உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: کشمیری پنڈت مہاجرین نے 1990 میں پنڈتوں کی نسل کشی کو لے کر ٹریبونل قائم کرنے کا مطالبہ کرنے کا کیا فیصلہ

    J&K News: کشمیری پنڈت مہاجرین نے 1990 میں پنڈتوں کی نسل کشی کو لے کر ٹریبونل قائم کرنے کا مطالبہ کرنے کا کیا فیصلہ ۔ فائل فوٹو۔

    J&K News: کشمیری پنڈت مہاجرین نے 1990 میں پنڈتوں کی نسل کشی کو لے کر ٹریبونل قائم کرنے کا مطالبہ کرنے کا کیا فیصلہ ۔ فائل فوٹو۔

    Jammu and Kashmri : کشمیری پنڈت مہاجرین کی چار سماجی تنظیموں نے کشمیر میں 1990 میں کشمیری پنڈتوں اور سکھوں کی نسل کشی کی تحقیقات کے لیے "نسل کشی ٹریبونل" تشکیل دینے کا مطالبہ کرنے کے لیے یونین اور جموں و کشمیر کی حکومتوں سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Jammu | Srinagar
    • Share this:
    جموں وکشمیر : سپریم کورٹ نے دو ستمبرکو کشمیر میں 1990 میں کشمیری پنڈتوں اور سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ کی ایس آئی ٹی سے تحقیقات کرنے کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے عرضی گزاروں سے کہا کہ وہ یہ معاملہ مرکزی اور جموں و کشمیر حکومتوں کے ساتھ اٹھائیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کشمیری پنڈت مہاجرین کی چار سماجی تنظیموں نے کشمیر میں 1990 میں کشمیری پنڈتوں اور سکھوں کی نسل کشی کی تحقیقات کے لیے "نسل کشی ٹریبونل" تشکیل دینے کا مطالبہ کرنے کے لیے یونین اور جموں و کشمیر کی حکومتوں سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ تنظیمیں حکومتوں کے سامنے چار مطالبات رکھنے جا رہی ہیں۔ پہلا مطالبہ ہے کہ نسل کشی کا بل فوری طور پر نافذ کیا جائے ۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ایک ٹربیونل تشکیل دیا جائے اور جلد از جلد ٹرائل شروع کی جائے۔ ٹریبونل اگر محسوس کرتا ہے تو نسل کشی کے جرائم کی تحقیقات میں مدد کے لیے خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے سکتا ہے۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ 16 دسمبر 2005 کو یو این جی اے کی طرف سے منظور کردہ قرارداد میں طے شدہ اصولوں اور رہنما خطوط کے مطابق تارکین وطن کی واپسی اور بحالی کی جائے ۔ جبکہ چوتھا مطالبہ بےگھر ہونے والے کشمیری پنڈتوں کے لیے مرکز کے زیر انتظام ایک جگہ بستی قائم کرنا ہے ۔ نیز وادی میں ہندوؤں کی مزید ٹارگٹ کلنگ سے بچنے کے لیے پی ایم پیکج کے ملازمین کو وادی سے باہر منتقل کیا جائے یا ریلیف کمشنر کے دفتر میں تعینات یا منسلک کیا جائے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: PoK سے دراندازی کیلئے ISI نے بنائے ہیں 9 لانچنگ پیڈس، 150 دہشت گردوں کو کیا تیار


    کشمیری پنڈت سماجی کارکن اور کنوینر "روٹس ان کشمیر" امت رینہ نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں مرکزی سرکار اور جموں و کشمیر کی حکومت کے ساتھ یہ معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کشمیری پنڈت برادری خاص طور پر چار تنظیمیں یعنی روٹس ان کشمیر، یوتھ فار پنون کشمیر، کشمیری سمیتی دہلی اور پنون کشمیر نے حکومت کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ’’نسل کشی ٹربیونل‘‘ تشکیل دینے کا مطالبہ کریں گے تاکہ کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی کی تحقیقات ہوسکے ۔ کشمیری پنڈت برادری دنیا کے مختلف حصوں میں مقیم ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن بھی شروع کررہی ہے۔

    کشمیری پنڈتوں کی دیگر سماجی تنظیموں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان تنظیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے جنہوں نے یہ اقدام شروع کیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ حکومت کشمیری تارکین وطن کے حقیقی مطالبات کو سنے گی اور ان کی توقعات پر پورا کھرا اترے گی۔ کنوینئر پنن کشمیر ڈاکٹر اگنی شیکھر نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی کے معاملات کی تحقیقات ضروری ہے۔ نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے اگنی شیکھر نے کہا کہ ’’جن لوگوں نے اپنے رشتہ داروں کو کھو دیا ہے انہیں 1990 میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے رشتہ داروں کے قاتلوں کے بارے میں جاننے کا پورا حق ہے قتل عام کی وجہ سے کشمیری پنڈتوں کی بھاری تعداد کو ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ کشمیری پنڈت مہاجروں کی بحالی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی ضرورت ہے"۔

     

    یہ بھی پڑھئے: 20 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان نے لشکر دہشت گرد کی لاش کو قبول کیا


    کشمیری پنڈت کانفرنس کے صدر کندن کشمیری نے کہا کہ ایسے ٹربیونل کی تشکیل کشمیری پنڈتوں کا پرانا مطالبہ ہے۔ نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ " یہ کشمیری پنڈتوں کا پرانا مطالبہ ہے۔ واندھاما قتل عام کے بعد سے ہم اس کا مطالبہ کر رہے ہیں حکومت کو ایمانداری سےاس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے" ۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشمیری پنڈت مہاجر گزشتہ کئی سالوں سے کشمیر میں 1990 کے دوران ہونے والی نسل کشی کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکز کہ موجودہ حکومت اور جموں وکشمیر انتظامیہ ان مطالبات پر کیا رد عمل ظاہر کرتی ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: