உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی بحالی کا واحد راستہ وادی کشمیر میں علیحدہ وطن کا قیام، لڑائی لڑنے کا اعلان

    کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی بحالی کا واحد راستہ وادی کشمیر میں علیحدہ وطن کا قیام، لڑائی لڑنے کا اعلان

    کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی بحالی کا واحد راستہ وادی کشمیر میں علیحدہ وطن کا قیام، لڑائی لڑنے کا اعلان

    کشمیری پنڈت آج یوم قربانی (بلیدان دیوس) منا رہے ہیں۔ یہ دن 1989 اور اس کے بعد دہشت گردوں کے ہاتھوں کشمیری پنڈتوں کے قتل عام کے طور پر یاد کیاجاتاہے۔ اس سلسلے میں پنون کشمیر کی جانب سے جموں میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu, India
    • Share this:
    جموں وکشمیر: کشمیری پنڈت آج یوم قربانی (بلیدان دیوس) منا رہے ہیں۔ یہ دن 1989 اور اس کے بعد دہشت گردوں کے ہاتھوں کشمیری پنڈتوں کے قتل عام کے طور پر یاد کیاجاتاہے۔ اس سلسلے میں پنون کشمیر کی جانب سے جموں میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں کشمیری پنڈتوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جموں و کشمیر اور دیگر ریاستوں سے غیر کشمیری سماجی تنظیموں کے کئی نمائندوں نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔

    اس موقع پرکشمیری پنڈت شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے کشمیری پنڈتوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی، جنہیں کشمیر میں مسلح دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔ مقررین نےمطالبہ کیا کہ حکومت کشمیری پنڈتوں کے قتل کو سرکاری طور پر نسل کشی قرار دے۔ پنون کشمیر کے رہنماؤں نے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ کشمیری پنڈتوں کے لیے وادی کشمیر میں ایک خصوصی زون بنایا جائے تاکہ وہ واپس وادی میں آسکیں۔پنون کشمیر کے آرگنائزنگ سیکریٹری،ڈاکٹر اجے چرنگو نے کہا،"حکومت کو کشمیری پنڈتوں کے قتل کو "نسل کشی" قرار دینا چاہئے۔

    مقررین نے کشمیری پنڈتوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی، جنہیں کشمیر میں مسلح دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔
    مقررین نے کشمیری پنڈتوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی، جنہیں کشمیر میں مسلح دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔


    نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو ایک بار پھر کشمیر میں تنظیم نو کرنی چاہیے۔ جہاں تک ہمارے کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی کا تعلق ہے پنون کشمیر کا ماننا ہے کہ 5 اگست 2019 کو ہونے والی تنظیم نو مکمل نہیں ہے۔ حکومت کو دریائے وتاستا (جہلم) کے مشرقی اور جنوبی علاقے میں ایک علیحدہ وطن "پنون کشمیر" کاقیام عمل میں لاکر وادی کشمیر کو دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے جہاں تمام کشمیری پنڈت "جہادی عناصر" کے خوف کے بغیر رہ سکیں"۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    غلام نبی آزاد کی کانگریس پر تنقید،کہا- اندرا گاندھی کے وقت اسٹار رہا، اب پارٹی نے دو سال بٹھائے رکھا

    یہ بھی پڑھیں۔

    Jammu and kashmir: سال 2015 میں ایک ہی خاندان کے 16 افراد ہوئے فوت، 7 سال بعد بھی نہیں ملا انصاف 

    انہوں نے کہا کہ پنون کشمیر کا عزم ہے کہ ہم اس کے لیے لڑتے رہیں گے۔ ریسرچ اسکالر نیرج عطری نے کہاکہ حکومت کو وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے قتل کو نسل کشی قرار دینا چاہیے۔،انہوں نے کہا،" ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ ہر عام شہری جانتا ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں ہماری کمیونٹی کے افراد کے ساتھ کتنا ظلم ہوا لیکن یہ ضروری ہے کہ حکومت اسے تسلیم کرے اور اسے نسل کشی قرار دے"ْ۔ وشو سارسوتھ فیڈریشن کے اعزازی صدر، اشوک کنی جو کانفرنس میں شرکت کے لیے کیرلا سے آئے ہوئےتھے،نے کہا کہ وہ کشمیری پنڈت برادری کو یہ بتانے کے لیے شرکت کرنے آئے ہیں کہ تمام سار سوتھ برہمن کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ہیں۔

    نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا،" ہم کشمیری پنڈتوں کے درد کو جانتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ کمیونٹی ایک پڑھی لکھی کمیونٹی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ کشمیری پنڈت وادی میں واپس آئیں اور کشمیر ایک بار پھر علم و دانش کا مرکز بن جائے۔ ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ وہاں ایک بار پھر شاردا یونیورسٹی قائم ہو اور تمام ہندو ہندوستان کو "وشو گرو" بننے میں مدد کریں"۔ ملک کے مختلف حصوں میں "بلیدان دیوس" کے سلسلے میں خصوصی کانفرنسوں اور سیمیناروں کا انعقاد کیا گیا۔واضح رہے کہ اسی دن 1989 میں معروف وکیل ٹکا لال ٹپلو کو دہشت گردوں نے سری نگر میں گولی مارکر قتل کر دیا تھا۔ پنون کشمیر گزشتہ تین دہائیوں سے اپنے یہ مطالبات مختلف فورموں میں اٹھاتے رہے ہیں اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سرکار اس مطالبے پر کس طرح کا درد عمل ظاہر کرتی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: