உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوجوانوں میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث افراد پر کپواڑہ پولس کی کاروائی

     کپواڑہ پولس نے پھچلے ایک ہفتہ کے دوران چھ افردا کی گرفتاری عمل میں لائ ہے اور ان کے قبضے سے باری مقدار میں منشیات برآمد کیا گیا۔

    کپواڑہ پولس نے پھچلے ایک ہفتہ کے دوران چھ افردا کی گرفتاری عمل میں لائ ہے اور ان کے قبضے سے باری مقدار میں منشیات برآمد کیا گیا۔

    کپواڑہ پولس نے پھچلے ایک ہفتہ کے دوران چھ افردا کی گرفتاری عمل میں لائ ہے اور ان کے قبضے سے باری مقدار میں منشیات برآمد کیا گیا۔

    • Share this:
    کپواڑہ پولس نے منشیات مخالف مہم کو جاری رکھتے ہوئے منشیات فروش کو گرفتار کرکے پبلک سیفٹی ایکٹ PSAکے تحت مقدمہ درج کر کے سینٹرل جیل کوٹ بھلوال منتقل کیا ۔ کپواڑہ پولس نے منشیات کے خلاف جنگ جارہی رکھتے ہوے لاین آف کنٹرول سے لیکر کپواڑہ تک منشیات میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی شروع کی ۔اور ان کا قافیہ تنگ کیا جارہا ہے ۔ جگہ جگہ پر پولس نے ناکہ بڑھا دے ہیں اور تمام پولس اسٹیشن اس مہم کا میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تاکہ اس لعنت پر قابو پایا جاسکے ۔اور نوجوان نسل کو اس بدت سے دور رکھا جاسکے اور ایک بہتر سماج کی تعمیر ہوسکے ایس ایس پی کپواڑہ یوگل منہاس نے نیوز 18 کو بتایا کہ وہ منشیات کے خلاف جنگ جاری رکھے گے۔تاکہ کپواڑہ ضلع کو منشیات سے پاک کیا جاسکے ۔

    کپواڑہ پولس نے پھچلے ایک ہفتہ کے دوران چھ افردا کی گرفتاری عمل میں لائ ہے اور ان کے قبضے سے باری مقدار میں منشیات برآمد کیا گیا۔ اور گرفتار افردا کے خلاف کیس درج کر کے ابتدائ تحقیقات شروع کی اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں ادھر ایس ایس پی کپواڑہ یوگل منہاس نے نیوز 18 کو بتایا کہ ایک منشیات فروش، ریاض احمد گنی ولد غلام احمد گنی محلہ کپواڑہ کو کپواڑہ پولیس نے ضلع میں نوجوانوں میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف اپنی مسلسل کارروائیوں میں پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

    ایس ایس پی نے بتایا کہ کپواڑہ پولیس نے کپواڑہ میں منشیات کی لعنت کو روکنے کے لیے مذکورہ شخص کے خلاف پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کپواڑہ پولیس اسٹیشن نے کپواڑہ سے تین منشیات فروشوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ ترہگام پولیس اسٹیشن نے حال ہی میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، لوگوں کی طرف سے ان کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: