ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

PUBG پر پابندی کا کشمیر کے نوجوانوں نے کیا خیر مقدم ، کہی یہ بڑی بات

ہند ۔ چین کے درمیان سرحد پر جاری کشیدگی کے دوران PUBG کے علاوہ دیگر ایک سو سے زائد چینی ایپ پر ہندوستان میں پابندی عاید کرنے کے فیصلہ کا عام لوگوں کے علاوہ سماجی کارکُنان نے بھی خیرمقدم کیا ہے ۔

  • Share this:
PUBG پر پابندی کا کشمیر کے نوجوانوں نے کیا خیر مقدم ، کہی یہ بڑی بات
PUBG پر پابندی کا کشمیر کے نوجوانوں نے کیا خیر مقدم ، کہی یہ بڑی بات

وادی کے دیگر حصوں کی طرح ہی ضلع پلوامہ میں بھی بیشتر افراد جن میں نوجوان بھی شامل ہیں ، نے PUBG پر پابندی کا خیرمقدم کیا ہے ۔ کووڈ 19 کے سبب لاک ڈاون کے طویل پانچ ماہ کے دوران گھروں میں ہی رہنے سے نوجوان زیادہ تر موبایل فون میں مختلف گیموں کی طرف زیادہ راغب ہوگئے تھے  ۔ اس میں china کا مشہور موبائل گیم PUBG  بچوں سے لیکر نوجوانوں میں کافی مقبول رہا ۔ لاک ڈوان کی وجہ سے بچوں اور نوجوانوں میں PUBG کا رحجان کافی بڑھ گیا تھا ۔ ضلع پلوامہ میں بھی PUBG کی طرف رحجان بڑھ جانے کے دوران ایک نوجوان کی جانب سے خود کشی جیسا واقعہ بھی پیش آیا ، جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں کافی تشویش پیدا ہوگئی تھی ۔


تاہم اب ہند ۔ چین کے درمیان سرحد پر جاری کشیدگی کے دوران PUBG کے علاوہ دیگر ایک سو سے زائد چینی  ایپ پر ملک میں پابندی عاید کرنے کے فیصلہ کا عام لوگوں کے علاوہ سماجی کارکُنان نے بھی خیرمقدم کیا ہے ۔ ضلع پلوامہ میں بھی بچے اور نوجوان لاک ڈاون کے دوران گھروں میں محصور ہوکر صرف موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف رہتے تھے ۔ تاہم لاک ڈاون ختم ہونے اور اب PUBG جیسے گیم پر پابندی عائد ہونے سے پلوامہ میں بھی نوجوانوں نے کھیل کے میدانوں کا رخ کرنا شروع کردیا ہے ۔


جہاں پلوامہ کے مختلف کھیل کے میدانوں میں نوجوانوں نے کھیل کود شروع کردیا ہے ۔ وہیں ضلع پلوامہ میں کھیلوں کا بُنیادی ڈھانچہ خستہ حالی کاشکار ہونے سے نوجوانوں میں کافی مایوسی ہے ۔ محکمہ یوتھ سروس اینڈ اسپورٹس اور اسپورٹس کونسل کی عدم دلچسپی کے سبب ضلع پلوامہ کے اکثر کھیل کے میدانوں کی حالت کافی خستہ ہے ۔ جبکہ نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے کے لیے بھی کویی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا جارہا ہے ۔ پلوامہ کے اسپورٹس اسٹیڈیم میں کُچھ نوجوانوں نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ یوتھ سروس اینڈ اسپورٹس اور اسپورٹس کونسل کی جانب سے کھیلوں کے حوالے سے پلوامہ میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ، جس کی وجہ سے بچے اور نوجوان موبائل گیموں میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں ۔


سماجی کارکُن غلام حسن طالب کا کہنا ہے کہ نوجوانوں اور بچوں کی نشو نما کے لیے کھیلوں کی طرف انہیں راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، جس کے لیے حکومت اور سماجی تنظیموں کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ ابھی تک ضلع پلوامہ میں لاک ڈاون کے بعد حکومت کی جانب سے کھیلوں کے حوالے سے کویی ٹھوس پروگرام عمل میں نہیں لایا گیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 03, 2020 11:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading