உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: کشمیری پنڈتوں نے جموں میں وادی میں ہورہی ٹارگیٹ کلنگس کے خلاف کیا احتجاج، کیا یہ بڑا مطالبہ

    Kashmir Pandits Protest : احتجاج میں کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان لوگوں نے بینر بھی اپنے ہاتھوں میں اٹھائے تھے جن پر سرکار سے مانگ کی گئی تھی کہ وہ کشمیر میں کام کر رہے سبھی ہندو ملازمین کو تب تک جموں منتقل کردے، جب تک کشمیر میں پوری طرح سے امن کا ماحول قائم نہیں ہوجاتا  ہے۔

    Kashmir Pandits Protest : احتجاج میں کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان لوگوں نے بینر بھی اپنے ہاتھوں میں اٹھائے تھے جن پر سرکار سے مانگ کی گئی تھی کہ وہ کشمیر میں کام کر رہے سبھی ہندو ملازمین کو تب تک جموں منتقل کردے، جب تک کشمیر میں پوری طرح سے امن کا ماحول قائم نہیں ہوجاتا ہے۔

    Kashmir Pandits Protest : احتجاج میں کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان لوگوں نے بینر بھی اپنے ہاتھوں میں اٹھائے تھے جن پر سرکار سے مانگ کی گئی تھی کہ وہ کشمیر میں کام کر رہے سبھی ہندو ملازمین کو تب تک جموں منتقل کردے، جب تک کشمیر میں پوری طرح سے امن کا ماحول قائم نہیں ہوجاتا ہے۔

    • Share this:
    جموں : جب سے کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ کا سلسلہ چل پڑا ہے، تب سے وہاں پر رہنے والے امن پسند لوگوں میں خوف و ڈر کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ گزشتہ دو مہینے سے ملی ٹینٹوں نے جس طرح عام لوگوں کو نشانہ بنایا ہے، اس سے ایل جی انتظامیہ بھی  پریشان ہے۔ کشمیری پنڈت ملازم راہل بٹ اور اس کے بعد رجنی بالا کے قتل کے بعد کشمیری پنڈت اور کشمیر وادی میں کام کررہے جموں سے تعلق رکھنے والے ہندو ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ کشمیر وادی کی اگر بات کریں تو وہاں ویسو، مٹن، کپواڑہ، ہال، شیخ پورہ اور دیگر جگہوں پر پی ایم پیکیج کے تحت نوکری کر رہے ملازمین لگاتار دھرنے دے کر احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں۔ وہ سرکار سے مانگ کر رہے ہیں کہ ان کو جلد سے جلد جموں میں تعینات کیا جائے۔ اسی سلسلے میں آج جموں میں پریم ناتھ بٹ میموریل ٹرسٹ کی طرف سے ایک احتجاجی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ٹارگٹ کلنگ کیلئے ہائبریڈ دشت گردوں کو استمال میں لایا جارہا ہے: انٹلی جنس ذرائع


    احتجاج میں کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان لوگوں نے بینر بھی اپنے ہاتھوں میں اٹھائے تھے جن پر سرکار سے مانگ کی گئی تھی کہ وہ کشمیر میں کام کر رہے سبھی ہندو ملازمین کو تب تک جموں منتقل کردے، جب تک کشمیر میں پوری طرح سے امن کا ماحول قائم نہیں ہوجاتا  ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ جس طرح سے ملی ٹینٹ ایک ہی فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر میں اس وقت کوئی بھی محفوظ نہیں ہے اور اس لئے ان ملازمین کی جموں منتقلی جلد سے جلد کی جانی چاہئے۔

    احتجاج میں حصہ لے رہے ایک ملازم راکیش بھان نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ کئی برسوں سے کشمیر وادی میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ، لیکن جس طرح سے حالات نے کروٹ لی ہے تو ان کے لئے بڑی مشکل پیدا ہوگئی ہے۔ ایسی صورت میں راکیش نے سرکار سے مانگ کی کہ وہ  تب تک ان لوگوں کو جموں میں ہی ڈیوٹی انجام دینے کی اجازت دے، جب تک کشمیر میں حالات معمول پر نہیں آتے۔ انہون نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ ان کا خاص لگاو اور پیار ہے اور وہ ہر حال میں کشمیر واپس جائیں گے، لیکن  ابھی سرکار کو یہ ماننا چاہئے کہ اقلیتوں کے لئے کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

    ایک اور  احتجاجی سُریندر کول نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایل جی انتظامیہ نے جس طرح سے بین ضلعی ٹرانسفر کو عمل میں لایا ہے، اس سے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئے گی اور اس اقدام سے بھی اقلیتی طبقہ کے ملازم محفوظ نہیں ہوسکتے ۔ لہذا ایسے سبھی ملازمین کوفی الحال جموں میں تعینات کیا جائے اور حالات میں بہتری کے بعد ہی پی ایم پیکیج کے ملازمین کو کشمیر میں دوبارہ تعینات کیا جائے۔ اسی طرح ایک اور احتجاجی بٹو جی نے مودی سرکارکے ان دعوں کو بے بنیاد قرار دیا ، جن میں جموں وکشمیر سے دفعہ تین سو ستر ہٹائے جانے کے بعد حالات میں بہتری آنے کی بات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لئے ایک واضح پالیسی مرتب کرنی چاہئے اور اسی پالییسی کے تحت ان ملازمین کو بھی واپس کشمیر میں تعینات کیا جانا چاہئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : کشمیر میں لگاتار ٹارگٹ کلنگ سے کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا خواب پھر چکنا چور


    ادھر جموں خطے سے تعلق رکھنے والے ایس سی اور ایس ٹی کے ان ملازمین نے بھی اپنا احتجاج جاری رکھا ہے، جو کشمیر میں اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ انہیں جموں میں تعینات کیا جائے۔ یہ احتجاج منظم کرنے کے انچارج موہن لعل نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رجنی بالا اور راہل بٹ کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں کوئی بھی ملازم محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر میں گزشتہ پندرہ سال سے نوکری کر رہے ہیں اور اب انہیں واپس اپنے اپنے ضلع میں بھیجا جانا چاہئے۔

    ایک اور احتجاجی دیپک کمار نے کشمیر کے عام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بھائی چارے کی مثال کو بحال کرتے ہوئے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: