உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی کشمیر میں مختلف مقامات پر کھلے عام تیندوے کے گھومنے سے لوگوں میں خوف

    وائلڈ لائف کے رینجر نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ یہاں چھ سو سے سات سو تیندوے ہیں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

    وائلڈ لائف کے رینجر نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ یہاں چھ سو سے سات سو تیندوے ہیں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

    وائلڈ لائف کے رینجر نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ یہاں چھ سو سے سات سو تیندوے ہیں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    بڈگام کے مختلف علاقوں میں اب تیندوے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ محکمہ وائلڈ لائف نے سرچ آپریشن میں تیزی لائ ہے اور مختلف علاقوں میں جھال لگائے ہیں۔ بڈگام کے مختلف علاقوں میں اب تیندوے دیکھے جا رہے ہیں۔ آئے روز تیندوے دیکھے جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہے۔ تیندووں کی موجودگی سے لوگوں میں خوف کا ماحول ہے۔ لوگوں کے مطابق انتظامیہ کوئ ٹھوس اقدام نہیں کر رہا ہے۔ تیندووں کے کھلے عام گھومنے سے بچوں میں زیادہ ڈر ہے۔ بچوں کا کہنا ہے کہ وہ اب ڈر کی وجہ سے گھوم بھی نہیں پا رہے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ان تہندووں کو جلد از جلد پکڑا جائے۔

    ادھر محکمہ وائلڈ لائف نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور مختلف علاقوں میں جھال لگائے ہیں۔ محکمہ کے رینجر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتے اور شام کے اوقات میں اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ بہت جلد تیندووں کو پکڑا جائے گا۔
    وائلڈ لائف کے رینجر نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ یہاں چھ سو سے سات سو تیندوے ہیں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

    ادھر محکمہ وائلڈ لائف نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور مختلف علاقوں میں جھال لگائے ہیں۔ محکمہ کے رینجر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتے اور شام کے اوقات میں اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ بہت جلد تیندووں کو پکڑا جائے گا۔ وائلڈ لائف کے رینجر نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ یہاں چھ سو سے سات سو تیندوے ہیں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: