ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

محبوبہ مفتی کا مودی حکومت پر بڑا الزام، پُرامن احتجاج کو دبانے کے لئے یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا ہو رہا ہے استعمال

جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر کے بعد اب ملک کے دیگر حصوں میں بھی لوگوں کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا استعمال کر رہی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 29, 2021 04:31 PM IST
  • Share this:
محبوبہ مفتی کا مودی حکومت پر بڑا الزام، پُرامن احتجاج کو دبانے کے لئے یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا ہو رہا ہے استعمال
محبوبہ مفتی کا مودی حکومت پر بڑا الزام، پُرامن احتجاج کو دبانے کے لئے یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا ہو رہا ہے استعمال

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر کے بعد اب ملک کے دیگر حصوں میں بھی لوگوں کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے پُر امن احتجاجوں کو ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے اور ان کو دبانے کے لئے دہشت گردی مخالف قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔



جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ میں کہا: ’حکومت ہند کشمیریوں کو خاموش کرانے کے لئے استعمال کئے جانے والے کالے قوانین کا اب ملک کے دیگر حصوں میں بھی استعمال کر رہی ہے۔ خوا ہ وہ سی اے اے کے احتجاج ہوں یا کسانوں کے احتجاج، ان دونوں پر امن احتجاجوں کو ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے اور انہیں دبانے کے لئے یو اے پی اے جیسے دہشت گردی مخالف کالے قوانین کا استعمال کیا جا رہا ہے‘۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے گذشتہ روز زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسان گھبرائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس بندے نے یوم جمہوریہ کی تقریب کے موقع پر دلی میں تشدد کو ہوا دی اس کے بی جے پی لیڈروں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 29, 2021 04:31 PM IST