உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: کشمیر میں لگاتار ٹارگٹ کلنگ سے کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا خواب پھر چکنا چور

    J&K News: کشمیر میں لگاتار ٹارگٹ کلنگ سے کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا خواب پھر چکنا چور

    J&K News: کشمیر میں لگاتار ٹارگٹ کلنگ سے کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا خواب پھر چکنا چور

    Jammu and Kashmir : کشمیری پنڈتوں اور مسلم کمیونٹی کے ممبران کے درمیان رابطوں کا نیا دور شروع ہورہا تھا۔ لیکن اب ان پنڈت نوجوانوں کے والدین پریشان ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پنڈتوں کے لیے مستقبل قریب میں وادی میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

    • Share this:
    جموں : جب 2009 میں مرکزی حکومت نے کشمیری پنڈت نوجوانوں کے لیے خصوصی پی ایم ایمپلائمنٹ پیکج کا اعلان کیا تو ملک بھر میں نجی شعبے کی مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈتوں کے سینکڑوں نوجوانوں نے نوکریوں کے لئے درخواست دی اور سرکاری اداروں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ ان میں سے زیادہ تر کشمیری پنڈتوں نے اس لئے اس پیکیج کا انتخاب کیا کیونکہ ان کے لیے یہ اپنے مادر وطن کشمیر میں دوبارہ گھر واپسی کی ایک راہ تھی۔ لیکن اب ان کے اپنے مادر وطن واپس لوٹنے کا خواب پوری طرح سے بکھر چکا ہے۔  وادی کشمیر میں حالیہ دنوں میں حالات نے انتہائی بدصورت رخ اختیار کر لیا ہے۔ روزانہ  بے گناہوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔  اقلیتی برادریوں کے ملازمین سمیت معصوموں کی ٹارگٹ کلنگ نے ان ملازمین کو جموں بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔  وہ وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی احتجاج کر رہے ہیں اور ان کی فوری جموں منتقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    عسکریت پسندی اور  ملازمین کی ہلاکتوں میں اچانک اضافہ سامنے آنے کے بعد ان نوجوانوں کو کشمیر سے پھر سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اور ان کا جو گھر واپسی کا خواب تھا ایک بار پھر سے دہشت گردوں نے چکنا چور کر دیا ہے۔  2008-2009 میں اس پی ایم پیکیج کے اعلان کے بعد ان میں سے بہت سے لوگوں نے نجی شعبے میں ہائی پروفائل نوکریاں چھوڑ دی تھیں۔  پیکج میں شامل ہونے والے کے پی کے 6000 نوجوانوں میں سے سینکڑوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں سے استعفیٰ دے دیا تھا ، جس کا واحد مقصد دوبارہ مادر وطن کشمیر جا کر آباد ہونا تھا۔  لیکن اب وہ مایوس، پریشان ہیں اور وادی کی صورتحال پر واپس لوٹنے کا یہ فیصلہ لینے پر خود کو کوس رہے ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے : جموں وکشمیر: کشمیری پنڈتوں سے علمائے کرام کی بڑی اپیل، وادی چھوڑ کرنہ جائیں


    کشمیر پنڈتوں کے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اکثریتی برادری کے لوگوں سے بہت پیار مل رہا تھا اور یہاں تک کہ وہ بنیادی طور پر وادی کشمیر میں ٹرانزٹ کیمپوں یا کرائے کی رہائش گاہوں پر رہنے کے باوجود اپنے آبائی گھروں کا بھی رخ کرتے تھے۔  یہاں تک کہ ان کے والدین بھی گرمیوں کے دنوں میں کشمیر جاتے تھے ۔ اس طرح کشمیری پنڈتوں اور مسلم کمیونٹی کے ممبران کے درمیان رابطوں کا نیا دور شروع ہورہا تھا۔  لیکن اب ان پنڈت نوجوانوں کے والدین پریشان ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پنڈتوں کے لیے مستقبل قریب میں وادی میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے : جموں وکشمیرمیں ٹارگیٹ کلنگ: وزیرداخلہ امت شاہ نےکی دہلی میں ہائی لیول میٹنگ


    کشمیری پنڈت پی ایم پیکج کے ملازم روہت رائنا نے کہا "ہم اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔  ہم حالات ٹھیک ہونے تک وادی کشمیر سے جموں خطے میں منتقلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔  ہمیں نام نہاد محفوظ مقامات پر منتقل کرنا کوئی حل نہیں ہے۔  کشمیر میں کوئی محفوظ مقام نہیں ہے۔  ہم صرف جموں خطے میں اپنی مستقل منتقلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔“

    اوتار بھٹ کشمیری پنڈت پی ایم پیکج ملازم نے کہا "ہم حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایسا محسوس کر رہے ہیں جیسے ہم کوئی نوکری نہیں کررہے بلکہ ایک قیدی کی طرح سزا بھُگت رہے ہیں۔ اتنی ٹارگٹ کلنگ ہونے کے باوجود ہمیں نہ کوئی سیکیورٹی فراہم کی گئی نہ ہی ہمارے ٹرانسفر کو لے کر کوئی بات کی جارہی ہے۔ ہمیں صرف الیکشنز کا مدعا بنایا جاتا ہے“۔

     
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: