உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیری پنڈت ملازمین کا مطالبہ- وادی سے جموں میں ہو ہمارا ٹرانسفر، ورنہ دے دیں گے اجتماعی استعفیٰ

    کشمیری پنڈت ملازمین کا مطالبہ- وادی سے جموں میں ہو ہمارا ٹرانسفر

    کشمیری پنڈت ملازمین کا مطالبہ- وادی سے جموں میں ہو ہمارا ٹرانسفر

    راہل بھٹ کے والد نے کہا کہ وہ اپنا تبادلہ وادی سے جموں میں کرنے کے لئے گزشتہ کئی ماہ سے درخواست دی تھی، لیکن ضلع انتظامیہ نے اس کی درخواست پر غور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر سرکاری دفتر میں پنڈت محفوظ نہیں ہے، تو پھر کہاں ہے؟ راہل کی بیوی اور بچے بھی کشمیر میں ہیں۔ حکومت کشمیری پنڈتوں کو سیکورٹی دینے میں ناکام رہی ہے‘۔

    • Share this:
      سری نگر: بڈگام میں کشمیری پنڈت راہل بھٹ ک قتل کے ایک دن بعد، جموں وکشمیر کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ وادی میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت برادری کے اراکین نے اپنی سیکورٹی کے مطالبہ کو لے کر اشتعال انگیز احتجاج کیا۔ کشمیری پنڈت برادری سے آنے والے سرکاری ملازمین نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں وادی سے جموں میں ٹرانسفر نہیں کیا گیا تو وہ نوکری سے استعفیٰ دے دیں گے۔ کشمیری پنڈتوں نے سڑکوں پر اتر کر مرکزی حکومت اور جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور جموں وکشمیر حکومت انہیں تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔

      کشمیری پنڈت برادری کے مہاجرین کے لئے خصوصی روزگار پیکیج کے تحت راہل بھٹ کو 11-2010 میں کلرک کی نوکری ملی تھی۔ وہ وادی کے چاڈورا تحصیل آفس میں تعینات تھے۔ دہشت گردوں نے جمعرات کو دفتر کے اندر گھس کر انہیں گولی مار دی تھی۔ آناً فاناً میں پڑوس کے اسپتال میں لے جایا گیا، جہاں پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ مہلوک کی بیوی نے کہا، ’حکومت ہمارے تحفظ کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے۔ ہمیں قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ دہشت گرد کشمیری پنڈتوں کو ٹارگیٹ کرکے انہیں مار رہے ہیں۔ ضرور ان کے ساتھ کے لوگوں نے دہشت گردوں کو کچھ بتایا ہوگا تبھی دہشت گرد وہاں پر پہنچے اور انہیں مار دیا۔

      وہیں راہل بھٹ کے والد نے کہا کہ وہ اپنا تبادلہ وادی سے جموں میں کرنے کے لئے گزشتہ کئی ماہ سے درخواست دے رہا تھا، لیکن ضلع انتظامیہ نے اس کی درخواست پر غور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر سرکاری دفتر میں پنڈت محفوظ نہیں ہیں، تو پھر کہاں ہے؟ راہل کی بیوی اور بچے بھی کشمیر میں ہیں۔ حکومت کشمیری پنڈتوں کو سیکورٹی دینے میں ناکام رہی ہے۔ راہل کی نوکری 2011 میں لگی تھی، لیکن وہ چاڈورا سے ٹرانسفر چاہتا تھا‘۔ دہشت گردوں کے ذریعہ راہل بھٹ کے قتل کی مخالفت میں کشمیری پنڈتوں نے بارہمولہ-سری نگر ہائی وے اور جموں-سری نگر ہائی وے کو جام کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

      جمعرات کو بھی احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا۔ کشمیری پنڈتوں کا مطالبہ کیا تھا کہ جب تک لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا راہل نہیں آتے تب تک راہل کی لاش کو نہیں لے جانے دیں گے۔ حالانکہ انتظامیہ کے منانے پر وہ مان گئے اور لاش کو راہل بھٹ کے گھر لے جایا گیا۔ جمعہ کی صبح راہل بھٹ کی آخری رسوم بن تالاب میں ادا کی گئی۔ آخری رسوم کے وقت جموں وکشمیر کے اے ڈی جی پی مکیش سنگھ، ڈویژنل کمشنر رمیش کمار اور ڈپٹی کمشنر اونی لواسا موجود تھے۔ آخری رسوم کے وقت بھاری تعداد میں سیکورٹی اہلکار اور عام لوگ بھی موجود تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: