ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی نے کہا- ’بلی کا بکرا’ بن گئی ہیں مین اسٹریم کی سیاسی جماعتیں

Jammu Kashmir News: سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ حال ہی میں ڈی ڈی سی انتخابات میں 280 سیٹوں میں سے 112 پر گپکار اتحاد (پی اے جی ڈی) کی جیت نے دکھا دیا ہے کہ عوام نے آرٹیکل 370 کو ختم کئے جانے کے فیصلے کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی نے کہا- ’بلی کا بکرا’ بن گئی ہیں مین اسٹریم کی سیاسی جماعتیں
محبوبہ مفتی نے کہا- جموں وکشمیر میں ’بلی کا بکرا’ بن گئی ہیں مین اسٹریم کی سیاسی جماعتیں

سری نگر: مرکزی حکومت (Central Government) پر جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) کی مین اسٹریم کی سیاسی جماعتوں کو دبانے کا الزام لگاتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی (Former CM Mehbooba Mufti) نے اتوار کو کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ جماعتیں ’بلی کا بکرا’ بن گئے ہیں اور ’ہر کوئی ان پر ٹھیکرا پھوڑ رہا ہے’۔ پی ڈی پی لیڈر (PDP Leader) نے کہا کہ ان سب کے باوجود وہ آئین کے آرٹیکل 370 (Article 370) کی بحالی کے لئے ایک ’لمبی اور مشکل سیاسی لڑائی’ لڑنے کے لئے تیار ہیں، جسے ’غیر قانونی طریقے’ سے ہٹایا گیا تھا۔


محبوبہ مفتی نے کہا، ’دکھ کی بات ہے کہ مین اسٹریم سیاسی جماعتیں بلی کا بکرا بن گئی ہیں اور سب اس پر ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں’۔ انہوں نے کہا، ’سچ یہ ہے کہ ہم اپنا پوری سیاسی زندگی دہلی کی طرف سے لگ رہے پاکستان حامی ہونے کے الزامات اور کشمیر سے ہندوستان مخالف اور کشمیر مخالف ہونے کے الزامات سے لڑتے ہوئے گزار دیں گے’۔ محبوبہ مفتی نے یہاں ’پی ٹی آئی - بھاشا’ کو دیئے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ پی ڈی پی اور گپکار اتحاد بنانے والی مین اسٹریم کی 6 سیاسی جماعتوں نے صرف جمہوری اور پُرامن طریقوں سے سابقہ ریاست کے خصوصی درجے کو بحال کرانے کے لئے لڑنے کا عزم کیا تھا، لیکن ’ہندوستانی حکومت ہمیں اب بھی دبا رہی ہے اور عدم اطمینان کی آوازوں کو جرائم کی طرح دکھا رہی ہے’۔


محبوبہ مفتی نے کہا کچھ بھی پتھر کی لیکر نہیں


پی ڈی پی لیڈر سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہیں واقعی امید ہے کہ ہندوستان میں کوئی بھی حکومت پارلیمنٹ کے ذریعہ پانچ اگست، 2019 کو آرٹیکل 370 کو ختم کئے جانے کے فیصلے کو پلٹ دے گی، جس فیصلے کا پورے ملک میں بڑے پیمارے پر استقبال کیا گیا، تو انہوں نے کہا، ’کچھ بھی پتھر کی لکیر نہیں ہوتا’۔ محبوبہ مفتی نے کہا، ’اگر پارلیمنٹ کا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہوتا تو لاکھوں لوگ سی اے اے یا زرعی بلوں جیسے قوانین کے خلاف سڑکوں پر نہیں اترے ہوتے’۔ انہوں نے کہا، ’ہم سے جو بھی غیر آئینی طریقے سے چھینا گیا ہے، اسے لوٹانا ہوگا، لیکن یہ لمبی اور مشکل سیاسی لڑائی ہوگی’۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ حال ہی میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل (ڈی ڈی سی) کے انتخابات میں 280 سیٹوں میں سے 112 پر گپکار اتحاد (پی اے جی ڈی) کی جیت نے دکھا دیا ہے کہ عوام نے آرٹیکل 370 کو ختم کئے جانے کے فیصلے کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 03, 2021 05:33 PM IST