ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی نے منوج سنہا کو لکھا خط، لاوے پورہ تصادم میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے لاوے پورہ انکوائنٹر کے بارے میں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے نام ایک مکتوب میں اس تصادم میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 01, 2021 05:54 PM IST
  • Share this:
جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی نے منوج سنہا کو لکھا خط، لاوے پورہ تصادم میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ
محبوبہ مفتی نے منوج سنہا کو لکھا خط، لاوے پورہ تصادم میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے لاوے پورہ انکوائنٹر کے بارے میں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے نام ایک مکتوب میں اس تصادم میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مہلوکین کی لاشوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ماں کو اپنے مہلوک بیٹے کے آخری دیدار سے محروم رکھنا غیر انسانی اور نا قابل قبول فعل ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے نام سال نو کی آمد پر اپنے مکتوب میں محبوبہ مفتی کہتی ہیں: ’امید ہے کہ آپ پارمپورہ میں 30 دسمبر کو پیش آئے بدقسمت واقعے سے واقف ہوں گے جس میں تین لڑکوں کو مارا گیا جن کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک فرضی جھڑپ تھی‘۔ ایسے واقعات کو انسانی حقوق کی پامالی سے تعبیر کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے: ’جموں و کشمیر کو لاحق اکثر سیاسی امور پر میرے اور آپ کے درمیان اختلاف ہوسکتا ہے لیکن مجھے یقین محکم ہے کہ ہم دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے واقعات نہ صرف مسلح افواج کے لئے باعث بدنامی ہوتے ہیں بلکہ انسانی حقوق کی پامالی بھی ہیں‘۔


لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے نام سال نو کی آمد پر اپنے مکتوب میں محبوبہ مفتی کہتی ہیں: ’امید ہے کہ آپ پارمپورہ میں 30 دسمبر کو پیش آئے بدقسمت واقعے سے واقف ہوں گے جس میں تین لڑکوں کو مارا گیا جن کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک فرضی جھڑپ تھی‘۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے نام سال نو کی آمد پر اپنے مکتوب میں محبوبہ مفتی کہتی ہیں: ’امید ہے کہ آپ پارمپورہ میں 30 دسمبر کو پیش آئے بدقسمت واقعے سے واقف ہوں گے جس میں تین لڑکوں کو مارا گیا جن کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک فرضی جھڑپ تھی‘۔


مہلوکین کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ مکتوب میں رقم طراز ہیں: ’مجھے معلوم ہے کہ انتظامیہ کو لاشیں لواحقین کے حوالے کرنے کے بارے میں خدشات و تحفظات ہیں لیکن اس بے رحم فیصلے سے لواحقین کا درد مزید تیز ہوگا، امید ہے کہ آپ اس فیصلے پر نظر ثانی کرکے لاشوں کو لواحیقن کے سپرد کرنے کی اجازت دیں گے‘۔
ان کا کہنا ہے: ’ایک ماں جو اپنے بیٹے کی اچانک موت پر ماتم کناں ہو، کو اس کے آخری دیدار سے محروم نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کو اپنے بیٹے کی لاش حاصل کرنے کے لئے بھی بھیک نہیں مانگنی چاہئے، یہ غیر انسانی اور نا قابل قبول فعل ہے‘۔ محبوبہ مفتی اپنے مکتوب میں لفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ لواحقین، مہلوکین کی تجہیز و تکیفن کرسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تصادم کے بارے میں بھی سوالات جنم لے رہے ہیں جن کے پیش نظر اس میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جانی چاہئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 01, 2021 05:16 PM IST