ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی میں جاری لاک ڈؤان سےخواتین میں نفسیاتی بیماری کی شرح میں اضافہ، نوجوان لڑکیاں کر رہی ہیں متاثرین کی کونسلنگ

سیرت الدین کے مطابق کوروناوائرس جیسی عالمی وبا میں ملکی سطح پر جاری لاک ڈاون میں عام لوگوں کا حوصلہ بڑھانے اور انہیں نفسیاتی بیماریوں سے باہر لانے کی ہر محاذ پر کوششیں تیز ہونی چاہئیں تاکہ لوگ نفسیاتی بیماری میں زیادہ مبتلا نہ ہوں۔

  • Share this:
وادی میں جاری لاک ڈؤان سےخواتین میں نفسیاتی بیماری کی شرح میں اضافہ، نوجوان لڑکیاں کر رہی ہیں متاثرین کی کونسلنگ
سیرت الدین کے مطابق کوروناوائرس جیسی عالمی وبا میں ملکی سطح پر جاری لاک ڈاون میں عام لوگوں کا حوصلہ بڑھانے اور انہیں نفسیاتی بیماریوں سے باہر لانے کی ہر محاذ پر کوششیں تیز ہونی چاہئیں تاکہ لوگ نفسیاتی بیماری میں زیادہ مبتلا نہ ہوں۔

کشمیر: شیو پورہ سرینگر کی ٢٣ سالہ سیرت الدین کا خیال ہے کہ کوروناوائرس جیسی وبایئ بیماری سے نہ صرف لوگ اقتصادی طور پر کمزور ہوگئے ہیں بلکہ بیشترخواتین گھروں میں ہی محصور ہونے کی وجہ سے نفسیاتی  بیمار یوں میں مبتلا ہو گییں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان دنوں ایسے ہی سینکڈوں متاثرہ خواتین کی کونسلنگ کر رہی ہیں اور انہیں اس بیماری سے چھٹکارا دلانے میں پیش پیش ہے۔ سیرت الدین بنگلہ دیش میں ایم بی بی ایس کے فاینل ایر کی طالبہ ہے اور وہ ١٩ مارچ کو وطن واپس لوٹ کر آیئ،  ایسے میں دوران کوارنٹین انہوں نے کئ ایک خواتین سے بات کی جو کہ نفسیاتی بیماریوں سے متاثر ہو چکی تھی۔

ایک پہل کے ذریعے برطانیہ میں مقیم ایک خاتون سے بات کرت ہوئے انہیں پتہ چلا کہ بیشتر خواتین کوروناوایرس وبا کے لاک ڈاون کی وجہ سے گھروں میں ہی پھنسے رہنے کی وجہ سے نفسیاتی دباؤکی شکار ہیں اور یہاں سے انھوں نے کونسلنگ کی شروعات کی۔ یکجُٹ نامی ملکی سطح کی خواتین سے متعلق رضاکارانہ تنظیم سے جُڑنے کے بعد وہ مزید خواتین کے رابطے میں آئی اور ابھی تک ٢ سو سے زائد خواتین کی کو نسلنگ کر چکی ہیں جن میں سے بیشتر صحت یاب ہو گئے ہیں۔


سیرت الدین کے مطابق کوروناوائرس جیسی عالمی وبا میں ملکی سطح پر جاری لاک ڈاون میں عام لوگوں کا حوصلہ بڑھانے اور انہیں نفسیاتی بیماریوں سے باہر لانے کی ہر محاذ پر کوششیں تیز ہونی چاہئیں تاکہ لوگ نفسیاتی بیماری میں زیادہ مبتلا نہ ہوں۔ سیرت الدین ماہر امراض قلب میں دلچسپی رکھتی ہے تاہم لاک ڈاون میں ایسے معاملات سامنے آنے کے بعد وہ اب ماہر امراض نفسیات کی طرف راغب ہو رہی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ وہ نفسیات کی ڈاکٹر بنے اور وادی میں اپنے لوگوں کی خدمت کرے۔ اپنے حوصلہ افزا اقدامات کی وجہ سے فیس بُک، ٹویٹر،  واٹز اپ جیسے سوشل نیٹورکنگ سایٹس پر انکی کافی ستایش ہو رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ متاثرہ افراد جُھٹ رہے ہیں۔

سیرت الدین کے والدین نے بھی اس کام میں انکا بھر پور ساتھ دیا ہے اور انکی حوصلہ افزایی کی ہے۔ سرینگر کی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ وہ بھی نفسیاتی بیماری کا شکار ہو یئ تاہم سیرت سے جُڑنے کے بعد وہ پہلے سے بہتر ہے اور اسے بیماری سے چُھٹکارا مل گیا۔ کوروناوایرس وبا میں جاری لاک ڈاون اور وادی میں نامساعد حالات کے چلتے لوگوں کی خاصی تعداد نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو گیے جن میں خواتین کی شرح بہت زیادہ ہے اور ایسے میں سیرت الدین جیسے ہمدرد اور ماہر متاثرہ افراد کی مدد کرنے کے خواہاں ہیں۔

(کشمیر سے ظہور رضوی کی رپورٹ)
First published: Jun 03, 2020 01:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading