உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں ہوئی بھاری بارش سے فصلوں کو پہنچا کافی نقصان

    جموں صوبے کے جموں ، سانبہ، ریاسی اور اودھمپور اضلاع میں کھڑی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔

    جموں صوبے کے جموں ، سانبہ، ریاسی اور اودھمپور اضلاع میں کھڑی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔

    جموں صوبے کے جموں ، سانبہ، ریاسی اور اودھمپور اضلاع میں کھڑی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: حالیہ دنوں جموں صوبے کے کئی علاقوں میں ہوئی بھاری بارش اور ژالہ باری سے فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے جس وجہ سے کسانوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ بھاری بارش اور ژالہ باری سے کھڑی فصلوں جیسے کہ دھان اور سبزیوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ جموں صوبے کے جموں ، سانبہ، ریاسی اور اودھمپور اضلاع میں کھڑی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔ کسنوں کے مطابق دھان کی فصل بالکل تیار تھی لیکن بارشوں اور ژالہ باری نے اسے تباہ کیا یہاں تک کہ کاٹی ہوئی فصلیں بھی تباہ ہوئیں۔ بارڈر کسان یونین کے صدر موہن سنگھ بٹی نے نیوز ایٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سانبہ ضلع کا رام نگر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ انکا کہنا ہے کہ سانبہ کے نانڈ پور، کھور ، ساکہ چک، ڈک ثھنی اور تال کے ساتھ ساتھ دیگر کئی علاقوں میں فصلوں کو کافی نقصان پہنچا۔ آر ایس پورہ کے سُچیت گڈھ کے سُرجیت چودھری کا کہنا ہے کہ انکے علاقے یں سو فی صد کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بارشوں سے کچھ کچے مکان بھی گر گئے۔ جموں کے مڈ علاقے میں رہنے والے کسان کشور سنگھ کا کہنا ہے کہ انکے علاقے میں بھی کھڑی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کسان پہلے سے ہی کئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب اس آفت نے انکی مشکلات بڑھادی ہیں۔ کشور سنگھ کا کہنا ہے ہ انکے پاس آٹھ کنال زرعی زمین ہے لیکن گزشتہ کئی سالوں سے لگاتار پیداوار میں گراوٹ دیکھنے کو ملی۔۔ اس علاقے کے کسان ظالم سنگھ کے مطابق پہلے ہی انکی زرعی زمین سے کچھ خاص پیداوار نہیں ہورہی ہے اور اب ان حالات نے انہیں اور بھی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔

    اودھمپور کے چنانی علاقے کے کسان ترسیم سنگھ کے مطابق اب کسانوں کی نظریں سرکار کی طرف ٹکی ہوئی ہیں اور معاوضے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جہاں انبارشوں سے فصلیں تباہ ہوئی وہیں غریب لوگوں کے کئی کچے مکان بھی تباہ ہوئے اور لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انکی مانگ ہے کہ جلد سے جلد انتظامیہ نقصان کا تخمینہ لگاکر متاثرین کو معاوضہ دے۔اسی دوران جموں کے ڈیویژنل کمشنر ڈاکٹر راگھو لانگر نے حالات کا جائزہ لے کر کسانوں کو جلد معاوضہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جموں کے ڈپٹی کمشنر انشُل گرگ نے کل جموں ضلع کے آر ایس پورہ، سُچیت گڈھ، بشناہ ، ارنیا اور دیگر کئی علاقوں کو دورہ کرکے فصلوں کو ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا۔

    انہوں نے اس موقع پر کہا کہ واقعی میں کسانوں کو کافی نقصان ہوا ہے اور جلد ہی انکی مالی معاونت کی جائے گی۔نہ صر ف جموں خطے میں بلکہ وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں بھی ان بارشوں اور ژالہ باری سے فصلوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ وادی کشمیر میں کسان اس موسم میں اپنی فصلیں کاٹنے کے کام میں مشغول تھے تاہم غیر متوقع موسمی حالات نے انکی مشکلات کو دوگنا کردیا اور بہت ساری دھان کی فصلیں تباہف ہوئیں۔ اسکے علاوہ میوہ باغات ک بھی ژالہ باری اور برفباری سے کافی نقصان ہوا ہے۔ اس دوران جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ سرکار اسبات سے واقف ہے کہ جموں و کشمیر کے کسانوں کو بارشوں ، ژالہ باری اور برفباری سے کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لئے پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تخمینہ لگاکر سرکار کو رپورٹ پیسش کرے گی اور سرکار کسانوں کے نقصان کی برپائی کے لئے اقدامات کرے گی۔دوسری طرف متاثرہ کسان سرکاری یقین دہانیوں سے زیادہ خوش نہیں ہیں ۔ انکو لگتا ہے کہ سرکار ٹال مٹول کر رہی ہے ۔ انکی مانگ ہے کہ سرکار فوری طور پر انکے لئے ایک جامع راحت پیکیج کا اعلان کرے تاکہ کسانوں کو کچھ راحت ملے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: