உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان گئے 17 کشمیری نوجوان دہشت گردی مخالف مہم میں مارے گئے، کچھ کو دی گئی تھی ہتھیاروں کی ٹریننگ

    پاکستان گئے 17 کشمیری نوجوان دہشت گردی مخالف مہم میں مارے گئے

    پاکستان گئے 17 کشمیری نوجوان دہشت گردی مخالف مہم میں مارے گئے

    Jammu Kashmir, Kashmir News, anti-terrorist operations: افسران نے کہا کہ جموں وکشمیر کے سینکڑوں طلبا نے حال کے سالوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے پاکستان کا سفر کیا ہے اور ان میں سے کچھ کو ورغلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی طلبا کو ہتھیاروں کی ٹریننگ دی گئی یا سلیپر سیل میں بھرتی کیا گیا تاکہ سرحد پار بیٹھے ہینڈلر کے ساتھ شیئر کرنے کے لئے جانکاری جمع کی جاسکے۔

    • Share this:
      سری نگر: درست سفری دستاویزات پر پاکستان (Pakistan News) گئے 17 ایسے کشمیری نوجوان جوکہ چپکے سے وادی میں واپس لوٹے تھے، وہ دہشت گردی مخالف مہم (Anti-Terrorist Operations) میں مارے گئے ہیں۔ یہ جانکاری افسران نے دی۔ افسران نے تشویش ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے یہاں دہشت گردی کو غیر ملکی تحریک کو بطور تصویر پیش کرنے کی نئی حکمت عملی بنائی ہے۔

      انہوں نے بتایا کہ سال 2015 کے بعد سے بڑی تعداد میں نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے، رشتہ داروں سے ملنے یا شادی کے مقصد سے پاکستان جانے کے لئے سفری دستاویز حاصل کئے۔ حال ہی میں، ملک کے اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے ریگولیٹرز- یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن نے ایک بیان جاری کیا، جس میں طلباء کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے پاکستان کا سفر نہ کریں۔

      افسران نے کہا کہ اس کی وجہ یہ رہی کہ ان نوجوانوں کو سرحد پار ورغلایا گیا تھا اور ان میں سے کچھ کو ہتھیاروں کی ٹریننگ دی گئی تھی یا منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

      جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے ایک حریت رہنما اور دیگر کے خلاف پاکستان کے مختلف کالجوں میں ایم بی بی ایس کی نشستیں بیچنے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے چارج شیٹ داخل کی ہے۔

      حکام نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں جموں وکشمیر کے سینکڑوں طلباء اعلیٰ تعلیم کے لئے پاکستان گئے ہیں اور ان میں سے کچھ کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے طلباء کو ہتھیاروں کی تربیت دی گئی یا انہیں سلیپر سیل میں داخل کرایا گیا تاکہ وہ سرحد کے اس پار بیٹھے ہینڈلرز کے ساتھ معلومات جمع کر سکیں۔

      افسران نے کہا کہ اس کے لئے، ایک مضبوط علیحدگی پسند لابی حریت رہنماؤں سے سفارشی خطوط کے ساتھ ساتھ پاکستانی سفارت خانے سے دیگر قانونی سفری دستاویزات حاصل کرنے کا انتظام کرتی ہے تاکہ داخلہ کے لئے پاکستان کا سفر کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لے جاکر طلبا اور ان کے والدین کے رہنے سمیت دیگر سبھی انتظامات عام طور پر علیحدگی پسندوں کے ذریعہ پاکستان میں موجود ان کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر منصوبہ بند طریقے سے کیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: