ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

عمر عبداللہ کا بڑا بیان، کہا۔ ریاست کا درجہ بحال ہونے تک نہیں لڑوں گا الیکشن، سیاسی حلقوں میں ہنگامہ

عمر عبداللہ کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

  • Share this:
عمر عبداللہ کا بڑا بیان، کہا۔ ریاست کا درجہ بحال ہونے تک نہیں لڑوں گا الیکشن، سیاسی حلقوں میں ہنگامہ
عمر عبداللہ

سری نگر۔ جموں و کشمیر یوٹی میں سابق وزیر اعلی و نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ کی جانب سے دئے گئے ایک بیان کے بعد سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک قومی اخبار کو دئے گئے انٹرویو میں عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جب تک جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ دوبارہ نہیں دیا جاتا تب تک وہ چناو میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس بیان سے یہ صاف مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ عمر عبداللہ  صرف ذاتی طور پر ہی الیکشن سے دور رہنے کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کا اشارہ واضح ہے کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر یوٹی کو ریاست کا درجہ دوبارہ ملنے تک الیکشن سے دور رہ سکتی ہے۔


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس جموں کشمیر یوٹی کی ایک تاریخی اور اہم سیاسی پارٹی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ بیان سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس بیان کو لیکر کشمیر اور جموں میں سیاسی ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب تمام سیاسی پارٹیاں ملک کے وزیر اعظم سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ جموں کشمیر یوٹی کا ریاست کا درجہ دوبارہ بحال کیا جائے۔ نیشنل کانفرنس کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 کا معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور انھیں ملک کی سب سے بڑی عدالت سے یہی امید ہے کہ دفعہ 370 پھر سے بحال ہوگا۔ تاہم نیشنل کانفرنس کی سب سے بڑی مانگ اس وقت یہی ہے کہ جموں کشمیر کا ریاست کا درجہ دوبارہ بحال کیا جائے۔


واضح رہے کہ فاروق عبداللہ بار بار ریاست کا درجہ بحال کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔ اب جب کہ عمر عبداللہ نے ریاست کے درجے کی بحالی تک الیکشن سے دور رہنے کی بات کی ہے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے ریاست کا درجہ بحال ہونے تک الیکشن سے دور رہنے کا من بنالیا ہے۔ اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ عمر عبداللہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب کا نگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے وزیر اعظم سے ملاقات کرکے اسے ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری بھی بار بار ریاست کے درجے کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ اس بیان کو لیکر کانگریس کا کہنا تھا کہ یہ نیشنل کانفرنس کا اپنا موقف ہے تاہم کانگریس کا کہنا تھا کہ وہ جموں کشمیر میں ریاست کے درجے کی بحالی کی بھر پور وکالت کرتی ہے۔


عمر عبداللہ کی جانب سے دئے گئے بیان پر بی جے پی سب سے زیادہ خوش ہے کیونکہ بی جے پی جانتی ہے کہ الیکشن سے نیشنل کانفرنس کے دور رہنے سے اسے جموں کشمیر میں اپنی پارٹی کی حکومت بنانے کا موقع ملے گا۔ بی جے پی کے ترجمان برگیڈیر انیل گپتا کا کہنا ہے کہ عمر عبداللہ کا یہ بیان کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ فی الحال جموں کشمیر میں کوئی چناو نہیں ہونے والے ہیں کیونکہ یہ پہلے ہی صاف کیا جاچکا ہے کہ حالات میں بہتری آنے کے بعد ہی جموں کشمیر میں چناو کرائے جاسکتے ہیں اور عمر عبداللہ کو فی الحال یہ بیان دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ عمر عبداللہ کے اس بیان کو دیکھکر فی الحال یہی لگتا ہے کہ وہ عوامی حلقوں تک یہ بات پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ اور ان کی پارٹی اپنی آئیڈیالوجی سے انحراف نہیں کر سکتی جب کہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ایسی صورت میں جموں و کشمیر اپنی پارٹی اور بی جے پی ساتھ مل کر چناو لڑ سکتی ہیں اور نیشنل کانفرنس کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر وہ حکومت بھی بنا سکتی ہیں۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 27, 2020 02:25 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading