ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

محبوبہ مفتی نے کہا- ہمیں جموں وکشمیر میں قبرستان والا امن نہیں چاہئے

پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو قبرستان والا امن نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام ایجنسیاں لوگوں کے پیچھے لگا دی گئی ہیں اور جو کوئی بات کرتا ہے اس کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ڈرایا و دھمکایا جاتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 01, 2021 11:27 PM IST
  • Share this:
محبوبہ مفتی نے کہا- ہمیں جموں وکشمیر میں قبرستان والا امن نہیں چاہئے
محبوبہ مفتی نے کہا- ہمیں جموں وکشمیر میں قبرستان والا امن نہیں چاہئے

راجوری: پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو قبرستان والا امن نہیں چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام ایجنسیاں لوگوں کے پیچھے لگا دی گئی ہیں اور جو کوئی بات کرتا ہے، اس کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے یہ باتیں پیر کے روز یہاں پارٹی کے ایک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا: 'جموں و کشمیر میں بڑے عجیب قسم کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ جب سے ہم نے یہاں دفعہ 370 ہٹایا یہاں امن قائم ہوا ہے۔ امن قبرستان میں بھی ہوتا ہے۔ ہمیں وہ والا امن نہیں چاہئے'۔ انہوں نے کہا: 'آپ (مودی حکومت) کے ملک میں جتنی بھی ایجنسیاں ہیں ان کو آپ نے لوگوں کے پیچھے لگا دیا ہے۔ کوئی بات کرتا ہے تو اس کو پکڑا جاتا ہے۔ اس کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ یہ تو نہیں چلے گا'۔



محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقی کے لئے امن ضروری ہے اور امن کے قیام کے لئے بات چیت کا ہونا ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'اٹل بہاری واجپائی کے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے بھی بات چیت ہوئی تھی۔ سرحدوں پر جنگ بندی ہوئی تھی۔ حریت والوں سے بات چیت ہوئی تھی، لیکن آج جب ہم دیکھتے ہیں تو ماحول بہت زیادہ بگڑا ہوا ہے'۔
محبوبہ مفتی نے موجودہ مرکزی حکومت پر ملک میں تباہی مچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا: 'آپ نے تو تباہی مچا دی ہے۔ آئین کی دھجیاں اڑا دی ہیں'۔
ان کا مزید کہنا تھا: 'پارلیمنٹ میں ایسے قوانین منظور کئے جاتے ہیں جو ہمارے آئین کے خلاف ہیں۔ جو کوئی بھی باہر سے آئے گا اس کو جگہ دیں گے لیکن اگر مسلمان ہے تو جگہ نہیں ہے۔ یہ تو ہمارے سیکولر آئین کے خلاف ہے'۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 01, 2021 11:27 PM IST