உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیری پنڈت تنظیمیں حد بندی کمیشن کی حتمی سفارشات سے پُرامید، کشمیری پنڈت سماج کے لئے کیا جا رہا ہے یہ مطالبہ

    کشمیری پنڈت تنظیمیں حد بندی کمیشن کی حتمی سفارشات کے بارے میں پر امید

    کشمیری پنڈت تنظیمیں حد بندی کمیشن کی حتمی سفارشات کے بارے میں پر امید

    کشمیری پنڈت تنظیمیں حد بندی کمیشن کی حتمی سفارشات کے بارے میں پر امید۔ کشمیری پنڈت سماج کے لئے اسمبلی نشستیں مخصوص کئے جانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: حد بندی کمیشن کی جانب سے 20 دسمبر کو جاری ڈرافٹ تجاویز میں کشمیری پنڈتوں کے لئے اسمبلی نشستیں مخصوص کئے جانے کے تعلق سے گرچہ کوئی تجویز سامنے نہیں آئی تاہم پنڈت تنظیمیں اور لیڈران پر امید ہیں کہ کمیشن کشمیری پنڈتوں کی جانب سے اس حوالے سے پیش کردہ مطالبات پر غور کرکے انہیں منظورِ کرلے گا۔ کشمیری پنڈت لیڈر اور بی جے پی کے ایک رہنماء اشونی چرنگو کاکہناہے چونکہ کمیشن کی جانب سے جموں وکشمیر میں اسمبلی نشستوں کی ازسر نو حد بندی سے متعلق حتمی سفارشات ابھی منظر عام پر آنا باقی ہیں لہذا وہ امید کرتے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں اور جموں وکشمیر میں رہائش پذیر دیگر اقلیتوں اور سماج سے تعلق رکھنے والے دیگر طبقوں کو اسمبلی جیسے جمہوری ادارے میں نمائندگی دینے کے لیے کمیشن اپنی سفارشات پیش کرے گا۔

    نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اشونی چرنگو نے کہا،" حد بندی کمیشن کی جانب سے جموں وکشمیر میں اسمبلی نشستوں کی نئی حد بندی سے متعلق ڈرافٹ تجاویز سے ہم مطمئن ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ کمیشن ہمارے مطالبات پر غور کرکے ہمارے حق میں سفارشات جاری کرکےگا۔ہم نے کمیشن کے ساتھ جولائی دوہزار اکیس میں ملاقات کرکے ایک تحریری عرضداشت بھی پیش کی ہے جس میں کئی طرزپر جموں وکشمیر میں رہائش پذیر اقلیتوں کے لیے سیٹیں مخصوص رکھی جاسکتی ہیں ان  تجاویز میں  سکم میں فلوٹنگ اسمبلی نشست، پوڈو چیری اسمبلی میں ممبران نامزد کئے جانے کا طرز عمل شامل ہے۔" اشونی چرنگو نے کہا کہ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے لئے اسمبلی میں تین نشستیں، کشمیری سکھ برادری کے لئے ایک اسمبلی نشست، پاکستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین کے لئے تین اسمبلی نشستیں اور خواتین کے لیے دو نشستیں مخصوص رکھنے کا حد بندی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ کمیشن ان کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرکے یہ نو اسمبلی نشستیں مخصوص رکھنے کی سفارش کرے گا۔

    یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج نامی تنظیم کے صدر آر کے بھٹ نے بھی حد بندی کمیشن کی جانب سے جاری ڈرافٹ تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بھٹ نے کہا،" ہماری تنظیم کمیشن کی جانب سے پیش کردہ ڈرافٹ تجاویز کی مخالف نہیں ہیں کیونکہ کمیشن نے ان تجاویز میں ان طبقوں کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کی تجویز رکھی ہے جو ابھی تک اس حق سے محروم رکھے گئے تھے۔" انہوں نے کہا کہ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے نمائندوں نے حد بندی کمیشن کے پینل کے ساتھ ملاقات کے دوران اپنا معاملہ اٹھاتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کمیشن کشمیری پنڈتوں کے لئے اسمبلی میں دو نشستیں اور لوک سبھا و راجیہ سبھا کے لئے بالترتیب ایک ایک نشست مخصوص کرے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کشمیری پنڈتوں کی نمائندگی کرنے کے لئے اسمبلی میں نمائندے موجود نہیں تھے۔جس کے باعث کشمیری پنڈت سماج کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنے نیز انہیں حل کرنے میں خاص پیش رفت دکھائی نہیں دی۔

    آر کے بھٹ نے کہا کہ حکومت ہند اور الیکشن کمیشن کو کشمیری پنڈت سماج میں اعتماد بحال کرنے کے لیے لازمی ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو سیاسی طور پر مستحکم بنایا جائے اور یہ تبھی ممکن ہے جب اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کشمیری پنڈت سماج کو سیاسی اختیارات دینے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ واضح رہے کہ حد بندی کمیشن نے جموں وکشمیر میں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی سے متعلق ڈرافٹ تجاویز پیش کیں، جن کے مطابق جموں وکشمیر میں سات اسمبلی نشستوں کا اضافہ ہوگا، جن میں سے 6 سیٹیں جموں ڈیوژن میں بڑھائی جائیں گی جبکہ کشمیر ڈیوژن میں ایک اسمبلی نشست کا اضافہ ہوگا۔ ڈرافٹ تجاویز منظور ہونے کے بعد جموں وکشمیر اسمبلی کے لئے کل نشستوں کی تعداد 90 تک پہنچ جائے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: