உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیری پنڈت قتل کیس کو ملی اگلی تاریخ،  بٹہ کراٹے کے خلاف کیس پر 10 مئی کو ہوگی سماعت

    Kashmiri Pandit murder case: فاروق ڈار عرف بٹہ کراٹے پر کئی کشمیری پنڈتوں کو قتل کرنے کا الزام ہئے۔ اس سلسلے میں سالوں پہلے انکی گرفتاری کے وقت اُنکا ایک اقبالی بیان چلایا گیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ بیان ان سے زبردستی کرکے لیا گیا تھا۔

    Kashmiri Pandit murder case: فاروق ڈار عرف بٹہ کراٹے پر کئی کشمیری پنڈتوں کو قتل کرنے کا الزام ہئے۔ اس سلسلے میں سالوں پہلے انکی گرفتاری کے وقت اُنکا ایک اقبالی بیان چلایا گیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ بیان ان سے زبردستی کرکے لیا گیا تھا۔

    Kashmiri Pandit murder case: فاروق ڈار عرف بٹہ کراٹے پر کئی کشمیری پنڈتوں کو قتل کرنے کا الزام ہئے۔ اس سلسلے میں سالوں پہلے انکی گرفتاری کے وقت اُنکا ایک اقبالی بیان چلایا گیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ بیان ان سے زبردستی کرکے لیا گیا تھا۔

    • Share this:
    سرینگر: کشمیری پنڈتوں کے قتل معاملے میں فاروق ڈار المعروف بٹہ کراٹے کے خلاف کیس کی اگلی سماعت 10 مئی کو ہوگی۔ ضلع عدالت سرینگر میں آج کیس کی سماعت طے تھی اور کیس سیریل نمبر 11 پر فرسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے پاس لگا تھا لیکن جج دو دن کی چھٹی پر ہیں لہذا کیس کو اگلی تاریخ مل گئی۔ ملزم بٹہ کراٹے کا وکیل عدالت میں موجود تھے اور انھیں بتایا گیا کہ اب اگلی سماعت 10 مئی کو ہوگی۔ یہ کیس " مہاراج کرشن تکو بنام جے کے یونین ٹریٹری " 30 مارچ کو داخل کیا گیا تھا ۔

    90 کی دہائی میں ملی ٹنٹوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ستیش تکو کے اہل خانہ نے انکے قتل کے 31 سال کے بعد عدالت کا رجوع کیا اور پولیس اور حکومت پر فاروق ڈار عرف بٹہ کراٹے پر درج معاملات میں چارج شیٹ اور رپورٹ داخل کرنے میں اتنی دیر لگا دی۔ 30 مارچ کو ستیش تکو کے اہل خانہ کی درخواست پر سرینگر ضلع عدالت میں سماعت ہوئی اور فریقین کو باقاعدہ نمائیندگی کے لئے 16 اپریل کی تاریخ دی گئی تھی لیکن آج اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔

    مزید پڑھیں: Pakistan دورے پر آسٹریلیائی ٹیم کو دہشت گردانہ حملے کی دھمکی دینے والا مشتبہ گرفتار

    مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بٹہ کراٹے نے کیمرہ کے سامنے درجنوں کشمیری پنڈتوں کر قتل کرنے کا بیان دیا تھا جو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا لیکن پھر بھی اس کے خلاف کوئی کاروائی یعنی سزا نہیں دی گئی ہے۔ بٹہ کراٹے نے اس بیان پر عدالت میں کیا تھا کہ اس سے یہ بیان زبردستی دلوایا گیا تھا۔ بٹہ کراٹے فی الحال ملٹنسی کے ایک اور کیس میں جیل میں ہیں۔ کشمیر فایلز نامی بالی ووڈ فلم آنے کے بعد 90 کی دہائی میں کئی کشمیری پنڈتوں کے قتل معاملات پر بحث چھڑنے کی وجہ سے اس کیس میں زیادہ دلچسپی بڑھ گئی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: