உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں ملیٹنٹنوں کی جانب سے سیاسی کارکنان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری، ڈی جی پی نے ملیٹنٹنوں کے خلاف کاروائیاں تیز کرنے کے دئیے احکامات

    کشمیر میں ملیٹنٹنوں کی جانب سے سیاسی کارکنان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری، ڈی جی پی نے ملیٹنٹنوں کے خلاف کاروائیاں تیز کرنے کے دئیے احکامات

    کشمیر میں ملیٹنٹنوں کی جانب سے سیاسی کارکنان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری، ڈی جی پی نے ملیٹنٹنوں کے خلاف کاروائیاں تیز کرنے کے دئیے احکامات

    وادی کشمیر میں گزشتہ چند ماہ سے سیاسی کارکنان پر ملیٹنٹنوں کے حملے لگاتار جاری ہیں۔ اس طرح کا ایک اور واقعہ 19 اگست کی شام کو پیش آیا، جب ملی ٹنٹنوں نے کولگام ضلع میں جموں وکشمیر اپنی پارٹی سے وابستہ ایک لیڈر کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ دیوسر کولگام پیش آئے، اس سانحہ میں غلام حسن لون نامی ایک سیاسی کارکن پر ملیٹنٹنوں نے اس کے گھر کے قریب نزدیک سے گولیاں چلائیں، جس سے وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: وادی کشمیر میں گزشتہ چند ماہ سے سیاسی کارکنان پر ملیٹنٹنوں کے حملے لگاتار جاری ہیں۔ اس طرح کا ایک اور واقعہ 19 اگست کی شام کو پیش آیا، جب ملی ٹنٹنوں نے کولگام ضلع میں جموں وکشمیر اپنی پارٹی سے وابستہ ایک لیڈر کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ دیوسر کولگام پیش آئے، اس سانحہ میں غلام حسن لون نامی ایک سیاسی کارکن پر ملیٹنٹنوں نے اس کے گھر کے قریب نزدیک سے گولیاں چلائیں، جس سے وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا۔ اگر چہ اسے زخمی حالت میں اسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ بیٹھا۔ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی۔ سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر منوج سنہا نے لکھا کہ اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

    دوسری جانب تمام سیاسی جماعتوں نے اس قتل کی مذمت کی۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیراعلی عمر عبداللہ نے ٹوئٹ کرکے اس قتل کی مذمت کی۔ انہوں نے لکھا کہ جنوبی کشمیر کے دیوسر علاقے سے غلام حسن لون نامی سیاسی کارکن کی ہلاکت کی خبر سن کر افسوس ہوا۔ انہوں نے لکھا کہ ملی ٹنٹنوں کی جانب سے مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور کارکنوں کو نشانہ بنائے جانے کا نیا سلسلہ کافی پریشان کن ہیں اور میں اس کی مزمت کرتا ہوں۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے سماجی روابط سائٹ ٹوئٹرپر لکھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کشمیر میں سیاسی کارکنان کو بھی قتل کرنے کا سلسلہ تھنمنے والا نہیں ہے۔ انہوں ملیٹنٹنوں کی جانب سے غلام حسن لون کو قتل کئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

    جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کیا ٹوئٹ۔
    جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کیا ٹوئٹ۔


    جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے اپنی پارٹی کے کارکن کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ مین اسٹریم جماعتوں کے لیڈروں پر بڑھتے ہوئے حملے پریشانی کا باعث ہے۔ سجاد غنی لون نے کہا کہ تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہونے والا ہے بلکہ اس سے صرف لوگوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں بیواؤں اور یتیموں کی تعداد میں اضافہ کرتی ہیں، لہٰذا یہ کارروائیاں بالکل بند ہونی چاہئے۔ جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے سینئرنائب صدر غلام حسن میر آج مقتول غلام حسن لون کے آبائی گھرگئے اور غمزدہ خاندان سے تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نہت عام لوگوں پر گولیاں چلانا اور انہیں قتل کرنا نہایت غلط ہے اور اس کی جتنی بھی مزمت کی جائے وہ کم ہے۔

    سابق وزیراعلی عمر عبداللہ نے ٹوئٹ کرکے اس قتل کی مذمت کی۔
    سابق وزیراعلی عمر عبداللہ نے ٹوئٹ کرکے اس قتل کی مذمت کی۔


    انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی لیڈران جموں وکشمیر کی عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور یہاں ترقی یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں تاہم شاید کچھ ایسی طاقتیں یہاں موجود ہیں، جو کشمیر میں ترقی نہیں چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل جی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ سیاسی لیڈروں کی جان کو در پیش خطرات کا وقتاً فوقتاً جائز لیں تاکہ ان کی حفاظت یقینی بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ملی ٹنٹنوں کا نام لئے بغیر غلام حسن میر نے کہا کہ وہ سیاسی لیڈروں کی سوچ کو بندوق سے دبا نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کتنا بھی دبانا چاہیں، سیاسی لیڈران ابھرکر آئیں گے، کوئی دبنے والا نہیں ہے۔ جموں وکشمیر کانگریس نے بی جے پی کی سربراہی والی این ڈی اے سرکار پر الزام عائد کیا کہ وہ جموں وکشمیر میں ملیٹنٹنوں کی کاروائیوں پر روک لگانے میں ناکام ہوچکی ہے۔

    محبوبہ مفتی نے سماجی روابط سائٹ ٹوئٹرپر لکھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کشمیر میں سیاسی کارکنان کو بھی قتل کرنے کا سلسلہ تھنمنے والا نہیں ہے۔
    محبوبہ مفتی نے سماجی روابط سائٹ ٹوئٹرپر لکھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کشمیر میں سیاسی کارکنان کو بھی قتل کرنے کا سلسلہ تھنمنے والا نہیں ہے۔


    پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر رمن بھلا نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں جموں وکشمیر کے حالات مزید بگڑھ چکے ہیں اور سیاسی لیڈروں پر لگاتار ملیٹنٹ حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتیں ملک کی سالمیت اور وحدت کو برقرار رکھنے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ تاہم سیاسی جماعتیوں کے لیڈران کی حفاظت یقینی بنانے کی ذمہ داری مرکزی سرکار اور ایل جی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرکے انتخابات منعقد کیا جائے تاکہ یہاں عوامی سرکار وجود میں آسکے۔ کیونکہ بقول ان کے جموں وکشمیر جیسے حساس علاقے میں سیاسی لیڈران ہی حالات پر قابو پاسکتے ہیں۔

    اسی دوران ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے آج جنوبی کشمیر کے کولگام کادورہ کیا اور کولگام میں فوج، پولیس، سی آر پی ایف کے افسران کی خصوصی میٹنگ میں ضلع کی حفاظتی صورتحال کا جائزہ لیا۔ افسران سے خطاب کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے ملیٹنٹنوں کے خلاف کاروائیاں تیزکرنے پر زور دیا۔ انہوں نے انٹلیجنس ایجنسیوں سے تاکید کی کہ وہ علاقے میں اپنی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ عام لوگوں کی حفاظت ممکن بن سکے۔ انہوں نے مشتبہ افراد پر سخت نگاہ رکھنے کی ہدایت جاری کی، جو ملیٹنٹنوں کی اعانت کرتے ہیں تاکہ ملیٹنٹنوں کے غلط عزائم کو ناکام بنایا جاسکے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: