تر ملازمین عام بستیوں میں کرائیے کے مکانوں میں رہائیش پزیر ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ ہم سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ باقی ماندہ ملازمین کو محفوظ کالونیوں میں سرکاری رہائش فراہم کرنے کے لئے جلد اقدامات اُٹھائے: ایک اور احتجاجی بینرجی پنڈتا نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں عام شہریوں پر حملے ہونے کے باعث کشمیر میں کام کر رہے وزیر اعظم کے ملازمین خوف زدہ ہوچکے ہیں لہذا سرکار کو چاہیے کہ وہ انکی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرے۔

    اسی دوران مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے آج راجیہ سبھا کو بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کشمیر وادی میں اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے چونتیس افراد کو دہشت گردوں نے ہلاکد کیا ہے ان میں سے 2017 میں گیارہ،2018 میں تین،2019 میں چھ، 2020 میں تین اور 2021 میں گیارہ افراد کو دہشت گردوں نے ہلاک کردیا ہے۔

    سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری، مودی حکومت دے گی ایک اور تحفہ، DA کے بعد اب تنخواہ میں بھی ہوسکتا ہے اضافہ
    Published by:Sana Naeem
    First published: