உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: کشمیر وادی میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے Kashmiri Pandits فکرو تشویش کے شکار

    جموں وکشمیر: کشمیر وادی میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے کشمیری پنڈت فکرو تشویش کے شکار

    جموں وکشمیر: کشمیر وادی میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے کشمیری پنڈت فکرو تشویش کے شکار

    وادی کشمیر میں گزشتہ کچھ ماہ سے ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگس کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور رواں مہینے کے دوران یہ روش بڑھ رہی ہے، جس کے باعث عام لوگوں بالخصوص اقلیتی فرقے سے وابستہ افراد میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: وادی کشمیر میں گزشتہ کچھ ماہ سے ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگس کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور رواں مہینے کے دوران یہ روش بڑھ رہی ہے، جس کے باعث عام لوگوں بالخصوص اقلیتی فرقے سے وابستہ افراد میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ وادی میں اقلیتی طبقے کے افراد پر دہشت گردوں کے حالیہ حملوں سے وادی میں رہ رہے کشمیری پنڈت طبقے سے وابستہ لوگ فکر وتشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ چند دن قبل کشمیر وادی کے کچھ علاقوں میں دھمکی آمیز پوسٹر منظر عام پر آنے سے کشمیر میں رہ رہے پنڈت اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔

    سال 1990 میں کشمیر میں ملیٹینسی شروع ہونے کے باوجود وادی میں مقیم کئی کشمیری پنڈت خاندانوں نے اپنے آبائی وطن سے ہجرت کرنے کی بجائے وادی میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔ تاہم ان خاندانوں سے وابستہ افراد پر دہشت گردانہ حملوں نے انہیں اپنے فیصلے پرغور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر میں مقیم پنڈتوں کی تنظیم "کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی" کے صدر سنجے ریکو کا کہنا ہے کہ وادی کے کچھ علاقوں میں کشمیری پنڈتوں کے خلاف جاری دھمکی آمیز پوسٹروں سے کشمیر میں رہ رہے پنڈت پریشانی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

    تنظیم کی جانب سے جاری ایک پریس بیان میں دھمکی آمیز پوسٹر جاری کئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہیں۔ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ کشمیری پنڈتوں کے خلاف جاری کئے گئے دھمکی آمیز پوسٹر اس بارسماجی رابطہ سائٹس مشتہر کئے جا رہے ہیں جبکہ 1990 میں اخبارات اور عوامی مقامات پر پوسٹر چسپاں کرکے کشمیری پنڈتوں کو وادی چھوڑ کرجانے کے لئے کہا گیا تھا اور اس طرح ایک بار پھرکشمیر میں 1990جیسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں۔

    سجنے تکو کا کہنا ہے حالانکہ اس طرح کی گھناؤنی حرکات میں سماج دشمن عناصر کی بہت کم تعداد شامل رہتی ہے، تاہم اکثریتی فرقے کے لوگوں کی جانب سے اس بارے میں اختیار کی گئی  اجتماعی خاموشی اکثریتی اور اقلیتی فرقے کے درمیان پائے جانے والے اعتماد کو کمزور کررہی ہے پریس ریلیز میں کشمیر کے مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اجتماعی طور اس بارے میں کھل کر اپنی رائے ظاہر کریں کہ آیا وہ کشمیری پنڈتوں کے وادی میں رہنے کے حق میں ہیں، یا نہیں۔ کشمیر وادی کے ساتھ ساتھ جموں اور ملک کے دیگر حصوں میں رہ رہے کشمیری پنڈت مہاجرین وادی میں امن وقانون کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے پریشان ہیں۔

    کشمیری پنڈت تنظیموں کا کہنا ہے کہ سرکار کو وادی میں رہ رہے کشمیری پنڈتوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کارگر اقدامات کرنے چاہئے۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آرکے بھٹ کا کہنا ہے کہ ایل جی انتظامیہ کو چاہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پرکشمیر میں موجود پنڈتوں کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آرکے بھٹ نے کہا، "کشمیرکے موجودہ حالات پر یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج نے آج جموں میں کشمیری پنڈتوں کا خصوصی اجلاس اس لئے بلایا گیا تاکہ وادی میں بگڑتی ہوئی سلامتی صورتحال کے بارے میں تفصیلی غور وخوض کیا جائے۔ کشمیر میں دوبارہ ایسے پوسٹر منظر عام پر آرہے ہیں، جن کے ذریعہ کشمیری پنڈتوں کو وادی چھوڑنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وادی میں دوبارہ 1990 جیسے حالات پیدا ہوچکے ہیں، جو سیکولرازم کی روایت کے بالکل برعکس ہے"۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگرحصوں میں رہائش پذیرکشمیری پنڈت مہاجر وادی میں وزیراعظم روزگار پیکیج کے تحت سرکاری نوکریاں انجام دینے والے پنڈت نوجوانوں کی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں‘۔ ہم لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وادی کے دور دراز علاقوں میں ملک کی خدمت کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو محفوظ مقامات پر رہائش کی سہولت فراہم کی جائے اور وہاں سخت حفاظتی بندوبست کیا جائے تاکہ ان کی سلامتی یقینی بن سکے"۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار، جموں وکشمیر انتظامیہ کشمیری پنڈت، کشمیر کے اکثریتی طبقے سے وابستہ لوگ بالخصوص وہاں کی سیول سوسائٹی کھلے عام قوم دشمن عناصر کی ان حرکات کی مذمت کریں تاکہ کشمیر میں بھائی چارہ دوبارہ پروان چڑھے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: