ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

مزار شہدا کو بند کر کے کشمیرکی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے: محبوبہ مفتی

جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ یوم شہدا کے موقع پر مزار شہدا کو بند کرکے کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنے اور کشمیریوں کے دلوں میں احساس بے بسی و شکست پیدا کرنے کی کوششیں کی جار ہی ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 13, 2021 03:25 PM IST
  • Share this:
مزار شہدا کو بند کر کے کشمیرکی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے: محبوبہ مفتی
مزار شہدا کو بند کر کے کشمیرکی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے: محبوبہ مفتی

جموں: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ یوم شہدا کے موقع پر مزار شہدا کو بند کرکے کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنے اور کشمیریوں کے دلوں میں احساس بے بسی و شکست پیدا کرنے کی کوششیں کی جار ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 13 جولائی 1931 کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے وقار کی بحالی کے لئے ہمارا عزم مضبوط ہے۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کیا ہے۔


محبوبہ مفتی کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا: 'آج یوم شہدا کے موقع پر مزار شہدا کے دروازوں کو مقفل کر دیا گیا۔ کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرکے کشمیریوں کے دلوں میں احساس بے بسی و شکست پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں'۔ ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا: 'تاہم ہم جب آج 13 جولائی 1931 کے بہادروں کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، ہمارا جموں و کشمیر کے وقار کی بحالی کے لئے جاری جدوجہد کا عزم مضبوط رہے گا'۔




 محبوبہ مفتی کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا: 'آج یوم شہدا کے موقع پر مزار شہدا کے دروازوں کو مقفل کر دیا گیا۔ کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرکے کشمیریوں کے دلوں میں احساس بے بسی و شکست پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں'۔

محبوبہ مفتی کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا: 'آج یوم شہدا کے موقع پر مزار شہدا کے دروازوں کو مقفل کر دیا گیا۔ کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرکے کشمیریوں کے دلوں میں احساس بے بسی و شکست پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں'۔

بتا دیں کہ سری نگر کے نقشبند صاحب علاقے میں واقع مزار شہدا پر منگل کے روز 'یوم شہدا' کے موقع پر جہاں اس سال بھی خاموشی چھائی رہی اور اس تاریخی مزار کی طرف جانے والے راستے مسدود رہے۔ وہیں سرکاری سطح پر بھی مسلسل دوسرے برس بھی کوئی تعطیل رہی نہ کسی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
سری نگر میں سینٹرل جیل کے باہر13 جولائی 1931 کو ڈوگرہ فوجیوں کے ہاتھوں 22 کشمیریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ بعد میں سال 1948 میں اس وقت کے جموں وکشمیر کے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ نے اس دن کو 'یوم شہدا' قرار دیا تھا اور اس دن سرکاری تعطیل کا اعلان کیا تھا۔
تاہم دسمبر 2019 میں یونین ٹریٹری انتظامیہ نے سرکاری تعطیلات کی فہرست سے نہ صرف 13 جولائی کی چھٹی کو حذف کردیا بلکہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش 5 دسمبر کے تعطیل کو بھی ختم کردیا جبکہ 27 اکتوبر کو سرکاری تعطیل رکھا گیا جس دن مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 13, 2021 03:19 PM IST