உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: کشمیری پنڈت پی ایم پیکج کے ملازمین کا جموں میں احتجاج جاری

    وادی کشمیر میں  مئی کے مہینے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اقلیتی فرقے کے لوگوں خاص طور پر وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کی ہلاکتوں کے بعد وادی میں قیام پذیر اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔

    وادی کشمیر میں مئی کے مہینے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اقلیتی فرقے کے لوگوں خاص طور پر وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کی ہلاکتوں کے بعد وادی میں قیام پذیر اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔

    وادی کشمیر میں مئی کے مہینے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اقلیتی فرقے کے لوگوں خاص طور پر وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کی ہلاکتوں کے بعد وادی میں قیام پذیر اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔

    • Share this:
    جموں: وادی کشمیر میں  مئی کے مہینے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اقلیتی فرقے کے لوگوں خاص طور پر وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کی ہلاکتوں کے بعد وادی میں قیام پذیر اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔ اقلیتوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے پیش نظر وزیر اعظم ایمپلائمنٹ پیکیج کے تحت وہاں کام کر رہے ملازمین نے اپنی ڈیوٹی پر جانا بند کر دیا اورتقریباً ایک ماہ تک وہاں ان کے لئے قائم ٹرانزٹ کیمپوں میں ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کر تے رہے۔

    ان ملازمین نے جموں وکشمیر یو ٹی کے ایل جی منوج سنہا اور دیگر کئی اعلی حکام سے ملاقاتیں کرکے انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا کہ وادی میں حالات میں بہتری آنے تک انہیں جموں صوبے میں تعینات کیا جائے۔ ان ملازمین نے سرکار سے صاف کہا کہ موجودہ حالات میں وادی میں ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں، لہٰذا انہین فوری طور جموں منتقل کیا جائے۔ کافی دیر تک وادی میں اپنا احتجاج درج کرنے کے بعد ان ملازمین نے جموں کے ریلیف کمشنر مائیگرنٹس کے دفتر کے سامنے اپنا احتجاجی پروگرام شروع کیا۔

    یہ ملازمین نے مئی ماہ کی 10 تاریخ کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھی دھرنا دے کر یہ کوشش کی کہ ان کی آواز مرکزی سرکار تک پہنچ جائے اور وہ ان ملازمین کے خدشات کو دیکھتے ہوئے انہیں فی الحال جموں منتقل کرنے کے احکامات صادر کرے، لیکن ابھی تک ان ملازمین کے مطالبات کی طرف سرکار سرد مہری کا ہی اظہار کرتی رہی ہے، جس وجہ سے ان ملازمین میں کافی تشویش پائی جارہی ہے۔

    جموں میں جاری ان کے احتجاج میں روزانہ کوئی نہ کوئی کمیونٹی لیڈر ان کے حق میں ان کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے اور سرکار سے ان ملازمین کے مطالبے کو تسلیم کرنے کی اپیل کرتے رہتے ہیں۔ ملازمین کے احتجاج کے آج 70 ویں روز آج کشمیری مائیگرنٹوں کے سماجی لیڈر اور ٹی وی ڈیبیٹر سُشیل پنڈت اس احتجاجی دھرنے میں شامل ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مائیگرنٹ ملازمین کا سڑکوں پر اترنا اس بات کی غماز ہے کہ سرکار وادی میں انہیں سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور ان ملازمین کو  احتجاج کرنے پرمجبور کیا جا رہا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Jammu and Kashmir: جموں خطے میں دہشت گردوں کے تین ماڈیولز کا پردہ فاش، سات دہشت گرد گرفتار 

    انہوں نے کہا کہ کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کا مطالبہ جائز ہے، کیونکہ وادی کے حالات اقلیتی فرقے کے لوگوں کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ انہوں نے سرکار سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مائیگرنٹ ملازمین سے لیا گیا بانڈ منسوخ کیا جائے اور انہیں جموں وکشمیر میں کام کر رہے دیگر ملازمین کے ہمہ پلہ قرار دیا جائے۔ سُشیل پنڈت نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ  کشمیری پنڈت ملازمین سے روا بید بھاو ختم کیا جائے اور ان کی زندگیوں کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیری پنڈت اپنے ہی ملک میں پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہیں، جو ہماری سرکار کے لئے شرم کی بات ہے اور سرکار کو ایسا ماحول قائم کرنا ہوگا، جس میں وادی سے نکلے کشمیری پنڈت عزت اور حفاظت سے واپس وادی لوٹ پائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا بھر پور رول ادا کرسکیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: