உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محبوبہ مفتی کا پی ایم کو خط، کہا۔ کھیلوں کے معاملات میں ہر فرد کی پسند نجی، یہ حب الوطنی کے دائرے میں نہیں

    Youtube Video

    محبوبہ مفتی نے کہا ہے طاقت اور دباؤ کے بل پر کسی کو بھی حب الوطنی کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا ہے جبکہ کھیلوں کے معاملات میں ہر فرد کی نجی پسند کو بھی دباؤ کی بنیاد پر بدلا نہیں جا سکتا ہے۔

    • Share this:
      پی ڈی پی صدر و جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے طاقت اور دباؤ کے بل پر کسی کو بھی حب الوطنی کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا ہے جبکہ کھیلوں کے معاملات میں ہر فرد کی نجی پسند کو بھی دباؤ کی بنیاد پر بدلا نہیں جا سکتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار اپنے اننت ناگ کے نجی دورے کے دوران میڈیا کے ساتھ کیا۔

      پی ڈی پی صدر نے حالیہ عرصے کشمیری طلباء کی گرفتاریوں کا مسئلہ وزیر اعظم کے ساتھ اٹھایا ہے ۔۔محبوبہ مفتی نے اس ضمن میں وزیر اعظم مودی کو خط لکھا ہے۔۔انہوں نے بغاوت کے الزام میں آگرہ میں کشمیری اسٹوڈنٹس کی گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق جموں کشمیر اور دہلی کے بیچ دل کی دوری کو ختم کریں ۔

      احتجاجی مارچ نکالنے کی پی ڈی پی کارکنوں کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنادیا ۔ سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر سے ان لوگوں نے مارچ نکالا تھا لیکن وہاں پہلے سے تعینات کی گئی پولیس نفری نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے باز رکھا جس پر پی ڈی پی کارکنوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر کے احاطے میں ہی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ حالیہ عرصے ملک کے مختلف کالجوں سے کشمیری طلباء کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج درج کرایا گیا۔ اسٹوڈنٹس کی گرفتاریوں کی پی ڈی پی نے مذمت کی ہے۔ اُن اسٹوڈنٹس پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت کا جشن منانے کا الزام ہے۔ تمام طلباء کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان طلباء پر عائد الزامات کو خارج کرنے کا پی ڈی پی نے مطالبہ کیا ہے ۔

       

      پی  ڈی پی کے ورکروں نے آگرہ کے ایک کالج میں پاکستان حامی نعرہ بازی کرنے کے الزام میں گرفتار کشمیری طلبا کی رہائی کو لے کر ہفتے کے روز احتجاج کیا۔ تاہم پولیس نے ان احتجاجیوں کو یہاں شیر کشمیر پارک کے متصل واقع پارٹی ہیڈکوارٹر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے وہ احتجاجی مارچ نہیں کرسکے۔ پولیس نے پارٹی ہیڈ کوارٹر کے مین گیٹ کو باہر سے بند کر دیا تھا جس کے بعد کارکن گیٹ پر چڑھ کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔ اس موقع پر ایک احتجاجی نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سیاسی لیڈروں، صحافیوں اور کسی بھی فرد کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر کوئی بات کرتا ہے تو اس کو جیل میں ڈالا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج پر امن احتجاج کرنے والے تھے لیکن ہمیں پارٹی ہیڈ کوارٹر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

      پارٹی صدر محبوبہ مفتی کے بارے میں یہ پوچھے جانے پر کہ وہ یہاں موجود کیوں نہیں ہے، کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’ہماری پارٹی صدر کو خانہ نظر بند رکھا جاتا ہے اور انہیں کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے‘۔ موصوف احتجاجی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ آگرہ میں گرفتار ہمارے بچوں کو فوری طور پر باعزت رہا کیا جانا چاہئے۔  وہیں پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے پر آگرہ میں کشمیری طالب علم شوکت احمد کو  گرفتار کر لیا گیا ۔ سرینگر میں طالب علم کی ماں نے ایل جی منوج سنہا  سے اپنے بیٹے کو معاف کرنے اور رہا کرنے کی اپیل کی۔

      قابل ذکر ہے کہ آگرہ کے ایک انجیئرنگ کالج میں پاکستان کی ہندوستان کے خلاف ٹی ٹونٹی میچ میں جیت کے بعد مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں تین کشمیری طلبا کو گرفتار کیا گیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: