ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: کیا ہےگپکارگروپ، جس پر ٹیڑھی تھیں مرکزکی نظریں، اب میٹنگ میں بلائے گئے اس کے لیڈران

وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر کو لے کر 24 جون کو سبھی پارٹیوں کی میٹنگ کرنے والے ہیں۔ اس کی دعوت گپکار لیڈروں کو بھی بھیجا گیا تھا، جسے انہوں نے منظور کر لیا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: کیا ہےگپکارگروپ، جس پر ٹیڑھی تھیں مرکزکی نظریں، اب میٹنگ میں بلائے گئے اس کے لیڈران
جموں وکشمیر: کیا ہےگپکارگروپ، جس پر ٹیڑھی تھیں مرکزکی نظریں،

نئی دہلی: گپکار گروپ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ جب مرکزی حکومت نے کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے آرٹیکل 370 کو واپس لے لیا تھا اور اس کا ریاست کا درجہ بھی ختم کر دیا تھا۔ تب سے کشمیر کی سیاست میں اتار چڑھاو آتے رہے ہیں۔ اس وقت گپکار اتحاد کے لیڈروں کو کئی ماہ کے لئے نظر بند کر دیا گیا تھا۔ اب چونکہ کشمیر کی سیاست پھر کروٹ لیتی لگ رہی ہے، لہٰذا گپکار لیڈروں کو لے کر پھر سرخیاں بننے لگی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر کو لے کر 24 جون کو سبھی پارٹیوں کی میٹنگ کرنے والے ہیں۔ اس کی دعوت گپکار لیڈروں کو بھی بھیجا گیا تھا، جسے انہوں نے منظور کر لیا ہے۔


یہ بات بھی ہے کہ کشمیر کی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد گپکار اتحاد کے لیڈروں پر الزام برسراقتدار جماعت کے لیڈروں نے لگائے تھے، ان سے ہمدردی کرنے والے کو ملک کا غدار تک کہہ دیا گیا تھا، لیکن اب وزیر اعظم نریندر مودی نے خود ہی انہیں میٹنگ میں طلب کیا ہے۔


دراصل گپکار اتحاد کو لے کر سیاست اگست 2019 سے ہی گرم ہے۔ انہیں لے کر بہت کچھ کہا جاچکا ہے۔ 4 اگست 2019 سے اس اتحاد میں شامل پارٹیوں اور لیڈروں کو لے کر قیاس آرائیوں کی بازار گرم ہے۔ کانگریس پر بھی بیچ میں الزام لگے تھے کہ اس کا رخ گپکار کے تئیں نرم ہے۔ اسے لے کر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان گزشتہ سال زبردست الزام تراشی اور جوابی الزام تراشی اور ٹوئٹر وار بھی چلا۔


وزیر اعظم نریندر مودی ۔ (PTI Photo)
وزیر اعظم نریندر مودی ۔ (PTI Photo)


کیا ہے گپکار اتحاد

نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ سری نگر میں 01، گپکار روڈ پر ہے۔ یہیں پر 4 اگست 2019 کو کشمیر کے 8 جماعتوں نے ایک ساتھ میٹنگ کی تھی۔ اس میٹنگ میں جموں وکشمیر کے ان 8 جماعتوں نے ساتھ مل کر مرکزی حکومت کی ریاستی پالیسیوں کے خلاف نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا۔

اسی اتحاد کو گپکار گروپ یا گپکار اتحاد کہا جا رہا ہے۔ حالانکہ تب تک مرکزی حکومت نے ریاست سے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کی واپسی پر قدم تو نہیں اٹھایا تھا، لیکن ریاست میں سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی تھی۔ سبھی سیاحوں کو فوراً ریاست چھوڑنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس کے ایک سال بعد یہ ٹیم پھر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر ملے اور اتحاد بنانے کا اعلان کیا، جسے گپکار اتحاد کہا گیا۔ اب انہیں اسی نام سے جانا جارہا ہے۔ نومبر 2020 میں جب وزیر داخلہ امت شاہ نے گپکار کو لے کر ایک ٹوئٹ کیا تو اس پر بڑا تنازعہ بھی ہوا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 23, 2021 03:21 PM IST