உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: کشمیری پنڈت وادی سے ایک مرتبہ پھر ہجرت کرنے پر مجبور، ٹارگٹ کلنگس کی وجہ سے کرنے لگے ہیں نقل مکانی، جانئے وادی میں رہ رہے کشمیری پنڈتوں کی درد بھری کہانی، ان ہی کی زبانی

    J&K News: کشمیری پنڈت وادی سے ایک مرتبہ پھر ہجرت کرنے پر مجبور، ٹارگٹ کلنگس کی وجہ سے کرنے لگے ہیں نقل مکانی، جانئے وادی میں رہ رہے کشمیری پنڈتوں کی درد بھری کہانی، ان ہی کی زبانی

    J&K News: کشمیری پنڈت وادی سے ایک مرتبہ پھر ہجرت کرنے پر مجبور، ٹارگٹ کلنگس کی وجہ سے کرنے لگے ہیں نقل مکانی، جانئے وادی میں رہ رہے کشمیری پنڈتوں کی درد بھری کہانی، ان ہی کی زبانی

    Jammu and Kashmir : جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں راجستھان سے تعلق رکھنے والےایک ہندو بینک منیجر وجے کمار کو دن دھاڑے اپنے دفتر میں دہشت گردوں کی جانب سے قتل کئے جانے کے بعد وادی میں وزیراعظم روزگار پیکیج کے تحت سرکاری نوکریاں انجام دینے والے کشمیری پنڈت مہاجرین کی خاصی تعداد اپنے اہل خانہ کے ساتھ کشمیر سے ہجرت کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : کشمیر میں ٹارگٹ کلنگس کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وادی میں مقیم غیر ریاستی ہندؤں اور کشمیری پنڈتوں کی کشمیر سے نقل مکانی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہرچکا ہے۔ دو جون کو جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں راجستھان سے تعلق رکھنے والےایک ہندو بینک منیجر وجے کمار کو دن دھاڑے اپنے دفتر میں دہشت گردوں کی جانب سے قتل کئے جانے کے بعد وادی میں وزیراعظم روزگار پیکیج کے تحت سرکاری نوکریاں انجام دینے والے کشمیری پنڈت مہاجرین کی خاصی تعداد اپنے اہل خانہ کے ساتھ کشمیر سے ہجرت کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

    اگر چہ سرکار کی جانب سے وادی میں قائم مائیگرینٹ کالونیوں کے باہر بھاری تعداد میں حفاظتی عملے کو تعینات کیا گیا ہے، تاکہ ان کالونیوں میں رہائش پذیر کشمیری پنڈت مہاجر کشمیر چھوڑ کر نہ جائیں۔ تاہم وادی کے مختلف علاقوں میں کرایہ کے مکانوں میں رہائش پذیر کشمیری مہاجرین ملازمین کی خاصی تعداد نے آج کشمیر سے نقل مکانی کی۔ بارہ مئی کو کشمیری پنڈت ملازم راہل بھٹ کی بڈگام ضلع کے چاڈورہ علاقے میں دہشت گردوں کی جانب سے قتل کئے جانے کے روز سے ہی وزیراعظم روزگار پیکیج کے تحت کشمیر میں کام کرنے والے ملازمین نے ہلاکتوں کے خلاف احتجاج شروع کیا، جو ابھی تک جاری ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : وادی میں ٹارگیٹ کلنگ: کولگام میں دہشت گردوں نے بینک ملازم کا گولی مار کر کیا قتل


    ان احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ حالات کے سبب کشمیر میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں لہذا انہیں کشمیر سے باہر کیاجائے۔ حالانکہ ایل جی انتظامیہ کی جانب سے یہ حکم نامہ بھی جاری کیاگیا ہے کہ حساس علاقوں میں ڈیوٹی انجام دینے والے کشمیری پنڈت اور دیگر ہندو سرکاری ملازمین کو ضلع صدر مقامات پر منتقل کرکے ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا ۔ تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ وادی میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے وہ کشمیر میں کام نہیں کرسکتے۔

    اننت ناگ ضلع ویسو مائیگرینٹ کالونی میں مقیم سنی رینہ نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ سرکاری اعلانات صرف فائلوں تک ہی محدود ہیں ۔ لہذا ملازمین کو ہجرت کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔" سرکاری اعلانات سے کچھ نہیں ہوگا یہاں حالات قابو سے باہر ہیں میں سرکار سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمیں بلی کا بکرا نہ بنائے ۔ لہذا ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ ہم نے ایل جی منوج سنہا کو بھی یاداشت کے ذریعے سے یہ بتایا ہے کہ ہمیں بچاؤ۔ ہم اپنی دیواروں پر مزید شہداء کی تصویریں چسپاں نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کشمیر سے باہر منتقل کیاجائے"۔

     

    یہ بھی پڑھئے : کشمیر میں ہندوؤں کی ٹارگیٹ کلنگ کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ


    ایک اور ملازم سنجیو نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ کشمیر میں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔ لہذا ہمارے لئے یہاں رہنا ناممکن ہے"۔ وادی میں ٹارگٹ کلنگس کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے، ہر روز دہشت گرد کسی نہ کسی عام شہری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کلگام میں گزشتہ تین روز کے دوران اقلیتی فرقے سے وابستہ دو افراد کا قتل کیا گیا۔ یہاں تو اب انیس سو نوے جیسے حالات دوبارہ پیدا ہوچکے ہیں اور ایسے حالات میں کشمیر میں رہنا خطرے سے خالی نہیں۔"

    سماجی رابطہ سائٹ پر وائرل ویڈیو میں کشمیر میں مقیم ایک کشمیری پنڈت لڑکی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات روز بہ روز بگڑتے جارہے ہیں ،" ہم کئی روز سے سرکار سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں محفوظ مقامات پر منتقل کیاجائے۔ کشمیر میں مقیم ہر ایک ہندؤ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہا ہے ہم یہاں کئی برسوں سے رہ رہے ہیں لیکن آج کل کے حالات سے صاف ظاہر ہے کہ حالات سرکار کے قابو سے باہر ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم روزگار پیکیج کے کام کرنے والے تمام ملازمین ، جو کرایہ کے مکانوں میں رہ رہے ہیں نے وادی سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم اب یہاں واپس نہیں آنا چاہتے ہیں ہر دن ہمارے کسی نہ کسی ساتھی کا قتل کیا جارہاہے جو ہم برداشت نہیں کرسکتے "۔

    واضح رہے کہ دہشت گردوں نے یکم مئی سے اب تک کشمیر میں آٹھ نہتے شہریوں کا قتل کیا ْ  سرکار کی جانب سے اس روش پر قابو پانے کے لئے تمام سطحوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم ابھی تک ٹارگٹ کلنگس پر قابو پایا نہیں جاسکا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: