ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

محبوبہ مفتی نے کہا- جب بات کشمیریوں کی ہوتی ہے تو اپنایا جاتا ہے دوہرا معیار

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے حق آزادی پر برہمی ظاہر کرنے پر متفق ہوں لیکن جب بات کشمیریوں کی ہوتی ہے تو دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔

  • Share this:
محبوبہ مفتی نے کہا- جب بات کشمیریوں کی ہوتی ہے تو اپنایا جاتا ہے دوہرا معیار
محبوبہ مفتی نے کہا- جب بات کشمیریوں کی ہوتی ہے تو اپنایا جاتا ہے دوہرا معیار

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے حق آزادی پر برہمی ظاہر کرنے پر متفق ہوں لیکن جب بات کشمیریوں کی ہوتی ہے تو دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔ انہوں نے ان باتوں کا اظہار ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کی ضمانتی عرضی کو ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے رد کرنے پر عدالت عظمیٰ کی برہمی کے رد عمل میں اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اپنے ٹوئٹ میں کہا: 'میں عدالت عظمیٰ کے حق آزادی پر برہمی ظاہر کرنے پر متفق ہوں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ برہمی یکطرفہ ہے کیونکہ سینکڑوں کشمیری اور صحافی بے بنیاد الزامات پر جیلوں میں بند ہیں۔ ان کی شنوائی تک نہیں ہوتی ہے عدالتی حکمناموں کی بات ہی نہیں ہے۔ ان کی آزادی کے لئے برہمی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جاتا ہے'۔ 


فاروق عبداللہ نے بی جے پی پر لگایا بڑا الزام


اس سے قبل نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا  کہ کشمیر کے لوگوں کو پاکستانی قرار دینا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا پرانا ہتھکنڈہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وہ جماعت ہے کہ جس نے ملک کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے، جس کے لئے انہیں ملک کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے یہاں میڈیا کو بتایا: 'بی جے پی کا یہ پرانا ہتھکنڈہ ہے کہ وہ جموں کے لوگوں کو ڈرانے اور اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے کہتی رہتی ہے کہ کشمیر کے لوگ پاکستانی ہیں اور ہم ہی صرف ہندوستانی ہیں'۔




نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا  کہ کشمیر کے لوگوں کو پاکستانی قرار دینا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا پرانا ہتھکنڈہ ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کو پاکستانی قرار دینا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا پرانا ہتھکنڈہ ہے۔

سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کو سوچنا چاہئے کہ انہوں نے جموں کے ساتھ کیا کیا، آج ہماری زمین اور نوکریوں کو باہر کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے، اس صورتحال میں ہمارے بچے بچیاں کہاں جائیں گی۔ انہوں نے کہا: 'فاروق عبداللہ کو یہ لوگ کچھ بھی کہیں اس کا جواب فاروق عبداللہ دے سکتا ہے، لیکن انہیں ایک دن جموں کے لوگوں کو جواب دینا پڑے گا'۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد جو جموں کے لوگوں کے ساتھ وعدے کئے گئے ان کا کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مین اسٹریم سیاسی لیڈروں کو بند کرنا ان کی کمزوری ہے اور ان لوگوں نے جتنا ہم کو بند کیا اتنا ان کے خلاف طوفان اٹھ گیا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 11, 2020 05:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading