உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بیرون ممالک سے کشمیر پہنچ رہے ہیں مہاجر پرندے، اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرندوں نے بنایا اپنا مسکن

    محکمہ وائلڈ لائف کی وارڈن افشاں نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ پہلے سے ہی ان پرندوں کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بال کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

    محکمہ وائلڈ لائف کی وارڈن افشاں نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ پہلے سے ہی ان پرندوں کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بال کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

    محکمہ وائلڈ لائف کی وارڈن افشاں نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ پہلے سے ہی ان پرندوں کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بال کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

    • Share this:
    ماضی کی طرح موسم سرد ہونے کے ساتھ ہی کشمیر کی جھیلوں اور آبی پناہ گاہوں میں ڈیرہ ڈالنے کیلئے مہاجر آبی پرندے بیرون ممالک سے کشمیر پہنچ رہے ہیں۔ سرینگر کے مضافات میں واقع ہوکرسر آبی پناہ گاہ میں اس سال بھی کافی تعداد میں مہمان پرندوں کی آمد ہوئی۔ محکمہ وائلڈ لائف کی وارڈن افشاں کے مطابق ہوکر سر میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرندوں نے اپنا مسکن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پرندوں کے یہ اقسام سائبیریا، چین، مشرقی یورپ،اور فلپائن سے لمبی مسافت طے کرکے وارد کشمیر ہوتے ہیں۔ ان سے نہ صرف ان آبی پناہ گاہوں کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کی وارڈن افشاں نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ پہلے سے ہی ان پرندوں کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بال کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

    وائلڈ لائف کی وارڈن افشاں کاکہنا ہے کہ اس بار بیس کے قریب نئے پرندوں کی ہوکر سر میں آمد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرندوں کی گنتی کا سالانہ رپورٹ فروری کے مہینے میں ہوگا۔ افشاں کاکہنا ہے کہ ہوکر سر میں پرندوں کے لئے پانی اچھی مقدار میں موجود ہے۔ جس میں یہ پرندے اچھی طرح گزر بسر کرسکے۔ افشاں نےمزید بتایا کہ پرندوں کی حفاظت کے لیے کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ جوں ہی شکاری یا کوئی اور اطلاع موصول ہوتی ہے تو اسی وقت کاروائی کی جاتی ہے۔ افشاں کاکہنا ہے کہ آبی پرندے کا تحفظ متعلقہ اداروں اور مقامی لوگوں کا فرض ہے۔ ماہرین کے مطابق گذشتہ سال فروری تک قریب ساڑھے گیارہ لاکھ مہاجر پرندوں نے جموں وکشمیر کا رخ کیا تھا۔ محکمہ کے عہدیدارن کے مطابق اس سال دس لاکھ سے زیادہ مہاجر پرندوں کے یہاں آنے کی توقع ہے۔

    کشمیر آنے والے مہاجر آبی پرندوں کی آمد کا سلسلہ اکتوبر کے آخری دنوں میں شروع ہوجاتا ہے اور مارچ میں یہ پرندے پھر اپنے اپنے ممالک میں واپس چلے جاتے ہیں۔ کشمیر میں ان پرندوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں چاہے کہ ابی پناہ گاہوں کو آلودگی سے صاف وپاک رکھنے میں اہم رول ادا کرنا چاہیے۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: