உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں کئی اسکولی بچے بیمار، موسمی Flu سے بیماری لیکن کووڈ کا بھی ہے کنکشن

    ماہر امراض سینہ پروفیسر نوید نذیر کہتے ہیں کہ کسی بھی وائرس سے متاثر بچے نہ صرف اپنے ساتھیوں کو بیمار کرتے ہیں بلکہ اپنے گھروں میں بزرگوں کے لئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں جو پہلے سے کئی امراض میں مبتلا ہیں۔ لہذا ایسے بچوں کو بزرگوں سے دور رکھنا چاہئیے۔

    ماہر امراض سینہ پروفیسر نوید نذیر کہتے ہیں کہ کسی بھی وائرس سے متاثر بچے نہ صرف اپنے ساتھیوں کو بیمار کرتے ہیں بلکہ اپنے گھروں میں بزرگوں کے لئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں جو پہلے سے کئی امراض میں مبتلا ہیں۔ لہذا ایسے بچوں کو بزرگوں سے دور رکھنا چاہئیے۔

    ماہر امراض سینہ پروفیسر نوید نذیر کہتے ہیں کہ کسی بھی وائرس سے متاثر بچے نہ صرف اپنے ساتھیوں کو بیمار کرتے ہیں بلکہ اپنے گھروں میں بزرگوں کے لئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں جو پہلے سے کئی امراض میں مبتلا ہیں۔ لہذا ایسے بچوں کو بزرگوں سے دور رکھنا چاہئیے۔

    • Share this:
    سرینگر: کشمیر میں آج کل بچے بڑی تعداد میں بیمار ہورہے ہیں اور خاص طور پر اسکول جانے والے بچے۔ کشمیر کے سب سے بڑے اسپتال جی بی پنتھ چلڈرن اسپتال کے ایچ او ڈی پروفیسر مظفر جان کہتے ہیں کہ زیادہ تر بچوں میں بخار ، کھانسی اور بدن درد پایا جارہا ہے۔ پروفیسر جان کا کہنا ہےکہ یہ موسمی فلو ہےاور زیادہ تر بچے کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کئی نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے لیکن ان میں کووڈ نہیں پایا گیا۔ ڈاکٹر جان کہتے ہیں کہ اسکولوں میں بچے ساتھ ساتھ رہنے کی وجہ سے کوئی بھی وائرس تیزی سے پھیلتا ہئے جسکے چلتے کئی بچے بیمار ہورہئے ہیں۔

    ادھر کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اسکولی بچوں میں کووڈ بھلے ہی نہ ہو لیکن کووڈ 19 کا تیزی سے پھیل رہے وائریل بیماریوں سے کچھ تعلق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کووڈ کے دوران بچے زیادہ تر گھروں تک ہی محدود رہے اور ان کا واسطہ وائرس یا بیماری پھیلانے والے عناصر سے نہیں پڑا جسکی وجہ سے مدافعتی نظام کمزور پڑ گیا۔ ایسے میں موسمی امراض بھی زیادہ اثر کرنے لگے ہیں۔

    ضرور پڑھئے یہ خبر: OMG! کار چلاتے ہوئے سو گیا ڈرائیور، فٹ پاتھ پر چڑھادی گاڑی، CCTV فوٹیج ہوا وائرل

    ماہر امراض سینہ پروفیسر نوید نذیر کہتے ہیں کہ کسی بھی وائرس سے متاثر بچے نہ صرف اپنے ساتھیوں کو بیمار کرتے ہیں بلکہ اپنے گھروں میں بزرگوں کے لئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں جو پہلے سے کئی امراض میں مبتلا ہیں۔ لہذا ایسے بچوں کو بزرگوں سے دور رکھنا چاہئیے۔ کچھ دن قبل سرینگر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں دو درجن کے قریب طلبا کووڈ مثبت پائے گئے تھے لیکن بعد میں بڑے پیمانے پر کووڈ ٹیسٹ کروائے گئے لیکن وہاں کوئی مزید طالب علم کووڈ مثبت نہیں پایا گیا۔

    ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق راتھر کا کہنا ہے کہ کووڈ ٹیسٹنگ اسکولوں میں مسلسل کی جا رہی ہے لیکن یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ اسکول کھلنے کے ایک ہفتے بعد ہی زیادہ تر اسکول انتظامیہ نے لاکھوں روپے سے خریدے گئے سکینر بند ہی رکھے۔ اگر سکیننگ کا عمل جاری رہتا تو یہ موسمی وائرس اسکولوں میں اس قدر نہیں پھیلتا۔ ایسے میں ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ کھانسی، بخار کی علامتیں دیکھتے ہی وہ بچوں کو اسکول نہ بھیجیں اور ڈاکٹر سے رجوع کرکے صحتیاب ہونے کے بعد ہی بچوں کو اسکول بھیج دیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: