உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جنوبی کشمیر: دہشت گردی کاگراف نیچے آگیا،دہشت گردوں کی تعداددوہندسوں تک پہنچی: ڈی جی پی دل باغ سنگھ

    Youtube Video

    غیر مقامی افراد پر حملوں کے خلاف یہاں کے عوام کو آواز اٹھانی ہوگی اور نارکوٹکس دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔ 

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Anantnag
    • Share this:
    جموں کشمیر کے ڈایریکٹر جنرل آف پولیس، دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ جنوبی کشمیر میں دہشت گردی کا گراف بہت نیچے آ گیا ہے۔ جبکہ کشمیر میں بھی دہشت گردوں کی کافی کم تعداد موجود ہے اور یہ تعداد پہلی مرتبہ دو ہندسوں تک سمٹ گئی ہے جسکا سہرا یہاں کی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی کاوشوں سے دہشت گردی میں کافی کمی آئی ہےجبکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے مابین بہتر تال میل سے کامیابی سے دہشت گردی مخالف آپریشن انجام دئے جا رہے ہیں۔

    اننت ناگ میں اپنے دورے کے دوران ڈی جی پی نے کہا کہ نارکوٹکس دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ پورے سماج کو تباہ کرتا ہے۔ غیر مقامی افراد پر حملوں کے تناظر میں ڈی جی پی نے کہا کہ اسطرح کے حملوں کے خلاف یہاں کے لوگوں کو کھڑا ہونا چاہیے اور غیر مقامی افراد کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے دیگر فورسز کے ساتھ پولیس حکمت عملی اپنا رہی ہے اور ابھی تک ایسے حملوں میں ملوث کئ دہشت گردی کو انجام تک پہنچایا گیا ہے۔

    اننت ناگ میں فوج کے عہدیداروں کے ساتھ جنوبی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ پورے جنوبی کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے اور جرائم سے متعلق واقعات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ معاشرے کو اجتماعی طور پر ان واقعات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کشمیر میں ٹارگٹ کلنگس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کی مذمت ہوئی ہے لیکن مزید مذمت کی ضرورت ہے کیونکہ ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ اگر کوئی غیر مقامی اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے یہاں آتا ہے، تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی حفاظت کریں اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کریں۔

    یہ بھی پڑھیں

    مقامی ملیٹینٹوں کی بھرتی کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے اس عمل پر نگاہ بنائے ہوئے ہیں اور اس کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ والدین اور مذہبی مبلغین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بچوں کو صحیح راہ پر گامزن کرنے کےلیے اقدامات اٹھانے چاہیے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ منشیات دہشت گردی سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے کیونکہ دہشت گردی سے کسی فرد کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جبکہ منشیات سے پورے سماج کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے گزشتہ برسوں میں منشیات کی بھاری مقدار پکڑی ہے اور رواں سال میں کشمیر میں این ڈی پی ایس کے پانچ سو سے زائد کیس درج کر لئے گئے ہیں۔ منشیات کے کاروبار میں ملوث کئ افراد پر پی ایس اے لگا دیا گیا ہے، جبکہ کافی لوگوں کی جایداد بھی ضبط کی جا رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ معاشرے کو اجتماعی طور پر پڑوسی ملک کی جانب سے کشمیر فائٹ بلاگ سمیت دیگر کارستانیوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جو صحافیوں اور دیگر لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پار بیٹھے لوگوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے کیونکہ جو لوگ ہرتال جاری کرتے اور نوجوانوں کو پتھراؤ کے لیے اکساتے تھے وہ کہیں نہیں ہیں اور ان کی صفائی ہو چکی ہے۔

    حریت کے فرضی چیپٹر کی طرف سے سرحد پار سے جاری کالس کو کشمیری عوام اب نظر انداز کر رہے ہیں۔ڈی جی پی کے ہمراہ ڈی آئی جی سی آر پی ایف، کمانڈر ایک سیکٹر آر آر، ، کولگام اور اننت ناگ اضلاع کے ایس ایس پی و دیگر افسران موجود رہے۔ موجودہ سیکورٹی صورتحال پر ڈی جی پی نے جایزہ میٹنگ بھی کی۔ جبکہ جھارکھنڈ پولیس کے افسران کے ایک وفد جو کہ کشمیر دورہ پر ہے سے بھی ڈی جی پی نے ملاقات کی۔
    Published by:Mirzaghani Baig
    First published: