உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرشنا کمار نے بغیر پیسوں کے کیا کیرالہ سے کشمیر تک کا سفر، کتاب لکھنے کا رکھتے ہیں ارادہ

    رواں سال کی پانچ اگست کو کیرالہ سے نکلنے والا کرشنا کمار نامی یہ شخص پچہتر دنوں میں بغیر پیسوں کے گلمرگ پہنچ گیا۔

    رواں سال کی پانچ اگست کو کیرالہ سے نکلنے والا کرشنا کمار نامی یہ شخص پچہتر دنوں میں بغیر پیسوں کے گلمرگ پہنچ گیا۔

    ایک لمبا سفر کبھی شاید پیسوں کے بغیر ناممکن ہی نہیں بلکہ دشوار ہ لیکن دنیا میں کچھ ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو بغیر پیسے کے ملک بھر کا سفر کرتے ہیں ایسا ہی کیرالہ سے تعلق رکھنے والے کرشنا کمار نامی نوجوان نے کر دکھایا۔

    • Share this:
    کیرالہ سے تعلق رکھنے والے کرشنا کمار نامی نوجوان نے کیرالہ  سے کشمیر تک کا سفر بغیر پیسوں کے کیا ہے۔ کرشنا سیاحتی مقام گلمرگ پہنچے ہیں۔ کرشنا اس سفر سے متعلق ایک کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کرشنا نے کشمیریوں کی مہمان نوازی کی خوب تعریفیں کیں۔ ایک لمبا سفر کبھی شاید پیسوں کے بغیر ناممکن ہی نہیں  بلکہ دشوار ہ  لیکن دنیا میں کچھ ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو بغیر پیسے کے ملک بھر کا سفر کرتے ہیں ایسا ہی کیرالہ سے تعلق رکھنے والے کرشنا کمار نامی نوجوان نے کر دکھایا۔ کرشنا کمار نے کیرالہ سے کشمیر تک کا سفر بغیر پیسوں کے کیاہے۔ رواں سال کی پانچ اگست کو کیرالہ سے نکلنے والا کرشنا کمار نامی یہ شخص پچہتر دنوں  میں بغیر پیسوں کے گلمرگ پہنچ گیا۔

    کرشنا کمار نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ گھر سے نکلنے کے وقت ان کی والدہ نے انہیں سو روپیہ دیا تھا جو سالم موجود ھے۔ کرشنا کا کہنا ہے کہ وہ دراصل اس سفر سے متعلق ایک کتاب تحریر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ملک کے اندر کیسے کیسے لوگ بستے ہیں۔ اور اس سفر کے دوران کیسے لوگ انہیں ملتے ہیں۔ وہ ان تمام لوگوں کے اچھے اور برے آداب بھی تحریرکرنا چاہتے ہیں۔ کرشنا نے اپنے اس سفر کے دوران کبھی پیدل سفر کیا اور کبھی ہاتھ دیکر لوگوں سے لفٹ بھی مانگا۔ سفر کے دران لوگوں نے کھلایا پلایا اور رہنے کو جگہ بھی فراہم کی۔



    کرشنا کمار نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ کشمیر پہنچ کر انہیں لوگوں کی جانب سے کافی پیار ملا۔ اپنے اس سفر کے دوران لوگوں نے انہیں لفٹ دی اور کھانا اور رہنے کا انتظام بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں انہیں کسی قسم کی کوئی دقت نہیں ہوئی۔ وہ یہاں محفوظ ہیں۔ کرشنا نے مزید بتایا کہ گلمرگ پہنچ کر شدید سردی میں یہاں مقامی ہوٹلئیر نے انہیں پہننے کے لئے گرم کپڑے ،کھانے پینے اور رہنے کے لئے مکان فراہم کیا۔شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ سے تعلق رکھنے والے مبشر احمد نامی ایک نوجوان نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اپنی ذاتی گاڑی میں ماگام سے ٹنگمرگ جارہے تھے تو راستے میں اس شخص نے ہاتھ دکھا کر روکنے کو کہاکہ جب میں نے گاڑی روکی اس شخص نے اپنا تعارف پیش کیا تو میں نے بطور انسانیت اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر گلمرگ پہنچایا اور اسے کھانا بھی کھلایا۔ مبشر کا کہنا ہے کہ وہ بغیر پیسوں کے ان کے اس سفر اور ایک کتاب لکھنے سے کافی متاثر ہوئے جس کی بناپر دوسرے دوستوں کو بھی میں نے اس کی مدد کی صلاح دی۔

    مبشر نے کرشنا کمار کے ساتھ ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شئیر کیا جو کافی وائرل ہوا جس پر لوگوں نے خوب کرشنا کمار کو داد دی۔ کرشنا کمار نے ایم بی اے کی ڈگری کی ہے۔ ان کے مطابق وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کررہے تھے۔ گلمرگ پہنچ کر کرشنا کو اتنی دقتیں نہیں آئی یہاں لوگوں نے اسے ہر طرح کا سہارا دیا۔ کھانا پینا اور یہاں تک کہ کپڑے بھی فراہم کئے۔ایک ہوٹلئیر کاکہناہے کہ بطور انسانیت انہوں نے اس شخص کو کھانا کھلایا اور رہنے کے لئے جگہ فراہم کی۔ اس ہوٹلئیر نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ نوجوان ان کے پاس آئے اور پانی کی بوتل مانگی تو جب ان سے قیام سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہاکہ ان کے پاس عارضی ٹینٹ ہے جس میں وہ رات گزاریں گے۔ ہوٹلئیر کاکہناہے کہ گلمرگ میں شدید سردی میں عارضی ٹینٹ کے اندر رہنا ان کے لئے کافی مشکل تھا تو یہ دیکھتے ہوئے انہوں نے اسے اپنے ہوٹل میں جگہ فراہم کی۔

    انہوں نے کہاکہ اب وہ ان کے دوست اور بھائی جیسے بن گئے۔ گلمرگ میں موجود اس ہوٹلئیر نے ملک کے تمام لوگوں سے اپیل کہ کشمیر سے متعلق جو بتایا جارہاہے وہ زمینی سطح پر اس کے برعکس ہے۔انہوں نے کہاکہ لوگ یہاں آئیں اور زمینی سطح پر از خود جائزہ لیں۔۔کرشنا کمار نے کشمیر کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کہاں کہ میرے سفر کی اہم یادگاریں کشمیری لوگوں کی مہمان نوازی اور ان کی محبت زندہ رہیں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرکے ان  کی خدمات کوعام کیاجائے۔ اور انسانیت کا درس بھی ہر مذہب کے لوگوں تک پہنچایا جائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: