ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر: انسانی بستیوں میں تیندوے کی دہشت،DCآفس، پہنچاتیندوا،ماہرین نےکہی یہ بڑی بات

ایک دن پہلے ایک تیندوا بڈگام ڈی سی آفس تک پہنچا جس کے بعد دفتر کے آس پاس جھاڑیوں کو کاٹنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ریجنل وائلڈ لایف وارڈن کشمیر راشد نقاش کا کہنا ہےکہ اس تعداد میں تیندوے پہلے کبھی نہیں پائے گئے۔

  • Share this:
کشمیر: انسانی بستیوں میں تیندوے کی دہشت،DCآفس، پہنچاتیندوا،ماہرین نےکہی یہ بڑی بات
6 تیندوے صرف پچھلے 3 دن میں ہی پکڑے گئے۔

کشمیر میں ان دنوں انسانی بستیوں میں تیندوے سرگرم ہیں۔اوم پورہ بڈگام میں حال ہی معصوم بچی ادا یاسر کو تیندوےنے اپنا شکار بنایا اور اس کے بعد کل شام ٹنگمرگ میں ایک بچے کو مقامی لوگوں نے تیندوے کے پنجے سے چھڑا لیا لیکن بچہ زخمی ہوا۔ محکمہ وائلڈ لایف کشمیر کے مطابق بڈگام ،پٹن کھریو اور پانپور میں پچھلے ایک ہفتے میں 16 کے قریب تیندوے بستیوں میں یا ان کے قریب پائے گئے جن میں میں سے6 تیندوے صرف پچھلے 3 دن میں ہی پکڑے گئے۔ایک دن پہلے ایک تیندوا بڈگام ڈی سی آفس تک پہنچا جس کے بعد دفتر کے آس پاس جھاڑیوں کو کاٹنے کا کام شروع کردیاگیا۔ریجنل وائلڈ لایف وارڈن کشمیر راشد نقاش کا کہنا ہےکہ اس تعداد میں تیندوے پہلے کبھی نہیں پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تیندوے اکثر غذا کی تلاش میں سرما میں ہی انسانی بستیوں کا رُخ کرتے تھے لیکن اس بار گرمیوں میں اتنی بڑی تعداد میں انسانی بستیوں کے قریب ان کی موجودگی محکمہ کے لئےایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیندوے اکثر آسان شکار کی تلاش میں انسانی بستیوں کا رُخ کرتے ہیں اور انہیں چھپنے کے لئے بڑے جنگل کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ جھاڑیوں میں بھی گذارا کرلیتے ہیں اور مرغوں اور دیگر چھوٹے جانوروں سے لے کر کُتوں کا شکار بھی کرتے ہیں ۔


شیر کشمیر زرعی یونیوسٹی کے شعبہ جنگلی حیات کے صدر شعبہ ڈاکٹر خورشید کا کہنا ہے کہ محکمہ سوشل فارسٹی کی طرف سے قایم کی گئی نرسریاں تیندوے کی آماجگاہ بن گئی ہیں اور انسانی بستیوں کے قریب یہ بے ہنگم نرسیاں تیندوے کی افزایش نسل کا بڑا مرکز بن گئی ہیں اور یہی تیندوے انسانی بستیوں میں سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا ہئے کہ تیندوا بڑی تیزی سےافزایش نسل کرتا ہئے اور ان علاقوں میں انسانی جان اور مالکے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔جنگلی حیات کے کچھ ماہر ان تیندوں کو قابو میں کرنے کے لئے ان کو مارنے کی وکالت کرتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لئے جنگلی حیات سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی کیونکہ تیندوا بھی ٹائیگر کی طرح شیڈول ون میں شامل ہئے اور ان کو تحفظ حاصل ہے۔


کشمیر میں ان دنوں انسانی بستیوں میں تیندوے سرگرم ہیں
کشمیر میں ان دنوں انسانی بستیوں میں تیندوے سرگرم ہیں


ڈاکٹر خورشید اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ بستیوں کے آس پاس پائے جانے والے یہ تیندوے قدرتی ماحولیاتی نظام کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ یہ جنگلوں میں پائے جانے والے تیندوے سے مختلف ہیں لہذاانکو مارنے سے قدرتی ماحولیاتی نظام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ادھر پکڑے گئے تیندوں کی باز آباد کاری بھی محکمہ وائلڈ لائف کے لئےایک درد سر ہے۔ماہرین کہتے ہیں اگر انہیں نزدیک کسی جنگل میں آزاد کیا جائے تو یہ واپس آسکتے ہیں یا پھر وہاں انسانی بستیوں کا رُخ کریں گے۔ واضح رہےکہ تیندوا 30 سے 40 مربع کلو میٹرعلاقے میں سرگرم رہتا ہے۔

کشمیر میں قدرتی ماحول میں انسانی مداخلت کے چلتے انسانوں اور جنگلی جانوروں کے بیچ پچھلے کئی سالوں سے تصادم آرائی کے واقعات پیش آئے ہیں اور پچھلے دس سال میں اس تصادم آرائی میں 118انسانوں کی جان تلف ہوئی اور ایک ہزار 878 زخمی ہوئے ہیں ۔انسانوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں جانور مارے گئے ہیں جن میں ریچھوں کی تعداد زیادہ ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 10, 2021 08:42 AM IST