உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine War: جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے جموں و کشمیر کے بہت سے طلباء بحفاظت وطن لوٹے

    وطن واپس لوٹے یہ طالب علم حکومت ہند خاص کر وزیر اعطم کے شکر گزار ہیں جنہوں نے وقت پر انکی وطن واپسی کے انتظامات کئے۔ گزشتہ کئی روز سے بھارتی سفارتخانہ یوکرین سے بھارتیوں کو واپس لانے میں مصروف ہے اور اس دوراں ہزاروں طالب علموں اور دیگر بھارتیوں کو واپس وطن لایا گیا ہے۔

    وطن واپس لوٹے یہ طالب علم حکومت ہند خاص کر وزیر اعطم کے شکر گزار ہیں جنہوں نے وقت پر انکی وطن واپسی کے انتظامات کئے۔ گزشتہ کئی روز سے بھارتی سفارتخانہ یوکرین سے بھارتیوں کو واپس لانے میں مصروف ہے اور اس دوراں ہزاروں طالب علموں اور دیگر بھارتیوں کو واپس وطن لایا گیا ہے۔

    وطن واپس لوٹے یہ طالب علم حکومت ہند خاص کر وزیر اعطم کے شکر گزار ہیں جنہوں نے وقت پر انکی وطن واپسی کے انتظامات کئے۔ گزشتہ کئی روز سے بھارتی سفارتخانہ یوکرین سے بھارتیوں کو واپس لانے میں مصروف ہے اور اس دوراں ہزاروں طالب علموں اور دیگر بھارتیوں کو واپس وطن لایا گیا ہے۔

    • Share this:
    سروس کی طرف سے یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد سے وہاں مقیم ہندوستانی طالب علم وطن واپس لوٹنے کی کوشش میں ہیں اور اب دھیرے دھیرے یہ طالب علم اپنے وطن لوٹ رہے ہیں۔ وطن واپس لوٹنے والے طالب علم اور ان کے اہل خانہ راحت کی سانس محسوس کر رہے ہیں۔ وطن واپس لوٹے یہ طالب علم حکومت ہند خاص کر وزیر اعطم کے شکر گزار ہیں جنہوں نے وقت پر انکی وطن واپسی کے انتظامات کئے۔ گزشتہ کئی روز سے بھارتی سفارتخانہ یوکرین سے بھارتیوں کو واپس لانے میں مصروف ہے اور اس دوراں ہزاروں طالب علموں اور دیگر بھارتیوں کو واپس وطن لایا گیا ہے۔ وطن واپس لوٹنے والے طالب علموں میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے کئی طالب علم شامل ہیں جو یوکریں میں جنگ کی وجہ سے وہاں پھنسے ہوئے تھے اور کئی روز سے اس انتظار میں تھے کہ کب انہیں وطن واپس آنے کا موقع ملے گا۔ بھارت سرکار نے اس سلسلے میں آپریشن گنگا شروع کرکے جہاں ایک طرف شہری ہوا بازی کی مدد لی وہیں فوجی جہازوں کے زریع بھی ایسے لوگوں کو وطن واپس لانے کا انتظام کیا گیا۔ جموں و کشمیر کے وطن واپس لوٹنے والے طالب علموں میں بٹھنڈی جموں کے ناظم علی بھی شامل ہیں جو کل اپنے گھر لوٹ آئے ہیں۔ کئی روز تک انتظار کے بعد ناظم علی کو واپس جموں و کشمیر آنے کا موقع ملا۔بٹھنڈی جموں میں محمد عزیز کے گھر میں آج خوشی کا ماحول ہے کیونکہ ان کا لختہ جگر ناظم یوکرین سے واپس کل وطن پہنچا ہے ۔

    ناظم چودھری کے رشتہ دار انکے گھر پہنچ رہے ہیں اور ناظم کی گھر واپسی کا جشن منانے میں انکے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ ناظم پولینڈ سرحد کے نزدیک ایک یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کا کورس کر رہے ہیں لیکن روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کی وجہ سے وہ اب وہاں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔ ناظم کا کہنا ہے کہ چوبیس فروری کو اچانک صُبح سویرے انہیں اسبات کی اطلاع ملی کہ روس نے یوکرین پر حملہ کیا جسکے بعد وہ اور انکے کئی ساتھی اس کوشش میں رہے کہ کس طرح وہ وہاں سے نکل جائیں۔سُنئیے ناظم کن مشکلات کا مقابلہ کرکے گھر واپس لوٹے ہیں۔ناظم کے گھر والے تو آج خوش ہیں لیکن جب سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا تب سے وہ کافی پریشان تھے کیونکہ انکا لختہ جگر یوکرین میں پھسا تھا اور وہ گھرو واپس آنے کے لئے بے تاب تھا۔

    ناظم چودھری کی بہن سائیمہ کا کہنا ہے کہ انکا کئی روز تک بھائی بھوکا پیاسا رہا تاہم کئی مشکلات کو پار کرکے وہ پولینڈ سرحد پر پہنچنے میں کامیاب ہوا اور اس دوران انہیں لگ بھگ ۱۹ کلومیٹر کا پیدل سفر کرنا پڑا۔ناظم کے والدین اس بات سے مطمعین ہیں کہ انکا بیٹا آخر کار بہ حفاظت واپس پہنچا لیکن اس سب کے لئے وہ ناظم کی بہادری کی داد دیتے ہیں ۔ وہ اسبات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مرکزی سرکار اور یوٹی سرکار نے انکے بیٹے اور دیگر طالب علموں کی وطن واپسی کے لئے کافی جدوجہد کی۔ ناظم کے والدیں بھارتی سفارخانے کے اہلکاروں کے کافی شکر گزار پہیں جنہوں نے ناظم اور دیگر طالب علموں کو وہاں سے نکالنے میں کافی مدد کی۔

    ایسے کئی اور بھی گھر ہیں جہاں آج کل خوشی کی لہر ہے کیونکہ بھارتی سرکار کی کوششوں کے سبب انکے لخت جگر جنگ سے متاثرہ یوکرین سے گھر لوٹ پائے ہیں اور یہ سبھی لوگ بھارتی سرکار کا شکر گزار ہیں۔ تاہم ایسے بھی کئ طالب علم ہیں جو ابھی بھی جنگ سے متاثرہ یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ وطن واپسی کی اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔

    گزشتہ آٹھ دنوں سے کو مناسا کی نہا نامی لڑکی یوکرین کے کھرکیب علاقے میں پھنسی تھی لیکن اب وہ پولینڈ سرحد پر پہنچ گئی ہے اور اب جموں میں انکے گھر والے اس پل کے انتظار میں ہیں کہ کب انکی بیٹی واپس جموں پہنچ جائے گی۔ انکے والد نے نیوز ایٹین کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے حد پریشان ہیں اور دن رات اپنی بیٹی کی واپسی کے لئے فکر مند ہیں۔ اسی طرح تریکوٹا نگر کی دیکھشا کھنہ بھی یوکرین میں کئی روز سے پھنسی ہے جس وجہ سے انکے اہل خانہ کافی پریشان ہیں ۔ ایسے افراد کے والدین اس امید سے جی رہے ہیں کہ ہر حال میں بھارت سرکار انکے بچوں کو بحفاظت وطن لائے گی تاکہ انکی پریشانی دور ہوجائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: