ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : وزیر اعظم روزگار پیکج کے تحت منتخب مائیگرینٹ نوجوانوں پر SO-194 لاگو کئے جانے کی شدید مخالفت

Jammu and Kashmir News : جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمینٹ نے ایک حکم نامہ جاری کرکے 17 جون 2020 کے بعد وزیر اعظم پیکیج کے تحت نوکری حاصل کرنے والے ملازمین پر ایس او 194 لاگو کرنے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں ۔ اس حکم نامے کی رو سے ملازمین کو ایچ آر اے، میڈیکل الاونس، ٹی اے ڈی اے اور انکریمینٹ نہیں دی جاسکتی ، جب تک کہ وہ ملازمت کے دو سال مکمل نہ کریں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : وزیر اعظم روزگار پیکج کے تحت منتخب مائیگرینٹ نوجوانوں پر SO-194 لاگو کئے جانے کی شدید مخالفت
جموں و کشمیر : وزیر اعظم روزگار پیکج کے تحت منتخب مائیگرینٹ نوجوانوں پر SO-194 لاگو کئے جانے کی شدید مخالفت

جموں : جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کی طرف سے وزیر اعظم روزگار پیکیج کے تحت حال ہی میں منتخب ہونے والے مائیگرنٹ نوجوانوں پر جی اے ڈی کی طرف سے ایس او -194 لاگو کئے جانے کی مختلف سطحوں پر مخالفت ہو رہی ہے ۔  سروسز سلیکشن بورڈ کی جانب سے چند ماہ قبل اس خصوصی پیکیج کے تحت مختلف سرکاری محکموں میں کشمیری مہاجر امیدواروں کی بھرتی کا عمل شروع کیا گیا ۔ بھرتی عمل کے دوران لگ بھگ دو ہزار اسامیاں بھرنے کے لئے منتخبہ امیدواروں کی شارٹ لسٹ بھی جاری کی گئی ۔ اس سلسلے میں درجہ چہارم اسامیوں کے لئے شارٹ لسٹ ہوئے امیدواروں کو اپنی اسناد کی جانچ کرانے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ۔ ان احکامات کے کچھ دن بعد ہی جموں و کشمیر کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمینٹ کی جانب سے ایک حُکم نامہ جاری کیا گیا ، جس میں یہ بتایا گیا کہ ان تمام اسامییوں پر منتخب ہونے والے افراد پر ایس او 194 لاگو ہوگا ، جس کی رو سے منتخب امیدوارتعینات ہونے کے دو برس مکمل ہونے تک صرف بنیادی تنخواہ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے ۔


جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمینٹ کی طرف سے جاری کئے گئے اس حکم نامے کی مختلف انجمنوں کی جانب سے مخالفت ہو رہی ہے۔  کشمیری پنڈت لیڈر اشونی چرنگو کا کہنا ہے کہ یہ حکم خصوصی پیکیج کے تحت نوکری حاصل کرنے والے افراد پر نافذ نہیں ہوسکتا ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اشونی چرنگو نے کہا کہ تیس سال کے وقفہ کے بعد جو مائیگرنٹ نوجوان کشمیر میں نوکری کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوگئے ہیں ، ان پر یہ حکم لاگو کرنا  سراسر زیادتی ہے ۔ کیونکہ کشمیر کی سلامتی صورتحال ابھی بھی دگرگوں ہے ۔


انہوں نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر ایڈمنسٹریشن کے کچھ افسران من مانے طریقہ پر اس طرح کے احکامات جاری کر رہے ہیں ۔ اشونی چرنگو کا کہنا ہے چونکہ ان افراد کے پاس کشمیر میں فی الحال رہنے کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے ، لہذا یہ حکم فوری طور پر واپس لیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کرتے ہیں کہ وزیر اعظم پیکیج کے تحت نوکریاں حاصل کرنے والے امیدواروں پر اس حکم کا اطلاق نہ ہونے کے لئے اپنا رول نبھائیں ۔ پنُن کشمیر کے کنوینر ڈاکٹر اگنی شیکھشر کا کہنا ہے کہ یہ حکم فوری طور پر واپس لیا جانا چاہئے ۔ کیونکہ بقول ان کے یہ غیر قانونی ہے۔


سابق ایم ایل سی اور بی جے پی کے لیڈر اجے بھارتی کا کہنا ہے کہ یو ٹی انتظامیہ کو یہ حکم فوری طور پر واپس لینا چاہئے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھارتی نے کہا کہ  یہ حکم غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر انسانی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس حکم کو عملانے سے پہلے مائیگرنٹ ملازمین کے لئے تمام وہ سہولیات میسر کرائے ، جو باقی ملازمین کے لئے میسر ہیں ۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بٹ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پیکیج کے تحت منتخب کئے جانے والے ملازمین کو اس حکم سے مستثنی رکھا جانا چاہئے ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے بٹ نے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ وہ معاملہ کی سنگنیت کو دیکھ کر ذاتی طور پر مداخلت کرے اور مائیگرنٹ ملازمین کو اس حکم سے مستثنی رکھنے کی ہدایت جاری کرے ۔

واضح رہے کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمینٹ نے ایک حکم نامہ جاری کرکے 17 جون 2020 کے بعد وزیر اعظم پیکیج کے تحت نوکری حاصل کرنے والے ملازمین پر ایس او 194 لاگو کرنے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں ۔ اس حکم نامے کی رو سے ملازمین کو ایچ آر اے، میڈیکل الاونس، ٹی اے ڈی اے اور انکریمینٹ نہیں دی جاسکتی ، جب تک کہ وہ ملازمت کے دو سال مکمل نہ کریں ۔ مائیگرنٹ نوجوانوں کی یہ بھرتی کشمیری مہاجرین کی واپسی سے متعلق پیکیج کا حصہ ہے ، جس کے تحت ابھی تک چار ہزار مائیگرنٹ نوجوانوں کو سرکاری نوکری فراہم کی گئی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 22, 2021 04:36 PM IST