ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیری پنڈت مہاجرین کے مطالبات منوانے کے حق میں جگتی مائیگرنٹ ٹاون شپ میں جاری احتجاج  کے 300 دن مکمل

احتجاجی کشمیری مہاجرین کے دیرینہ مطالبات پورا نہ کئے جانے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاجی دھرنا کی قیادت کرنے والے جگتی ٹینمینٹ کمیٹی کے صدر شادی لعل پنڈتا کا کہنا ہے کہ موجودہ سرکار نے مہاجر کشمیری پنڈتوں کے مسائیل کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

  • Share this:
کشمیری پنڈت مہاجرین کے مطالبات منوانے کے حق میں جگتی مائیگرنٹ ٹاون شپ میں جاری احتجاج  کے 300 دن مکمل
کشمیری پنڈت مہاجرین کے مطالبات منوانے کے حق میں جگتی مائیگرنٹ ٹاون شپ میں جاری احتجاج  کے 300 دن مکمل

جموں و کشمیر: کشمیری پنڈت مہاجرین کے مطالبات منوانے کے حق میں جگتی مائیگرنٹ ٹاون شپ میں جاری احتجاج  کے 300 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ احتجاجی کشمیری مہاجرین کے دیرینہ مطالبات پورا نہ کئے جانے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاجی دھرنا کی قیادت کرنے والے جگتی ٹینمینٹ کمیٹی کے صدر شادی لعل پنڈتا کا کہنا ہے کہ موجودہ سرکار نے مہاجر کشمیری پنڈتوں کے مسائیل کو پس پشت ڈال دیا ہے۔


نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے شادی لعل پنڈتا نے کہا کہ ماہانہ ریلیف پانے والے خاندان غریبی کی صورتحال سے دو چار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین سال قبل ماہانہ ریلیف کو فی کنبہ زیادہ سے زیادہ تیرہ ہزار روپئے تک بڑھایا گیا تھا لیکن گزشتہ برسوں میں مہنگائی بڑھ جانے کے باوجود اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ماہانہ ریلیف میں فلفور اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


انہوں نے کہا کہ سرکار کو تعلیم یافتہ کشمیری پنڈت مہاجرین کے لئے کم از کم 20 ہزار نوکریاں فراہم کرنے چاہئے۔ احتجاج میں شامل کشمیری مہاجر  راج کمار تکو نے کہا کہ سرکار کو چاہئیے کہ وہ ایسے دسویں پاس  بے روزگارنوجوانوں کو درجہ چہارم کی  پانچ ہزار نوکریاں فراہم کرے جو غریبی کی وجہ سے اپنی تعلیم کو آگے بڑھانے سے قاصر رہے۔ انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ کشمیری پنڈت مائیگرنٹ نوجوانوں کی پولیس میں بھرتی کے لئے خصوصی بھرتی مہم منعقد کرے تاکہ جگتی اور دیگر مائیگرنٹ کالونیوں میں عارضی طور پر رہائیش پزیر تعلیم یافتہ بے روزگارنوجوانوں کو روزگارکے مواقع فراہم ہوسکیں۔ ایک اور احتجاجی رویندر کول نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کو  کشمیری مہاجرین کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کے لئے کوششیں کرنی چاہئے۔


انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برس میں پٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں, لہذا سرکار کو چاہئے کہ وہ ماہانہ امدادی رقم 13 ہزار سے بڑھاکر 25 ہزار فی کنبہ کرنے کے احکامات جاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ  سرکار کی طرف سے وقتا فوقتا یہ اعلانات کئے جاتے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ شادی لعل پنڈتا نے کہا کہ کشمیری پنڈت دوبارہ اپنے آبائی وطن میں رہنے کے خواہشمند ہیں تاہم سرکار پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ وادی کشمیرمیں ایسے حالات پیدا کریں تاکہ پنڈت بنا کسی خوف و خطرکے وادی میں رہ سکیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکار کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کے لئے بنیادی سطح پر اقدامات اٹھنے کے بجائے محض اعلانات پر ہی تکیہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی دوبارہ وطن واپسی کے لئے ایک جامع منصوبہ اور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرنا لازمی ہے۔ احتجاجییوں کا کہنا ہے کہ سرکار جگتی سمیت دیگر مائیگرنٹ کالونیوں میں بنیادی ڈھانچے کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کالونیوں میں صفائی سُتھرائی کا معقول انتظام نہیں ہے اور پینے کے پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ کئی اور بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ اس پورے معاملے پر جب ہم نے ریلیف محکمے کے اعلی افسران سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ایل جی انتظامیہ کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کو یقینی بنانے میں سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں عنقریب ہی ایک جامع پالسی کا اعلان کیا جائے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 26, 2021 05:25 PM IST