உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: کشمیری پنڈت ملازمین نے حکومت کو دیا الٹی میٹم، 24 گھنٹے میں کشمیر سے باہر نکالنے کا مطالبہ

    جنوبی کشمیر کے کولگام علاقے میں ایک خاتون ٹیچر کے قتل کے بعد پی ایم پکیج کے تحت کام کرنے والے ملازمین نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے کہا ہے کہ اگر انھیں 24 گھنٹے کے اندر کشمیر سے محفوظ نکال کر جموں یا ملک کے دیگر علاقوں میں تعینات نہیں کیا گیا تو وہ کل کشمیر سے نکل جائیں گے۔

    جنوبی کشمیر کے کولگام علاقے میں ایک خاتون ٹیچر کے قتل کے بعد پی ایم پکیج کے تحت کام کرنے والے ملازمین نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے کہا ہے کہ اگر انھیں 24 گھنٹے کے اندر کشمیر سے محفوظ نکال کر جموں یا ملک کے دیگر علاقوں میں تعینات نہیں کیا گیا تو وہ کل کشمیر سے نکل جائیں گے۔

    جنوبی کشمیر کے کولگام علاقے میں ایک خاتون ٹیچر کے قتل کے بعد پی ایم پکیج کے تحت کام کرنے والے ملازمین نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے کہا ہے کہ اگر انھیں 24 گھنٹے کے اندر کشمیر سے محفوظ نکال کر جموں یا ملک کے دیگر علاقوں میں تعینات نہیں کیا گیا تو وہ کل کشمیر سے نکل جائیں گے۔

    • Share this:
    سری نگر: جنوبی کشمیر کے کولگام علاقے میں ایک خاتون ٹیچر کےقتل کے بعد پی ایم پکیج کے تحت کام کرنے والے ملازمین نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے کہا ہے کہ اگر انھیں 24 گھنٹے کے اندر کشمیر سے محفوظ نکال کر جموں یا ملک کے دیگر علاقوں میں تعینات نہیں کیا گیا تو وہ کل کشمیر سے نکل جائیں گے۔

    گوپال پور کولگام میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ٹیچر کو گولی مار کرقتل کرنے کی خبر پھیلتے ہی سری نگر اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ سری نگر کے بٹوارہ علاقے میں پی ایم پکیج کے تحت کشمیر میں تعینات ملازمین کے ایک گروپ نے احتجاج کیا اور بعد میں ڈلگیٹ سے بٹوارہ جانے والی شاہراہ بند کردی۔ ان لوگوں نے جہاں ٹیچر کے قتل پر شدید مذمت کی۔ وہیں جموں وکشمیر انتظامیہ پرالزام لگایا کہ انتظامیہ انھیں بہلا پھسلا کربلی کا بکرا بنا رہی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جنوبی کشمیر میں فورسز کے آپریشن کے دوران ہتھیار چھوڑکر دہشت گرد ہوئے فرار

    میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران امت کول نامی ایک کشمیری پنڈت ملازم نے کہا کہ اس مسئلہ کا صرف ایک حل ہے اور وہ یہ ہے کہ انھیں کشمیر سے منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب سرکاری وعدوں پر اعتبار کرکے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ انھوں نے سرکارکو الٹی میٹم دیا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر انھیں کشمیر سے منتقل کیا جائے۔ اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے بڈگام، اننت ناگ اور دیگر علاقوں میں بھی ہوئے۔

    واضح رہے کہ کانگریس کے دور حکومت میں کشمیر میں کشمیری پنڈت ملازمین کو ایک پیکیج کے تحت نوکریاں دے کر یہاں لایا گیا تھا۔ کئی سال سے یہ ملازمین یہاں اچھی طرح کام کررہے تھے، لیکن پچھلے سال سے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور کچھ عرصہ قبل چاڈورہ میں ایک کشمیری پنڈت کے دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کے بعد ان ملازمین میں خوف کا ماحول ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: