உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: گھرمیں نظر بند ہیں محبوبہ مفتی، پولیس نے دروازے پر لگا دیا ہے تالا: پی ڈی پی لیڈر

    جموں وکشمیر: گھرمیں نظر بند ہیں محبوبہ مفتی: پی ڈی پی لیڈر کا پولیس پر بڑا الزام

    جموں وکشمیر: گھرمیں نظر بند ہیں محبوبہ مفتی: پی ڈی پی لیڈر کا پولیس پر بڑا الزام

    Mehbooba Mufti House Arrest: ایک پولیس افسر نے کہا کہ سیکورٹی وجوہات سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سربراہ محبوبہ مفتی کو اننت ناگ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    • Share this:

      سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ایک لیڈر نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو پیر کو گھر میں نظربند کر دیا گیا تاکہ وہ گزشتہ ہفتے سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان گولی باری میں مارے گئے ایک نوجوان کی فیملی سے ملنے کے لئے اننت ناگ نہیں جاسکیں۔ پی ڈی پی کے لیڈر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے محبوبہ مفتی کے گھر کے اہم گیٹ پر تالا لگا دیا ہے۔


      ایک پولیس افسر نےکہا کہ سیکورٹی وجوہات سے پی ڈی پی سربراہ کو اننت ناگ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس کے مطابق، 24 اکتوبرکو شوپیاں ضلع میں مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے جوانوں اور دہشت گردوں کے درمیان گولی باری میں شاہد احمد کی موت ہوگئی تھی۔ پی ڈی پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ محبوبہ مفتی کو یہاں شہر کے گپکار علاقے میں ان کے فیئرویو رہائش گاہ میں نظر بند کردیا گیا اور انہیں باہر نہیں جانے دیا گیا۔




      پی ڈی پی کے لیڈر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے محبوبہ مفتی کے گھر کے اہم گیٹ پر تالا لگا دیا ہے۔
      پی ڈی پی کے لیڈر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے محبوبہ مفتی کے گھر کے اہم گیٹ پر تالا لگا دیا ہے۔

      محبوبہ مفتی کو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں مارے گئے نوجوان شاہد احمد کی فیملی سے ملنے جانا تھا۔ پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ محبوبہ مفتی سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت کرنا چاہتی تھیں، لیکن انہیں اپنی رہائش گاہ سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔


      پی ڈی پی لیڈر کے مطابق، پولیس نے محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ کے مین گیٹ (اہم دروازے) پر تالا لگا دیا ہے۔ کسی بھی طرح کی آمدورفت پر روک لگانے کے لئے گیٹ کے ٹھیک باہر ایک پولیس کی گاڑی تعینات کی گئی ہے۔ شاہد احمد کی موت پر وادی میں مین گیٹ کی سیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: