உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Srinagar میں اسپتال میں لگی بھیانک آگ، معجزاتی طور بچ گئے مریض لیکن عمارت تباہ

    Youtube Video

    انتظامیہ کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ڈیوزنل کمشنر کشمیر پی کے پولے کے مطابق تمام 108 مریضوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور اسپتال کا عملہ بھی محفوظ ہے۔ آگ اسپتال کی تین منزلہ عمارت کے اوپری حصہ سے شروع ہوئی اور پھر ایک دھماکہ کے ساتھ پورے اسپتال میں پھیل گئی۔

    • Share this:
    سرینگر کے بون اینڈ جوائنٹ اسپتال میں آگ کی ہولناگ واردات میں اسپتال عمارت کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ خاکستر ہوا لیکن انتظامیہ کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ڈیوزنل کمشنر کشمیر پی کے پولے کے مطابق تمام 108 مریضوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور اسپتال کا عملہ بھی محفوظ ہے۔ آگ اسپتال کی تین منزلہ عمارت کے اوپری حصہ سے شروع ہوئی اور پھر ایک دھماکہ کے ساتھ پورے اسپتال میں پھیل گئی۔ اسپتال کے ایک ملازم نے کہا کہ وہ ایک مریض کا ایکسرے نکال رہا تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی اور اس کے ساتھ ہی شور مچ گیا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ آگ لگ گئی ہے تو اسپتال کے ملازمین نے تیمار داروں کے ساتھ مل کر مریضوں کو باہر نکالنا شروع کیا ۔

    عبد الرشید نامی ایک تیماردار نے بتایا کہ آگ نمودار ہونے کے تھوڑی دیر بعد انھوں نے دھماکے کی آواز سنی اور پھر آگ تیزی سے پھیل گئی۔ مقامی لوگوں نے آکر مریضوں کو اسپتال عمارت سے باہر نکالنے میں تینارداروں اور اسپتال انتظامیہ کی مدد کی۔ فائر سروسز کی گاڑیاں بھی موقع واردات پر پہنچی اور انکے ساتھ ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے اہلکار بھی پہنچے ۔ محکمہ فائر سروسز نے تیزی سے پھیل رہی آگ پر قابو پانے کے لئے دو درجن کے قریب گاڑیاں کام پر لگا دیں اور مقامی انتظامیہ اور ایس ڈی آر ایف کے اہلکار بھی مقامی نوجوانوں کے ساتھ مریضوں کو سڑک سے اسپتالوں کی طرف منتقل کرنے میں جٹ گئے۔ محکمہ صحت نے شیر بھر سے ایمبولنس بلا کر مریضوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا ۔

    فائر سروس عملہ کو آگ پر قابو پانے میں تین گھنٹے کا وقت لگا۔ ضلع ترقیاتی کمشنر محمد اعیجاز اسد اور مئیر جنید عاظم متو ایس ایس پی سرینگر راکیش بلوال پوری کاروائی کے دوران وہاں موجود رہے۔ ڈیوزنل کمشنر پی کے پولے بھی وہاں پہنچے۔ انھوں نے بتایا کہ آگ کی اصل وجوہات کا ابھی پتہ نہیں چل پایا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پی کے پولے نے البتہ کہا کہ ایک پی جی سلنڈر اسپتالوں میں نہیں رکھے جانے چاہئیے اور اسپتال میں آگ بجھانے کے انتظامات کی موجودگی کی بھی رپورٹ لی جائے گی۔

    اس موقع پر ضلع ترقیاتی کمشنر محمد اعیجاز اسد نے کہا کہ مریضوں کو محفوظ کرنے میں وہ کامیاب رہے جو راحت کی بات ہے کیونکہ ہڈیوں کی چوٹوں می۔ مبتلا مریضوں کو اتنی جلدی باہر نکالنا مشکل کام ہے۔ کشمیر میں پرانی اسپتال عمارات میں آگ سے نمٹنے کے اچھے انتظامات نہیں ہیں اور یہی حال دیگر عوامی عمارات کا بھی ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: