உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Navaratri 2022: ملک بھر میں نوراتری کی دھوم، منفرد انداز میں کشمیری پنڈت منا رہے ہیں آج سال نو کا پہلا دن

    Kashmiri Pandits celebrate Navreh: کشمیر کی صدیوں پرانی روایات کے مطابق کشمیری پنڈت نوراترا یعنی نورہ سے ایک دن پہلے رات کو اپنے اپنے گھروں میں ایک تھالی سجاتے ہیں۔ اس تھالی میں چاول، پھول ، قلم ، نوٹ ، دودھ و دہی ، وائی نامی جڑی بوٹی اور نئے سال کی جنتری جیسی ایشیا رکھی جاتی ہیں۔ اور نورہ کے دن گھر کا ہر فرد نیند سے جاگتے ہیں پہلے اسی تھالی کا درشن کرتا ہے۔

    Kashmiri Pandits celebrate Navreh: کشمیر کی صدیوں پرانی روایات کے مطابق کشمیری پنڈت نوراترا یعنی نورہ سے ایک دن پہلے رات کو اپنے اپنے گھروں میں ایک تھالی سجاتے ہیں۔ اس تھالی میں چاول، پھول ، قلم ، نوٹ ، دودھ و دہی ، وائی نامی جڑی بوٹی اور نئے سال کی جنتری جیسی ایشیا رکھی جاتی ہیں۔ اور نورہ کے دن گھر کا ہر فرد نیند سے جاگتے ہیں پہلے اسی تھالی کا درشن کرتا ہے۔

    Kashmiri Pandits celebrate Navreh: کشمیر کی صدیوں پرانی روایات کے مطابق کشمیری پنڈت نوراترا یعنی نورہ سے ایک دن پہلے رات کو اپنے اپنے گھروں میں ایک تھالی سجاتے ہیں۔ اس تھالی میں چاول، پھول ، قلم ، نوٹ ، دودھ و دہی ، وائی نامی جڑی بوٹی اور نئے سال کی جنتری جیسی ایشیا رکھی جاتی ہیں۔ اور نورہ کے دن گھر کا ہر فرد نیند سے جاگتے ہیں پہلے اسی تھالی کا درشن کرتا ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: کشمیری پنڈت سماج کے لوگ  آج سال نو کا پہلا دن یعنی نورہ عقیدت و احترام سے منارہے ہیں۔ ملک بھر میں تمام ہندو اس تہوار کو نوراتری Festival Navratri 2022 کے طور پر مناتے ہیں اور ہزاروں عقیدت مند ماتا کے مندروں  میں حاضری دے کر خصوصی پوجا پاٹھ میں شرکت کرتے ہیں۔ اگر چہ کشمیری پنڈت بھی نوراترا Kashmiri Pandits celebrate Navreh کے شروع ہونے کے ساتھ ہی مہا نومی تک ماتا کی پوجا کرتے ہیں تاہم وہ اس تہوار کو منفرد طریقے سے مناتے ہیں۔  کشمیر کی صدیوں پرانی روایات کے مطابق کشمیری پنڈت نوراتری یعنی نورہ سے ایک دن پہلے رات کو اپنے اپنے گھروں میں ایک تھالی سجاتے ہیں۔ اس تھالی میں چاول، پھول ، قلم ، نوٹ ، دودھ و دہی ، وائی نامی جڑی بوٹی اور نئے سال کی جنتری جیسی ایشیا رکھی جاتی ہیں۔ اور نورہ کے دن گھر کا ہر فرد نیند سے جاگتے ہیں پہلے اسی تھالی کا درشن کرتا ہے۔

    نامور محقق اوپیندر امباردار کے مطابق یہ روایت ویدوں میں درج ہے اور کشمیری پنڈت اور اوگاڑھی سماج ان روایات کو ابھی تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ انکے مطابق تھالی کا گول نما ہونا اسبات کی علامت ہے کہ وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور زندگی آگے بڑھتی رہتی ہے۔۔چاول انپورنا ، نوٹ لکھشمی، قلم سروستی جبکہ وائی نامی جڑی بوٹی زندگی میں آنے والے اُتار چڑھائو کی علامات مانی جاتی ہیں۔ اوپیندر امباردار کے مطابق یہ روایت کشمیر پنڈتوں کے علاوہ اوگاڈھی سماج میں بھی رائیج وعمل ہے تاہم وہ تھالی میں پھلوں کا استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مہاجرین کی زندگی بسر کرنے کے باوجود کشمیری پنڈت اب بھی اپنی ان روایات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جموں کے پرکھو کیمپ میں مقیم دلیپ کمار رینہ کا کہنا ہے کہ وہ اس روایت کو آگے جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہ روایات ہمارے قوم کی پہچان ہیں۔


    GP Bomb: مدھیہ پردیشن نے بنایا ملک کا سب سے بڑا بم، ایک جھٹکے میں اڑادے گا پاکستان۔چین کا کوئی بھی حصہ: تفصیل جانئے


     

    نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے دلیپ کمار رینہ نے کہا کہ وہ ان روایات کو اپنے بچوں تک پہنچانے کے لئے انہیں اس پورے عمل میں شریک کرتے ہیں تاکہ آنے والے وقت میں یہ روایات برقرار رہ سکیں۔جگتی مائیگرنٹ کیمپ میں مقیم  رمیش کمار نامی ایک پنڈت مہاجر نے کہا کہ کشمیر سے ہجرت کرنے کے باوجود ہم نورہ اور دیگر تہواروں پر اپنی روایا ت کو جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ روایات ہماری پہچان ہیں اور کشمیری پنڈت سماج کی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے ایسا کرنا لازمی ہے۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بٹ کا کہنا ہے کہ نورہ جیسے تہواروں کے موقع پر اپنی روایات کی عکاسی کرنے سے ہمیں پانچ ہزار سال پہلے کی اپنی تاریخ کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔

    نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان روایات کے طفیل کشمیر پنڈتوں کو دُنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہون نے کہا کہ ان تہواروں کے موقع پر کشمیری پنڈتوں کو ایک مرتبہ پھر کشمیر واپس جانے کی چاہت زور پکڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پنڈت چاہتے ہیں کہ وادی میں حالات جلد سے جلد بہتر ہو ں تاکہ کشمیر مہاجرین واپس اپنے وطن لوٹ سکیں اور ماضی کی طرح خوشی خوشی نورہ اور دیگر تہوار منا سکیں۔کشمیر پنڈت لیڈر اشونی چرنگو کا کہنا ہے کہ سرکار کو چاہئیے کہ وہ وادی میں ایسے حالات پیدا کریں تاکہ کشمیری مائیگرنٹ دوبارہ اپنے وطن کو لوٹ سکیں اور اپنے مذہبی تہوار اپنی سر زمین پر منا سکیں۔

    Ramazan 2022: رمضان المبارک میں سحری و افطار کے کھانے میں رکھیں ان چیزوں کا خاص خیال  


    Published by:Sana Naeem
    First published: