உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محبوبہ مفتی نے کہا- کشمیر کی خاموشی کو نارملسی سے تعبیر کرکے لوگوں کو کیا جا رہا ہے گمراہ

    محبوبہ مفتی نے کہا- کشمیر کی خاموشی کو نارملسی سے تعبیر کرکے لوگوں کو کیا جا رہا ہے گمراہ

    محبوبہ مفتی نے کہا- کشمیر کی خاموشی کو نارملسی سے تعبیر کرکے لوگوں کو کیا جا رہا ہے گمراہ

    پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا دعویٰ ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر پر چھائی قبرستان کی خاموشی کو نارملسی سے تعبیر کرکے دنیا کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست جماعتیں ہمارے آپسی بھائی چارے پر حملے کرنا چاہتی ہیں اور ہمیں آپس میں ہی لڑوانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      جموں: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا دعویٰ ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر پر چھائی قبرستان کی خاموشی کو نارملسی سے تعبیر کرکے دنیا کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست جماعتیں ہمارے آپسی بھائی چارے پر حملے کرنا چاہتی ہیں اور ہمیں آپس میں ہی لڑوانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ہمیں یہاں پر امن طریقے سے بھی احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور جب وہ (حکام) چاہتے ہیں مجھے نظر بند کر دیتے ہیں۔


      سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز مینڈھر کے دورے کے دوران نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا: ’یہاں کی خاموشی کا مطلب نارملسی نکالا جا رہا ہے اور باہر کے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا: ’جو یہاں وزرا و ارکان پارلیمان آتے ہیں ان کو اضلاع میں لیا جاتا ہے یہ دکھانے کے لئے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے، جو قبرستان کی خاموشی یہاں چھائی ہوئی ہے ان کو لگتا ہے کہ یہی نارملسی ہے‘۔
      محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکومت بلند بانگ دعوے کرتی تھی کہ دفعہ 370 اور دفعہ35 اے یہاں کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں جو اب غلط ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست جماعتیں کہیں نہ کہیں ہمارے آپسی بھائی چارے پر حملے کرنا چاہتی ہے اور ہمیں آپس میں ہی لڑوانا چاہتی ہیں۔ پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں رشوت کافی بڑی ہے جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہاں پر امن طریقے سے بھی احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور جب وہ (حکام ) چاہتے ہیں مجھے نظر بند کر دیتے ہیں۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: