ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر کے سوشل میڈیا صارفین پر کیوں لگا یو اے پی اے، جانیں کتنا سخت ہے یہ قانون

جموں وکشمیر میں 6 مہینے کی انٹرنیٹ پابندی کے بعد حکومت نے اس میں نرمی کی تھی۔ لیکن لوگ صرف کچھ ویب سائٹس کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔

  • Share this:
جموں وکشمیر کے سوشل میڈیا صارفین پر کیوں لگا یو اے پی اے، جانیں کتنا سخت ہے یہ قانون
جموں وکشمیر کے سوشل میڈیا صارفین پر کیوں لگا یو اے پی اے، جانیں کتنا سخت ہے یہ قانون

نئی دہلی۔ جموں وکشمیر پولیس (Jammu Kashmir Police) نے وادی میں سوشل میڈیا (Social Media) کا غلط طریقے سے استعمال کرنے والے صارفین پر یو اے پی اے (Unlawful Activities Prevention Act ) لگایا ہے۔ پولیس نے اس قانون کی سخت دفعات میں سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ اس بارے میں ایف آئی آر اس وقت درج کی گئی جب حریت لیڈر سید علی گیلانی کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا اور اسے لوگ شئیر کرنے لگے۔


جموں وکشمیر میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگنے کے بعد لوگ پراکسی سرور کے ذریعہ اس کا استعمال کر رہے تھے۔ گیلانی کا ویڈیو ایسے ہی پراکسی سرور سے اپ لوڈ کیا گیا اور لوگوں نے اسے شئیر کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد جموں وکشمیر پولیس کے سائبر پولیس اسٹیشن نے اس معاملہ میں یو اے پی اے کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔


پولیس نے اس قانون کی سخت دفعات میں سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کیس درج کیا ہے۔


یو اے پی اے دہشت گردی اور نکسل سے لڑنے کے لئے بنایا گیا سخت قانون ہے۔ جموں وکشمیر میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے بعد پولیس نے اس ایکٹ کی دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شرارتی عناصر کے ذریعہ پراکسی سرور کا استعمال کر کے افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں۔ یہ وادی کشمیر کے موجودہ حالات کے لئے خطرناک ہے۔ ان افواہوں کی وجہ سے علیٰحدگی پسند نظریات والی طاقتوں کو مضبوطی ملے گی اور اس کے ذریعہ دہشت گردی کو بڑھاوا دیا جائے گا۔ اسی کے بعد وادی میں سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کے خلاف یو اے پی اے قانون کی دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا۔

جموں وکشمیر میں 6 مہینے کی انٹرنیٹ پابندی کے بعد حکومت نے اس میں نرمی کی تھی۔ لیکن لوگ صرف کچھ ویب سائٹس کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی لگا رکھی ہے۔ 14 فروری کو اس بارے میں احکامات جاری کرتے ہوئے حکومت نے سبھی سوشل میڈیا سائٹوں پر پابندی لگا دی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ وادی میں سوشل میڈیا کے ذریعہ افواہ پھیلا کر علیحدگی پسند طاقتیں ماحول کو ٹھیک نہیں ہونے دینا چاہتی ہیں۔

یو اے پی اے قانون ملک اور ملک کے باہر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے والا سخت قانون ہے۔ 1967 کے اس قانون میں پچھلے سال حکومت نے کچھ ترمیم کر کے اسے اور سخت بنا دیا ہے۔ اس قانون کا اصل مقصد مرکز کی ایجنسیوں اور ریاستی حکومت کو دہشت گردی اور نکسل واد سے نمٹنے کے لئے اختیار دینا ہے۔ 2019 میں این ڈی اے کی حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اس قانون میں کچھ اور التزامات شامل کئے ہیں۔
First published: Feb 18, 2020 11:28 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading