உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیرپرنہرو کی 5غلطیاں ۔ حقیقی کہانی؟،پڑھیں مرکزی وزیرکرن ریجوجوکاتازہ مضمون

    Youtube Video

    مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت 15 اگست 1947 سے پہلے ہی ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتی تھی لیکن نہرو نے انکار کر دیا۔ یہ دعویٰ خود نہرو کے بیانات میں کیاگیا تھا اور کسی نے نہیں کیاتھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      کرن ریجوجو:

      ایک حالیہ مضمون جو میں نے کشمیر پر نہرو کے ’پانچ بھول‘ یا ’پانچ غلطیوں‘ پر لکھا تھا، اس نے مختلف ردعمل کو دعوت دی ہے۔ دوسری باتوں کے علاوہ میں نے لکھا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت 15 اگست 1947 سے پہلے ہی ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتی تھی لیکن نہرو نے انکار کر دیا۔ یہ دعویٰ خود نہرو کے بیانات میں کیاگیا تھا اور کسی نے نہیں کیاتھا۔

      اسی تناظر میں میرے مضمون پر ڈاکٹر کرن سنگھ کا ردعمل بہت مایوس کن ہے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ نے نہرو کی دیگر چار غلطیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کردیاہے۔ انہوں نے ازخود جائزہ پر اصرار کرتے ہوئے کہ الحاق کو عارضی قرار دیاہے۔ پاکستان پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کو غلط آرٹیکل کے تحت منتقل کرنا اور اسے جارح کی بجائے تنازعہ کا فریق بنانا۔ اقوام متحدہ کے لازمی رائے شماری کے افسانے کو برقرار رکھنے اور تقسیم کرنے والے آرٹیکل 370 کی تخلیق کی اجازت دینا۔

      لیکن پہلی اور بنیادی غلطی پر ، نہرو نے خود الحاق میں تاخیر کی ۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے ایک من گھرٹ تاریخ پیش کی ہے، ناقص الفاظ کا سہارا لیا ہے، اور وہ بھی کسی نہ کسی طرح نہرو کو نکالنے کے چکر میں۔ حالانکہ کانگریس پارٹی کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔ نہرو کے لیے زندگی بھر کی عقیدت، نہرو کی غلطیوں کے بے شمار ثبوتوں کے باوجود، ڈاکٹر کرن سنگھ کو کانگریس کے جے رام رمیش کی طرف سے ان کی جگہ کی یاد دہانی سے نہیں بچا سکی۔

      یہ ایک اچھی طرح سے قائم حقیقت ہے کہ کانگریس اور اس کے حکمران خاندان نے نہرو (اور خاندان کے بعد کے ارکان) کو پہلے اور ہندوستان کو دوسرے نمبر پر رکھا، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تاریخ کے طالب علموں کو حقائق کی روشنی میں تاریخ کو درست کرنے ، نہرو کو اچھا دکھانے کیلئے فیملی کے مورخین کے ذریعہ غط طریقہ سے بدنام کئے گئے لوگوں کے نام کو صاف کرنے کی جرات ملے ۔

      اٹھائے گئے مخصوص نکات کے لیے یہاں حقائق کا ایک مختصر سیٹ دیا گیا ہے۔

      الحاق کے وقت پر

      اس کے بارے میں 24 جولائی 1952 کو لوک سبھا میں کی گئی نہرو کی تقریر فیصلہ کن ہونی چاہئے ، جہاں انہوں نے تذکرہ کیا کہ الحاق کا سوال 'ہمارے سامنے غیر رسمی طور پر لگ بھگ جولائی یا جولائی کے وسط میں آیا تھا' اور آگے کہا کہ 'وہاں ہماری مقبول تنظیم نیشنل کانفرنس اور اس کے لیڈر اور مہاراجا کی سرکار کے ساتھ بھی ہمارا رابطہ تھا' ۔ تب نہرو نے اسی زبان میں اپنے خود کے رخ پرزور دیا : 'ہم نے دونوں کو مشورہ دیا تھا کہ کشمیر ایک خاص معاملہ ہے اور وہاں چیزوں کو جلد بازی میں کرنے کی کوشش کرنی صحیح یا مناسب نہیں ہوگی' ۔ چونکہ اس تاریخ کی تردید کیلئے گھماو دار طریقوں کا سہارا لیا گیا ہے، اس لئے آئیے ہم آگے کے پرائمری اور ساتھ ہی تصدیقی شواہد کو دیکھیں ۔

      سب سے پہلے 21 اکتوبر 1947 کو کشمیر کے وزیر اعظم ایم سی مہاجن کو ایک خط میں نہرو نے لکھا : 'اس سطح پر انڈین یونین کے لئے کسی بھی طرح کے جڑاو کا اعلان کرنا ممکنہ طور پر ناپسندیدہ ہوگا' ۔ یہ الفاظ کیا پیغام دیتے ہیں؟ کون الحاق کی مانگ کررہا تھا اور کون اس میں تاخیر کررہا تھا؟ پاکستان پہلے ہی 20 اکتوبر 1947 کو کشمیر پر حملہ کرچکا تھا ۔ ایک دن بعد 21 اکتوبر کو نہرو ابھی بھی کشمیر سرکار کو مشورہ دے رہے تھے کہ جب تک ان کی ذاتی خواہشات اور ایجنڈہ پورا نہیں ہوجاتا، تب تک وہ کشمیر سرکار کو ہندوستان میں شامل نہیں ہونے کا مشورہ دے رہے تھے (جس کا انہوں نے اسی خط میں صاف طور پر تذکرہ کیا ہے) کیا اس ثبوت کی بھی تردید کی جائے گی ؟

      دوسرا، جب یہ معاملہ ابھی بھی بین الاقوامی سطح پر ابھر ہی رہا تھا، 25 نومبر 1947 کو پارلیمنٹ میں کی گئی گئی ایک تقریر میں نہرو نے کہا : 'ہم اوپر سے صرف ایک الحاق نہیں چاہتے تھے بلکہ ان کے لوگوں کی خواہش کے مطابق ایک الحاق چاہتے تھے۔ حقیقت میں ہم نے کسی تیز فیصلہ کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے ۔'

      دن کے اجالے کی طرح صاف ہے کہ ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مواقع پر نہرو نے خود کہا کہ کون الحاق پر شرائط لگا رہا تھا اور اس طرح اس کو تب تک کیلئے ٹال دیا گیا جب تک کہ شخصی ایجنڈہ پورا نہیں ہوگیا ۔

      لیکن یہ ایک واحد ثبوت نہیں ہے ، حالانکہ یہ کافی سے زیادہ دستیاب ہیں جو واقعات کی سیریز پر روشنی ڈالتے ہیں ۔

      تیسرا، انڈین نیشنل کانگریس کے صدر اچاریہ کرپلانی نے مئی 1947 میں کشمیر کا دورہ کیا ۔ 20 مئی 1947 کو دی ٹریبیون میں شائع ایک رپورٹ میں کرپلانی کے خیالات کے بارے میں یہ درج کیا گیا کہ 'ہری سنگھ ہندوستان میں شامل ہونے کی خواہشمند تھے اور ہری سنگھ کے خلاف نیشنل کانفرنس کی جانب سے 'کشمیر چھوڑو' کی مانگ اٹھانی صحیح نہیں تھی ۔ یہ کہتے ہوئے کہ وہ ایک باہری شخص نہیں ہیں ۔۔۔' انہون نے نیشنل کانفرنس سے خاص طور پر 'کشمیر چھوڑو' کی مانگ کو چھوڑنے کی اپیل کی ۔

      1946 میں شیخ عبداللہ نے 'کشمیر چھوڑو' تحریک شروع کی تھی ۔ نہرو نے اس تحریک کو اپنی حمایت دی تھی ۔ ایک ڈوگرا راجہ ہری سنگھ کشمیر کیلئے ایک باہری شخص نہیں تھے اور کشمیروادی میں کسی اور کے جتنے ان کے بھی حقوق تھے ۔ نو آبادیاتی انگریزوں کے خلاف 'بھارت چھوڑو' کی اپیل کو کشمیری ہندو حکمراں کے خلاف 'کشمیر چھوڑو' کی اپیل کے ساتھ دوہرانے کے بے تکے پن کو ہر دوسرے کانگریسی لیڈر نے تو سمجھا تھا ، پھر بھی نہرو نے عبداللہ کی جم کر حمایت کی اور یہاں تک کہ ان کی حمایت کرنے کیلئے کشمیر پہنچ گئے ۔ اس نے واقعات کی ایک سیریز شروع کی، جس کے دہائیوں طویل المناک نتائج برآمد ہوئے ۔

      1931 کی شروعات میں لندن میں گول میز کانفرنس کے دوران ہری سنگھ نے ہاوس آف لارڈس کے چیمبر آف پرنسیز کے وائس چانسلر کے طور پر کہا تھا کہ 'میں پہلے ہندوستانی ہوں اور پھر مہاراجہ ہوں۔' اسی طرح وہی ہری سنگھ صاف طور سے 1947 میں کئی مواقع پر ہندوستان میں شامل ہونے کی فریاد کرچکے تھے ، لیکن نہرو کے ایجنڈے کے پورا ہونے تک ہر موقع پر انہیں ناکام کردیا گیا ۔

      چوتھا ، جون 1947 میں کشمیر کے اپنے دورہ سے پہلے لارڈ ماونٹ بیٹن کو نہرو کا نوٹ اس بات پر واضح ہے کہ ہری سنگھ حقیقت میں کیا چاہتے تھے ۔ نہرو نے اس نوٹ کے پیرا 28 میں لکھا : 'ہندوستان کے آئینی اجلاس میں شامل ہونے کیلئے کشمیر کی عام اور واضح خواہش ظاہر ہوتی ہے ۔ یہ مقبول مانگ اور مہاراجہ کی خواہش دونوں کو پورا کرے گا' ، اس لئے جون 1947 میں نہرو پوری طرح سے واقف تھے کہ ہری سنگھ حقیقت میں کیا چاہتے ہیں ۔ اس میں ایک واحد رکاوٹ نہرو کا اپنا ذاتی ایجنڈہ تھا ۔

      پانچواں، جولائی 1947 میں الحاق کی کوشش کو نہرو نے خارج کردیا تھا ۔ پاکستان کے حملہ سے پہلے ایک مہینے پہلے ہری سنگھ نے ستمبر 1947 میں بھی ایک کوشش کی تھی ۔ الحاق کے وقت کشمیر کے وزیر اعظم مہاجن ستمبر 1947 میں نہرو کے ساتھ اپنی میٹنگ کو یاد کرتے ہیں ۔ اپنی بائیوگرافی میں لکھتے ہیں کہ 'میں ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے بھی ملا تھا ۔۔۔۔۔ مہاراجہ ہندوستان میں شامل ہونے کیلئے تیار تھے اور ریاست کی حکمرانی یں ضروری سدھار لانے کیلئے بھی ۔ حالانکہ وہ چاہتے تھے کہ انتظامی اصلاحات کے سوالوں کو بعد میں لیا جائے ، پنڈت جی ریاست میں اندرونی انتظامیہ میں فوری تبدیلی چاہتے تھے ۔'

      اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مواقع پر نہرو کے بیان اور نہرو کے ذریعہ لکھے گئے خط تصدیقی ثبوتوں کے ساتھ صاف طور پر اس حقیقت کو قائم کرتے ہیں کہ کشمیر کے ہندوستان میں الحاق میں تاخیر کی ایک واحد وجہ نہرو کی اپنی ذاتی سنک تھی ۔

      حقیقت میں کیا ہوا

      عبداللہ نے مئی 1946 میں 'کشمیر چھوڑو' کی مانگ کی ۔ ہری سنگھ نے 20 مئی 1946 کو انہیں گرفتار کروا دیا ۔ اس کے بعد نہرو عبداللہ کی حمایت کرنے کشمیر چل پڑے ، لیکن ہری سنگھ نے انہیں سرحد پر حراست میں لے لیا ۔ نہرو کو حراست میں لئے جانے کے بعد ان کے رد عمل کے بارے میں ان کے ایک قریبی نے کچھ اس طرح درج کیا : 'انہوں نے غصہ میں اپنے پاوں زمین پر پٹکے اور کہا کہا کہ ایک دن کشمیر کے مہاراجہ کو انڈین نیشنل کانگریس کے منتخب صدر کے تئیں بے رخی دکھانے کیلئے پچھتانا ہوگا اور معافی مانگنی پڑے گی۔' نہرو کافی ناراض تھے اور اس بے رخی کا بدلہ لینے کیلئے بے دردی کے ساتھ اپنا وقت منتخب کیا ۔

      1947 کے واقعات کا سلسلہ

      کرپلانی نے مئی 1947 میں 'کشمیر چھوڑو' کی مانگ چھوڑ کر ہندوستان کے ساتھ ملنے پر زور دیا ۔ یہی چیز ہری سنگھ بھی چاہتے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا ۔

      نہرو کو یہاں تک کہ جون 1947 میں پتہ تھا کہ ہری سنگھ بھی انڈین یونین میں ملنا چاہتے ہیں ۔ نہرو نے ماونٹ بیٹن کو لکھے خطوط میں اس بات کا تذکرہ بھی کیا ہے ۔

      ہری سنگھ کی سرکار نے ہندوستان میں شامل ہونے کیلئے ہندوستانی قیادت سے جولائی 1947 (نہرو کے ان کے اپنے بیان کے مطابق) میں رابطہ کیا ، لیکن نہرو نے اس کو خارج کردیا ۔ کسی بھی دیگر راجواڑے کیلئے ہندوستان میں الحاق کو منظوری دینے کیلئے عوام کی حمایت کی شرط نہیں رکھی گئی تھی ۔ ایسا کرنا نہ تو قانونی طور پر ضروری تھا اور نہ ہی ایسا کرنے کیلئے کسی نے مجبور کیا تھا ۔ صرف کشمیر کیلئے نہرو نے ایسا کیا تاکہ تب تک الحاق کو ٹالا جاسکے ، جب تک کہ عبداللہ کی مانگ پوری نہیں ہوجاتی ۔

      اس کے بعد بھی بضد ہری سنگھ نے پھر کوشش کی ۔ اس مرتبہ ایک نئے شخص کے ذریعہ ، وہ شخص تھے کشمیر کے نئے وزیر اعظم مہاجن ۔ انہوں نے ستمبر 1947 میں ہندوستان میں الحاق کیلئے ذاتی طور پر نہرو سے رابطہ کیا ۔ اس مرتبہ ہری سنگھ کشمیر کی انتظامیہ میں تبدیلی کو لے کر نہرو کی زیادہ تر مانگوں کو ماننے کیلئے تیار تھے ، لیکن انہوں نے صرف اتنی اپیل کی کہ یہ سب چیزیں الحاق کے بعد کی جائیں گی ۔ نہرو تب بھی بضد ہوئے تھے اور انتظامیہ میں تبدیلی چاہتے اور پہلے عبد اللہ کی تاج پوشی اور پھر الحاق چاہتے تھے ۔

      نہرو کے اس ضدی رویہ کو دیکھتے ہوئے ہری سنگھ نے آگے اور نرمی برتی اور 29 ستمبر 1947 کو عبد اللہ کو جیل سے رہا کر دیا ۔ اس نرم رخ کے ساتھ ہری سنگھ کی سرکار نے پھر سے 20 اکتوبر 1947 کو ہندوستان میں الحاق کیلئے نہرو سے رابطہ کیا ۔ نہرو نے ایک مرتبہ پھر 21 اکتوبر کو خط لکھ کر اس سے انکار کردیا اور اس مرتبہ وہ جو چاہتے تھے اس کو تحریر میں دیدیا ۔ انہوں نے لکھا : 'ریاستی سرکار کے سربراہ کے طور پر عبد اللہ کی تاج پوشی' ۔ نہرو اپنی مانگ کے سلسلے کو لے کر پوری طرح سے واضح تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے عبد اللہ کی تاج پوشی پھر ہندوستان میں الحاق ۔

      اگر کسی کو ان غیر متنازع واقعات کے اس سلسلہ کو لے کر کوئی بھی شک ہے تو اس کیلئے ایک اور ثبوت ہے ۔ نہرو نے ایک مرتبہ پھر تحریری طور پر یہ باتیں کہی ہیں ۔ 27 ستمبر 1947 کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کو لکھے ایک خط میں نہرو کہتے ہیں کہ 'مہاراجہ کے سامنے کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے ، وہ شیخ عبد اللہ اور نیشنل کانفرنس کے لیڈروں کو رہا کرنے کیلئے ان سے دوستانہ رابطہ کریں، ان سے تعاون لیں اور انہیں یہ محسوس کروائیں کہ حقیقت میں ایسا کیا گیا اور اس کے بعد ہندوستان میں الحاق کا اعلان کریں۔'

      نہرو کشمیر میں ہندوستان کے الحاق کے بعد ہری سنگھ کو اپنے حساب سے کچھ بھی کرانے کیلئے مجبور کرسکتے تھے، بالکل ایسا ہی دیگر راجواڑوں کے ساتھ ہوا بھی ۔ منطقی طور سے اور کامن سینس کے حساب سے بھی یہی صحیح تھا کہ نہرو پہلے قومی مفادات میں ملک کو ایک دھاگے میں باندھیں اور کشمیر کا ہندوستان میں الحاق کروا کر پاکستان کیلئے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دروازے بند کردیں ۔ اس کے بعد وہ اگر عبد اللہ کو لے کر اتنے بضد ہوئے تھے تو ان کو سرکار کا سربراہ بنا دیتے ۔ ایسا کرنا 'انڈیا فرسٹ' کی پالیسی ہوتی ، لیکن کچھ غلط وجوہات سے نہرو نے عبداللہ کو پہلے اور ہندوستان کو بعد میں رکھا ۔

      آخر میں تاریخ نے اپنے حساب سے کروٹ بدلی ۔ پاکستان کو کشمیر میں دراندازی کرنے کا وقت مل گیا اور وہ ایک حصہ دار بن گیا اور ایک بڑے حصے کو قبضہ میں لے لیا ۔ اس کے بعد کشمیر میں جو ہوتا رہا ہے ، وہ سب اس بنیادی گناہ کی وجہ سے ہوا ۔

      ہری سنگھ کیلئے حقیقت میں وہ 'کوئٹ کشمیر' چاہتے تھے ، آخر کار بعد میں صرف ان کی راکھ ہی لوٹی ۔

      پاکستانی حملہ کی پیشیگی خفیہ اطلاع کے بارے میں

      ڈاکٹر کرن سنگھ نے بھی اپنی تحریر میں پاکستانی حملہ کے بارے میں پیشگی خفیہ اطلاع نہ ہونے کا تذکرہ کیا ہے ۔ شاید ان کی باتوں کا یہ مطلب ہے کہ ہری سنگھ کے پاس انٹلی جنس ان پٹ نہیں تھا ۔ یہ بات پنڈت جواہر لال نہرو کے بارے میں سچ نہیں ہے ۔ 25 نومبر 1947 کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر میں نہرو نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہیں پہلے ہی اس کی جانکاری مل گئی تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'ستمبر میں ہمارے پاس اطلاع پہنچی تھی کہ شمال ۔ مغربی سرحد کے قبائلیوں کو جمع کرکے کشمیر سرحد پر بھیج دیا گیا تھا '۔ اسی تقریر میں انہوں نے مزید کہا تھا : 'تقریبا اسی وقت ریاست نے ہم سے ہتھیار اور گولہ بارود مانگے تھے، ہم لوگ اس عام طریقہ سے ان تک پہنچانے کیلئے تیار ہوگئے تھے۔' لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے معاملہ کے مزید سنگین رخ اختیار کرلیتے تک کسی بھی طرح کی سپلائی نہیں کی گئی تھی ۔

      اس تقریر سے پہلے نہرو نے دو نومبر 1947 کو کشمیر معاملہ پر قوم کو خطاب کیا تھا ۔ اپنی طویل تقریر میں نہرو نے کہا تھا کہ 'کشمیر ریاست نے ہم لوگوں سے ہتھیار مانگے تھے، لیکن ہم لوگوں نے اس کو لے کر کسی طرح کا فوری قدم نہیں اٹھایا ۔ ہماری ریاست اور وزارت دفاع کی جانب سے اس کی منظوری دئے جانے کے باوجود حقیقت میں ہتھیار نہیں بھیجے گئے ۔'

      اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نہرو خطہ کی سیکورٹی کو لے کر کس طرح کا غیر حساس کردار ادا کررہے تھے ۔ اپنی مانگوں کے تسلیم کئے جانے کیلئے وہ اس کو (کشمیر پر حملے کے دوران ہتھیاروں کی سپلائی) ٹول کے طور پر استعمال کررہے تھے ۔ نہرو کے اس کام کی قیمت خاص کر کشمیر علاقہ اور ہندوستان ابھی تک چکا رہا ہے ۔

      دیگر مداخلت

      کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانے کیلئے کرونولاجی میں کئی اضافی مداخلتیں بھی کی گئیں، جو تذبذب میں پڑے ہری سنگھ اور پرجوش نہرو کے پرانے طور طریقوں کی عکاسی کرتا ہے ۔ نئے حقائق اور دستاویز (کچھ حال ہی میں عام ہوئے ہیں) کی پوری طرح اسٹڈی کرنے سے کشمیر کے الحاق کی کرونولاجی کو لے کر نیا نظریہ سامنے آتا ہے ۔ نہرو کی تحریریں اور تقریریں اس بات کیلئے ثبوت ہیں کہ اس واقعہ کے وقت حقیقت میں کیا ہوا تھا ۔

      آخر میں کانگریس نے ایک تحریر پر پیشگی اندازہ کے مطابق ہی رد عمل دیا ہے، جس میں نہرو کی تقریروں کو پرائمری ثبوت مانتے ہوئے لکھا گیا ہے ۔ تاریخ کو جھوٹا بتانے کی کانگریس کی خواہش رہی ہے، جس وجہ سے انہوں نے جے رام رمیش کی حمایت کی ۔ جے رام رمیش نے بڑے ہی بے ترتیب طریقہ سے ڈاکٹر کرن سنگھ کو پارٹی میں ان کے اصلی رخ کی یاد دلائی ، جسے انہوں نے زندگی بھر مانا ۔ میں اس تحریر پر کانگریس کے رد عمل کو لے کر پوری طرح سے مطمئن ہوں، جو ایک مرتبہ پھر سے نہرو کے خود کی تحریروں اور تقریروں پر مبنی ہوگا ۔ کانگریس ایک مرتبہ پھر سے حقیقت سے بالاتر تاریخ کی بات کرے گی ۔ گزشتہ سات دہائیوں سے کانگریس کا یہی طور طریقہ رہا ہے کہ ایسی کسی بھی علمی بحث کو بند کردیا جائے ، جو نہرو خاندان کے عظمت کو چیلنج کرتا ہو ۔ میں اس بات کو لے کر بھی پوری طرح سے مطمئن ہوں کہ اس مرتبہ پھر سے ایسا ہی کیا جائے گا ۔ ریسرچ کا جواب ریسرچ سے نہیں بلکہ گالی گلوچ سے دیا جائے گا ۔

      حالانکہ ایک قوم کے طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ تاریخ کو جھوٹا قرار دینے کی کوشش کا ناکام بنایا جائے اور جموں کشمیر اور لداخ کے عوام کے ساتھ پوری سچائی کے ساتھ کھڑے رہیں ۔ اس علاقہ کے عوام کے ساتھ ہی باشندگان وطن کو بھی یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ان مشکل مہینوں اور سالوں کے دوران سچ میں ہوا کیا تھا!

       

      Sources:

      1. Prime Minister Nehru’s address in Lok Sabha. July 24, 1952

      2. Jawaharlal Nehru’s Speeches. Vol. 1. September 1946 – May 1949

      3. Selected Works of Jawaharlal Nehru. Series 2, Vol. 3. June 1947-August 1947

      4. Source: Selected Works of Jawaharlal Nehru. Series 2, Vol. 4. August 1947-December 1947

      5. MC Mahajan Book. Looking Back: The Autobiography of Mehr Chand Mahajan.

      6. JN (SG), MSS, NMML, 1946 (The note by aide of Nehru recording his behavior post his detention by Hari Singh)

      7. The Tribune newspaper published on 20th May 1947


      (ڈسکلیمر: یہ رائٹر کے ذاتی خیالات ہیں ۔ تحریر میں دی گئی کسی بھی جانکاری کی صداقت/صحیح ہونے کے بار میں رائٹر خود جوابدہ ہیں ، اس لئے News18Urdu جوابدہ نہیں ہے۔)
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: