ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

26 سال کا یہ خطرناک دہشت گرد 'ڈاکٹر' جو اب وادی میں بن گیا ہے دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کا سرغنہ

ریاض نائیکو 2016 میں مارے گئےحزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کےبعد دوسرا ایسا کمانڈر تھا کہ جس کو حزب المجاہدین کے پوسٹر بوائے کے بطور دیکھا جاتا تھا اور گزشتہ 8 برسوں سے سرگرم رہنےکی وجہ سے جنوبی کشمیر میں ملیٹینسی میں نئی روح پھونکنے میں ریاض نائیکو کا کلیدی رول رہا ہے۔ ریاض نایکو کا شمار +++A کیٹیگری ملیٹینٹ کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ اب نائیکو کے خاتمے کےبعد غاضی کو حزب المجاہدین کی کمان ملی ہے۔ محض 26 سال کی عمر کے اس دہشت گرد میں ایسا کیا ہے جو اسے دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ منتخب کیا گیا۔

  • Share this:
26 سال کا یہ خطرناک دہشت گرد 'ڈاکٹر'  جو اب وادی میں بن گیا ہے دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کا سرغنہ
ریاض نائیکو 2016 میں مارے گئےحزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کےبعد دوسرا ایسا کمانڈر تھا کہ جس کو حزب المجاہدین کے پوسٹر بوائے کے بطور دیکھا جاتا تھا اور گزشتہ 8 برسوں سے سرگرم رہنےکی وجہ سے جنوبی کشمیر میں ملیٹینسی میں نئی روح پھونکنے میں ریاض نائیکو کا کلیدی رول رہا ہے۔ ریاض نایکو کا شمار +++A کیٹیگری ملیٹینٹ کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ اب نائیکو کے خاتمے کےبعد غاضی کو حزب المجاہدین کی کمان ملی ہے۔ محض 26 سال کی عمر کے اس دہشت گرد میں ایسا کیا ہے جو اسے دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ منتخب کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے حزب المجاہدین کے پوسٹر بواۓ و اعلیٰ ترین کمانڈر ریاض نائیکو (Riyaz Naikoo) کو سیکورٹی فورسز نے جنوبی کشمیرکے پلوامہ ضلع میں بیگ پورہ اونتی پور میں اس کے ایک ساتھی سمیت مار گرانے میں کامیابی حاصل کی۔ ریاض نائیکو 2016 میں مارے گئےحزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کےبعد دوسرا ایسا کمانڈر تھا کہ جس کو حزب المجاہدین کے پوسٹر بوائے کے بطور دیکھا جاتا تھا اور گزشتہ 8 برسوں سے سرگرم رہنےکی وجہ سے جنوبی کشمیر میں ملیٹینسی میں نئی روح پھونکنے میں ریاض نائیکو کا کلیدی رول رہا ہے۔ ریاض نایکو کا شمار +++A کیٹیگری ملیٹینٹ کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ اب نائیکو کے خاتمے کےبعد غاضی کو حزب المجاہدین کی کمان ملی ہے۔ محض 26 سال کی عمر کے اس دہشت گرد میں ایسا کیا ہے جو اسے دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ منتخب کیا گیا۔


نائیکو کی طرح ہی اس کا بھی تعلق پلوامہ ضلع سے ہے۔ یہاں کے منگپورہ گاؤں میں پلے۔بڑھے غاضی کا بچپن دوسرے بچوں کی ہی طرح رہا۔ پلوامہ میں ہی بایو میڈیکل میں ڈپلوما کرنے کے بعد غاضی سرینگر آیا اور بڑے امکان کی تلاش میں سرینگر نینشل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی میں ٹیکنیکل اسسٹینٹ کے طور پر کام کرنے لگا۔ اسی دوران اس کی ملاقات ریاض نائیکو سے ہوئی۔


یہیں سے غاضی بنیاد پرستی کے راستے پر چل نکلا۔ مانا جاتا ہے کہ اس کے کچھ وقت بعد ہی اس نے کام چھوڑ دیا اور پوری طرح سے دہشت گردی کا راستہ اپنالیا۔ نائیکو کی طرح ہی یہ پھی سیپریٹسٹ تھا اور پاکستان کا کٹر حامی بھی۔ کچھ ہی دنوں کے اندر غاضی نے جنوبی کشمیر کے علاقوں جیسے پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں اپنی دہشت گردی کا جھنڈا لہرادیا اور نوجوانوں کو پڑھائی اور کام چھوڑ کر دہشت گردی کا راستہ اپنانےکی صلاح دیتا تھا۔


کشمیر میں حزب المجاہدین میں نئی بھرتی کرنے اور انہیں اسلحہ کی تربیت دینے کے لئے بھی غازی کشمیر میں بہت سرگرم رہا۔ کمائی (terror-financing module ) کیلئےیہ لوگ نشیلی اشیا جیسے افیم کی کھیتی اور اس کی اسمگلنگ جیسے کام کرتے ہیں۔ ان کاموں میں بھی نوجوان غاضی نے آگے بڑھ۔چڑھ کر حصہ لیا۔ جلد ہی حزب میں پرانے ساتھیوں سے زیادہ اس کی پوچھ ہونے لگی۔ ویسے اس کی ایک ایک اور وجہ بھی رہی۔

بایو میڈیکل پڑھائی کے دوران اس نے جان بچانے کی بیسک ٹریننگ بھی لے رکھی تھی۔ یہ ٹریننگ زخمی دہشت گردوں کے علاج یا بیماری میں خوب کام آئی۔ یہی وجہ ہے کہ غاضی کو تنظیم کے لوگ ڈاکٹر سیف بھی کہتے ہیں۔
ڈاکٹر سیف اللہ ان دنوں جنوبی کشمیر کے علاقوں میں بیحد سرگرم ہیں۔ وہ فی الحال A ++ کیٹیگری کا ایک دہشت گرد ہے۔ یعنی اسے خطرناک دہشت گرد کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ نائیکو کو مارنے کے بعد سکیورٹی ایجنسی اب سیف اللہ کی تلاش کر رہی ہے۔ نائیکو کے مشورے پر سیف اللہ نے نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیم میں بھرتی کرنے کی سازش کی۔ وہ پہلی بار انکاؤنٹر میں زخمی دہشت گردوں کا علاج کرنے کی وجہ سے بحث میں آیا تھا۔ سیف اللہ 2014 میں دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جنوبی کشمیر میں حزب المجاہدین کا ایک آپریشن کمانڈر بھی رہ چکا ہے۔

واضح رہے کہ پولیس کے مطابق ریاض نائیکو کئی تخریب کارکارروائیوں میں ملوث تھا۔ پولیس کے مطابق نائیکو کئی پولیس اہلکاروں، پنچوں سرپنچوں اور عام شہریوں کے قتل، سیکورٹی فورسز پرحملوں اور پولیس اہلکاروں و عام شہریوں کے اغوا کےکئی معاملات میں مطلوب تھا۔ جبکہ نائیکو فیس بک اورسوشل میڈیا سائٹوں پر بھی کافی سرگرم تھا، جس کی وجہ سے جنوبی کشمیر میں سینکڑوں نوجوان ملیٹینسی کے صفحوں میں شامل ہوگئے۔
First published: May 12, 2020 01:03 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading