உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    51 جوڑوں کی اجتماعی شادی، معاشی طور پر کمزور بہنوں کی مدد کیلئے آئے بھائی 

    عمر وانی کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں سب سے زیادہ نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچے ہیں لیکن شادیوں میں خرچے کی وجہ سے شادیاں نہیں کرپاتے۔ اس این جی او نے معاشی طور کمزور ایسے ہی جوڑوں کا نکاح کروانے کا ذمہ لیا ہے

    عمر وانی کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں سب سے زیادہ نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچے ہیں لیکن شادیوں میں خرچے کی وجہ سے شادیاں نہیں کرپاتے۔ اس این جی او نے معاشی طور کمزور ایسے ہی جوڑوں کا نکاح کروانے کا ذمہ لیا ہے

    عمر وانی کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں سب سے زیادہ نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچے ہیں لیکن شادیوں میں خرچے کی وجہ سے شادیاں نہیں کرپاتے۔ اس این جی او نے معاشی طور کمزور ایسے ہی جوڑوں کا نکاح کروانے کا ذمہ لیا ہے

    • Share this:
    سرینگر: خانیار سرینگر کے میرج یال میں آج الگ ہی ماحول تھا۔ شادیاں تو یہاں ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن آج تو جیسے شادیوں کی بارات ہی تھی۔ جی ہاں آج یعنی اکیس جولائی کو اس شادی خانہ میں 51 جوڑوں کا نکاح ہوا۔ بینڈ باجہ اور بارات والا ماحول تو نہیں تھا لیکن شادیوں سے منسلک تمام لوازمات پورے کئے گئے۔ وِی دا ہیلپنگ ہینڈس نامی ایک این جی او نے اس اجتماعی نکاح کا اہتمام کیا۔ کشمیر کی شادی ہو تو وازوان نہ ہو ایسا ممکن نہیں لہذا وازوان کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ جن جوڑوں کی یہاں شادی کرائی گئی یہ تمام ایسے لوگ نہیں جو اپنی شادیوں کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتے۔

    عمر وانی اس مشن کے روح رواں ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اُن کے لئے آج یہاں کھڑا ہونا آسان نہیں۔ کل دادا کا انتقال ہوا اور ماتم کے اس ماحول میں وہ یہاں تما۔م انتظامات کررہے ہیں کیونکہ پروگرام پہلے سے طے تھا اور اس کو بدلا نہیں جاسکتا۔ عمر وانی کے ساتھ این جی او کے کئی رضا کار کام پر لگے رہے۔ ایک رضا کار مدثر نے بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ انکی بہنوں کی شادی ہے ۔ وی دی ہیلپنگ ہینڈس نامی اس این جی او نے اس سے قبل ماچ اور مئی میں دو اجتماعی نکاح کروائے۔

    اسرائیلی یہودی صحافی پہنچ گیا مکہ مکرمہ، سعودی عرب سے تعلقات پر بھی بولا اور۔۔۔

    Droupadi Murmu دروپدی مرمو نے جیت لیا صدارتی الیکشن، یشونت سنہا نے پیش کی مبارکباد

    عمر وانی کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں سب سے زیادہ نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچے ہیں لیکن شادیوں میں خرچے کی وجہ سے شادیاں نہیں کرپاتے۔ اس این جی او نے معاشی طور کمزور ایسے ہی جوڑوں کا نکاح کروانے کا ذمہ لیا ہے۔ اس اجتماعی نکاح میں مذہبی رسوم کے علاوہ نئے جوڑوں کو نئی زندگی شروع کرنے کے لئے تمام ضروری سامان میسر کیا جاتا ہئے۔ حال ہی کی گئی ایک سروے کے مطابق 29 سال کی عمر تک کے غیر شادی شدہ نوجوانوں کی سب سے بڑی تعداد جموں کشمیر میں موجود ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: