உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mehboob Mufti: مجھے ایک بار پھر گھر پر نظر بند رکھا گیا: محبوبہ مفتی کا دعویٰ

    پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کرکے دی جانکاری۔

    پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کرکے دی جانکاری۔

    انہوں نے ٹویٹ میں مزید کہا: ’مجھے آج ایک بار پھر خانہ نظر بند رکھا گیا کیونکہ انتظامیہ کے بقول کشمیر میں حالات نارمل نہیں ہیں۔ اس سے ان کے نارملسی کے جعلی دعوے بے نقاب ہوگئے‘۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ حکومت ہند ایک طرف افغان عوام کے حقوق کے بارے میں فکر مندی کا اظہار کرتی ہے جبکہ دوسری طرف کشمیریوں کو حقوق سے جان بوجھ کر محروم رکھا جا رہا ہے۔ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ مجھے آج ایک بار پھر خانہ نظر بند رکھا گیا ہے۔موصوفہ نے یہ باتیں منگل کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہیں۔

      ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا۔۔ ’حکومت ہند ایک طرف افغان عوام کے حقوق کے بارے میں فکر مندی کا اظہار کرتی ہے جبکہ دوسری طرف کشمیریوں کو جان بوجھ کر ان حقوق سے محروم رکھ رہی ہے‘۔انہوں نے ٹویٹ میں مزید کہا: ’مجھے آج ایک بار پھر خانہ نظر بند رکھا گیا کیونکہ انتظامیہ کے بقول کشمیر میں حالات نارمل نہیں ہیں۔ اس سے ان کے نارملسی کے جعلی دعوے بے نقاب ہوگئے‘۔


      اس سے پہلے پیر کو محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے خاندان کی آخری رسومات سے انکار کرنا انسانیت کے خلاف ہے اور اس نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔ گیلانی کی لاش کو ان کے گھر کے قریب ایک مسجد کے احاطے میں واقع قبرستان میں دفن کیا گیا۔اس حوالے سے محبوبہ نے پارٹی میٹنگ کے بعد کہا تھا کہ 'ہمارے گیلانی سے اختلافات تھے۔ لڑائی ایک زندہ شخص کے ساتھ ہے ، لیکن اگر وہ شخص مر جائے تو اختلافات ختم ہونے چاہئیں۔ مرحوم ایک باوقار جنازہ کے مستحق ہیں۔

      سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گیلانی کے اہل خانہ کی آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کی خبروں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو دکھ پہنچایا ہے۔ محبوبہ نے کہا تھا ، 'خاندان کو حق ہے کہ وہ میت کی آخری رسومات ادا کرے۔ جو کچھ ہم نے میڈیا رپورٹس کے ذریعے میت کی بے عزتی کے بارے میں سنا اور سیکھا وہ انسانیت کے خلاف ہے۔ موت کے بعد آپ کو اپنے مخالف کا احترام کرنا ہوگا جیسا کہ آپ کسی اور کا احترام کرتے ہیں۔


      جموں و کشمیر پولیس نے پیر کو کہا کہ اس کے افسران کو علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے گھر پر تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا جب وہ ان کی موت کے بعد ان کی تدفین کے لیے گئے۔ پولیس نے کہا ، "شاید پاکستان اور سماج دشمن عناصر کے دباؤ کے باعث ، گیلانی کا خاندان ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو گیا۔"

      جموں و کشمیر پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے چار ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں مبینہ طور پر سرحد پار سے پھیلائی جانے والی افواہوں کی تردید کی گئی ہے۔ جموں و کشمیر پولیس نے گیلانی کی لاش کو پاکستانی جھنڈے میں لپیٹنے اور مبینہ طور پر ان کے گھر پر ملک مخالف نعرے لگانے کے لیے سخت غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام (یو اے پی اے) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

      یو این آئی ان پٹ کے ساتھ
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: